تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿وَقَالَقَ٘رِیْنُهٗ﴾ اس جھٹلانے اور روگردانی کرنے والے کا فرشتوں میں سے وہ ساتھی جس کو اللہ تعالیٰ نے اس کی اور اس کے اعمال کی حفاظت کے لیے مقرر کیا ہے، قیامت کے روز اس کے سامنے موجود ہو گا اور اس کے اعمال کو اس کے سامنے پیش کرے گا اور کہے گا: ﴿هٰؔذَامَالَدَیَّعَتِیْدٌ﴾”یہ (اعمال نامہ) میرے پاس حاضر ہے۔“ یعنی میں نے وہ سب کچھ پیش کر دیا ہے جس کی حفاظت اور اس کے عمل کو محفوظ رکھنے پر مجھے مقرر کیا گیا تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى: {وقال قرينُهُ}؛ أي: قرين هذا المكذِّب المعرض من الملائكة، الذين وَكَلَهم الله على حفظه وحفظ أعماله، فيحضره يوم القيامة، ويحضر أعماله، ويقول: {هذا ما لديَّ عتيدٌ}؛ أي: قد أحضرتُ ما جعلتُ عليه من حفظه وحفظ عمله.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔