تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ ق (50) — آیت 22

لَقَدۡ کُنۡتَ فِیۡ غَفۡلَۃٍ مِّنۡ ہٰذَا فَکَشَفۡنَا عَنۡکَ غِطَآءَکَ فَبَصَرُکَ الۡیَوۡمَ حَدِیۡدٌ ﴿۲۲﴾
بلاشبہ یقینا تو اس سے بڑی غفلت میں تھا، سو ہم نے تجھ سے تیرا پردہ دور کر دیا، تو تیری نگاہ آج بہت تیز ہے۔ En
(یہ وہ دن ہے کہ) اس سے تو غافل ہو رہا تھا۔ اب ہم نے تجھ پر سے پردہ اُٹھا دیا۔ تو آج تیری نگاہ تیز ہے
En
یقیناً تو اس سے غفلت میں تھا لیکن ہم نے تیرے سامنے سے پرده ہٹا دیا پس آج تیری نگاه بہت تیز ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ وہ چیز ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ بندہ اس کا اہتمام کرے۔مگر اکثر لوگ غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں، اس لیے فرمایا: ﴿ لَقَدْ كُنْتَ فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰؔذَا اس سے تو غافل ہورہا تھا۔ یہ بات قیامت کے روز روگردانی کرنے والے اور انبیاء و رسل کو جھٹلانے والے کو زجر و توبیخ، ملامت اور عتاب کے طور پر کہی جائے گی۔ یعنی تو اس دن کو جھٹلایا کرتا تھا اور اس دن کے لیے عمل نہ کرتا تھا، پس اب ﴿ فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَآءَكَ ہم نے تجھ سے پردہ ہٹا دیا جس نے تیرے دل کو ڈھانپ رکھا تھا جس کی بنا پر تو کثرت سے سوتا تھا اور اپنی روگردانی پر جما ہوا تھا۔ ﴿ فَبَصَرُكَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ پس آج تیری نگاہ تیز ہے۔ وہ مختلف قسم کے عذاب اور سزاؤ ں کو دیکھتا ہے جو اسے ڈرا رہی ہوں گی اور گھبراہٹ میں مبتلا کر رہی ہوں گی۔ یا یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندے سے خطاب ہے، کیونکہ دنیا میں وہ ان فرائض سے غافل تھا جن کے لیے اس کو تخلیق کیا گیا تھا مگر قیامت کے روز وہ بیدار ہو گا، اس کی غفلت دور ہو جائے گی اور یہ سب ایسے وقت میں ہو گا جب کوتاہی کا تدارک اور ناکامی کی تلافی ممکن نہ ہو گی۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس عظیم دن کو اہل تکذیب کے ساتھ سلوک کے ذکر کے ذریعے سے، بندوں کے لیے تخویف اور ترہیب ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فهذا الأمر مما يجب أن يجعله العبدُ منه على بالٍ، ولكن أكثر الناس غافلون، ولهذا قال: {لقد كُنتَ في غفلةٍ من هذا}؛ أي: يقال للمعرض المكذِّب يوم القيامة هذا الكلام توبيخاً ولوماً وتعنيفاً؛ أي: لقد كنتَ مكذِّباً بهذا تاركاً للعمل له. {فـ}: الآن {كَشَفْنا عنك غِطاءَك}: الذي غطَّى قلبَك فكثر نومُك واستمرَّ إعراضُك، {فبصرُك اليومَ حديدٌ}: ينظر ما يزعجه ويروِّعه من أنواع العذاب والنَّكال، أو هذا خطابٌ من الله للعبد؛ فإنَّه في الدُّنيا في غفلةٍ عما خُلِقَ له، ولكنه يوم القيامة ينتبه ويزول عنه وَسَنُه في وقت لا يمكِنُه أن يتداركَ الفارطَ ولا يستدركَ الفائتَ. وهذا كلُّه تخويفٌ من الله للعباد، وترهيبٌ بذكر ما يكون على المكذِّبين في ذلك اليوم العظيم.