تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ ق (50) — آیت 29

مَا یُبَدَّلُ الۡقَوۡلُ لَدَیَّ وَ مَاۤ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِیۡدِ ﴿٪۲۹﴾
میرے ہاں بات بدلی نہیں جاتی اور میں بندوں پر ہرگز کوئی ظلم ڈھانے والا نہیں۔ En
ہمارے ہاں بات بدلا نہیں کرتی اور ہم بندوں پر ظلم نہیں کیا کرتے
En
میرے ہاں بات بدلتی نہیں اور نہ میں اپنے بندوں پر ذرا بھی ﻇلم کرنے واﻻ ہوں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ میرے ہاں بات بدلا نہیں کرتی۔ یعنی یہ ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ فرمایا اور جو خبر دی ہے، اس کی خلاف ورزی کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی ہستی اپنے قول اور اپنی بات میں سچی نہیں ﴿ وَمَاۤ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ اور میں بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔ بلکہ وہ اچھا اور برا جو عمل کرتے ہیں اسی کی جزا و سزا دیتا ہوں، ان کی برائیوں میں اضافہ کیا جاتا ہے نہ ان کی نیکیوں میں کمی کی جاتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ما يُبَدَّلُ القولُ لديَّ}؛ أي: لا يمكن أن يخلف ما قاله الله وأخبر به؛ لأنَّه لا أصدق من الله قيلاً، ولا أصدق حديثاً. {وما أنا بظلاَّمٍ للعبيد}: بل أجزيهم بما عملوا من خيرٍ وشرٍّ؛ فلا يزاد في سيئاتهم، ولا ينقص من حسناتهم.