تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ ق (50) — آیت 21

وَ جَآءَتۡ کُلُّ نَفۡسٍ مَّعَہَا سَآئِقٌ وَّ شَہِیۡدٌ ﴿۲۱﴾
اور ہر شخص آئے گا، اس کے ساتھ ایک ہانکنے والا اور ایک گواہی دینے والا ہے۔ En
اور ہر شخص (ہمارے سامنے) آئے گا۔ ایک (فرشتہ) اس کے ساتھ چلانے والا ہوگا اور ایک (اس کے عملوں کی) گواہی دینے والا
En
اور ہر شخص اس طرح آئے گا کہ اس کے ساتھ ایک ﻻنے واﻻ ہوگا اور ایک گواہی دینے واﻻ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَجَآءَتْ كُ٘لُّ نَ٘فْ٘سٍ مَّعَهَا سَآىِٕقٌ اور ہر شخص آئے گا، ایک اس کے ساتھ چلانے والا ہوگا۔ جو اسے قیامت کے میدان کی طرف ہانک کر لے جائے گا یہ اس سے بچ کر پیچھے نہیں رہ سکے گا ﴿وَّشَهِیْدٌ اور ایک گواہ ہوگا۔ جو اس کے اچھے برے اعمال کی گواہی دے گا۔ یہ چیز اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کی طرف اعتنا اور اس کی طرف سے ان کے اعمال کی حفاظت اور نہایت عدل و انصاف سے اس کو جزا و سزا دینے پر دلالت کرتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وجاءتْ كلُّ نفسٍ معها سائقٌ}: يسوقُها إلى موقف القيامة؛ فلا يمكنُها أن تتأخَّر عنه، {وشهيدٌ}: يشهدُ عليها بأعمالها؛ خيرِها وشرِّها. وهذا يدلُّ على اعتناء الله بالعباد، وحفظه لأعمالهم، ومجازاته لهم بالعدل.