تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ مَایُبَدَّلُالْقَوْلُلَدَیَّ ﴾”میرے ہاں بات بدلا نہیں کرتی۔“ یعنی یہ ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ فرمایا اور جو خبر دی ہے، اس کی خلاف ورزی کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی ہستی اپنے قول اور اپنی بات میں سچی نہیں ﴿ وَمَاۤاَنَابِظَلَّامٍلِّلْعَبِیْدِ﴾”اور میں بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔“ بلکہ وہ اچھا اور برا جو عمل کرتے ہیں اسی کی جزا و سزا دیتا ہوں، ان کی برائیوں میں اضافہ کیا جاتا ہے نہ ان کی نیکیوں میں کمی کی جاتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ما يُبَدَّلُ القولُ لديَّ}؛ أي: لا يمكن أن يخلف ما قاله الله وأخبر به؛ لأنَّه لا أصدق من الله قيلاً، ولا أصدق حديثاً. {وما أنا بظلاَّمٍ للعبيد}: بل أجزيهم بما عملوا من خيرٍ وشرٍّ؛ فلا يزاد في سيئاتهم، ولا ينقص من حسناتهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔