تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ ق (50) — آیت 15

اَفَعَیِیۡنَا بِالۡخَلۡقِ الۡاَوَّلِ ؕ بَلۡ ہُمۡ فِیۡ لَبۡسٍ مِّنۡ خَلۡقٍ جَدِیۡدٍ ﴿٪۱۵﴾
تو کیا ہم پہلی دفعہ پیدا کرنے کے ساتھ تھک کر رہ گئے ہیں؟ بلکہ وہ ایک نئے پیدا کیے جانے کے متعلق شک میں مبتلا ہیں۔ En
کیا ہم پہلی بار پیدا کرکے تھک گئے ہیں؟ (نہیں) بلکہ یہ ازسرنو پیدا کرنے میں شک میں (پڑے ہوئے) ہیں
En
کیا ہم پہلی بار کے پیدا کرنے سے تھک گئے؟ بلکہ یہ لوگ نئی پیدائش کی طرف سے شک میں ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے تخلیق اول یعنی ابتدائی پیدائش کے ذریعے سے آخرت کی تخلیق پر استدلال کیا۔ پس جس طرح اللہ تعالیٰ ان کو عدم کے بعد وجود میں لایا اسی طرح وہ ان کے مرنے اور ان کے مٹی ہو جانے کے بعد انھیں دوبارہ زندگی عطا کرے گا۔اس لیے فرمایا: ﴿ اَفَعَیِیْنَا کیا ہم بے بس ہو گئے اور ہماری قدرت کمزور پڑ گئی ﴿ بِالْخَلْ٘قِ الْاَوَّلِ پہلی بار پیدا کرکے۔ معاملہ ایسا نہیں ہے، ہم ایسا کرنے سے عاجز ہیں نہ بے بس اور انھیں اس بارے میں کوئی شک نہیں، وہ تو تخلیق جدید کے بارے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں اور ان کا معاملہ ان پر ملتبس ہو کر رہ گیا۔ حالانکہ یہ التباس کا مقام نہیں کیونکہ اعادہ، ابتدا سے زیادہ سہل ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَهُوَ الَّذِیْ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَیْهِ (الروم:30؍27) وہی ہے جو تخلیق کی ابتدا کرتا ہے، پھر وہ اس کا اعادہ کرے گا اور وہ اس کے لیے آسان تر ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم استدل تعالى بالخلق الأول ـ وهو النشأة الأولى ـ على الخلق الآخر ـ وهو النشأة الآخرة ـ؛ فكما أنه الذي أوجدهم بعد العدم؛ كذلك يعيدهم بعد موتهم وصيرورتهم إلى الرُّفات والرِّمم، فقال: {أفَعَيينا}؛ أي: أفعَجَزْنا وضعفتْ قدرتُنا {بالخلق الأوَّلِ}: ليس الأمر كذلك، فلم نعجز ونعيَ عن ذلك، وليسوا في شكٍّ من ذلك، وإنما {هم في لَبْسٍ من خَلْقٍ جديدٍ}: هذا الذي شكُّوا فيه والتبس عليهم أمره، مع أنَّه لا محلَّ للَّبس فيه؛ لأنَّ الإعادة أهونُ من الابتداء؛ كما قال تعالى: {وهو الذي يبدأ الخَلْقَ ثمَّ يعيدُهُ وهو أهونُ عليه}.