تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ ق (50) — آیت 19

وَ جَآءَتۡ سَکۡرَۃُ الۡمَوۡتِ بِالۡحَقِّ ؕ ذٰلِکَ مَا کُنۡتَ مِنۡہُ تَحِیۡدُ ﴿۱۹﴾
اور موت کی بے ہوشی حق کے ساتھ آئے گی۔ یہ ہے وہ جس سے تو بھاگتا تھا۔ En
اور موت کی بےہوشی حقیقت کھولنے کو طاری ہوگئی۔ (اے انسان) یہی (وہ حالت) ہے جس سے تو بھاگتا تھا
En
اور موت کی بے ہوشی حق لے کر آ پہنچی، یہی ہے جس سے تو بدکتا پھرتا تھا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَجَآءَتْ اور آئی یعنی اس غافل اور آیات الٰہی کی تکذیب کرنے والے کے پاس ﴿ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ موت کی بے ہوشی، حق کے ساتھ۔ جس سے لوٹنا اور بچنا ممکن نہیں۔ ﴿ ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِیْدُ یہ وہی چیز ہے جس سے پیچھے ہٹتے اور اس سے دور بھاگتے تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: وجاءت هذا الغافل المكذِّب بآيات الله، {سَكْرَةُ الموتِ بالحقِّ}: الذي لا مردَّ له ولا مناص. {ذلك ما كنتَ منه تَحيدُ}؛ أي: تتأخَّر وتنكصُ عنه.