تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿یَوْمَنَقُوْلُلِجَهَنَّمَهَلِامْتَلَاْتِ﴾”اس دن ہم جہنم سے پوچھیں گے، کیا تو بھر گئی ہے۔“ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد، جہنم میں ڈالے گئے لوگوں کی کثرت کی وجہ سے ہو گا ﴿وَتَقُوْلُهَلْمِنْمَّزِیْدٍ﴾”وہ کہے گی کچھ اور بھی ہے۔“ یعنی جہنم اپنے رب کی خاطر ناراضی اور کفار پر غیظ و غضب کی وجہ سے اپنے اندر مجرموں کے اضافے کا مطالبہ کرتی رہے گی۔ اللہ تعالیٰ نے جہنم کو بھرنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ جیسا کہ فرمایا: ﴿لَاَمْلَ٘ــَٔنَّجَهَنَّمَمِنَالْجِنَّةِوَالنَّاسِاَجْمَعِیْنَ﴾ (السجدہ:32؍13) ”میں جہنم کو جنات اور انسانوں سے ضرور بھروں گا۔ حتیٰ کہ اللہ رب العزت اپنا قدم کریم، جو تشبیہ سے پاک ہے، جہنم میں رکھ دے گا۔ جہنم کی لپٹیں ایک دوسرے کی طرف سمٹ جائیں گی، جہنم پکار اٹھے گی، بس کافی ہے، میں بھر چکی ہوں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى مخوِّفاً لعباده: {يومَ نقولُ لجهنَّم هلِ امتلأتِ}: وذلك من كثرةِ ما ألقيَ فيها، {وتقولُ هلْ مِن مَزيدٍ}؛ أي: لا تزال تطلبُ الزيادة من المجرمين العاصين؛ غضباً لربِّها، وغيظاً على الكافرين، وقد وعدها الله ملأها؛ كما قال تعالى: {لأملأنَّ جهنَّم من الجِنَّة والنَّاس أجمعينَ}: حتى يضعَ ربُّ العزَّة عليها قدمه الكريمة المنزَّهة عن التشبيه، فينزوي بعضُها على بعضٍ، وتقول: قط، قط ؛ قد اكتفيت وامتلأت.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔