تمھارے لیے سمندر کا شکار حلال کر دیا گیا اور اس کا کھانا بھی، اس حال میں کہ تمھارے لیے سامان زندگی ہے اور قافلے کے لیے اور تم پر خشکی کا شکار حرام کر دیا گیا ہے، جب تک تم احرام والے رہو اور اللہ سے ڈرو جس کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤ گے۔
En
تمہارے لیے دریا (کی چیزوں) کا شکار اور ان کا کھانا حلال کر دیا گیا ہے (یعنی) تمہارے اور مسافروں کے فائدے کے لیے اور جنگل (کی چیزوں) کا شکار جب تک تم احرام کی حالت میں رہو تم پر حرام ہے اور خدا سے جس کے پاس تم (سب) جمع کئے جاؤ گے ڈرتے رہو
تمہارے لئے دریا کا شکار پکڑنا اور اس کا کھانا حلال کیا گیا ہے۔ تمہارے فائده کے واسطے اور مسافروں کے واسطے اور خشکی کا شکار پکڑنا تمہارے لئے حرام کیا گیا ہے جب تک تم حالت احرام میں رہو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو جس کے پاس جمع کئے جاؤ گے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
چونکہ شکار کا اطلاق بری اور بحری دونوں قسم کے شکار پر ہوتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے سمندری شکار کو مستثنیٰ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ اُحِلَّلَكُمْصَیْدُالْبَحْرِوَطَعَامُهٗ ﴾”احرام کی حالت میں تمھارے لیے سمندر کا شکار کرنا اور اس کا کھانا حلال ہے“ اور ”سمندر کے شکار“ سے مراد سمندر کے زندہ جانور ہیں اور (طعام) ”اس کے کھانے“ سے مراد سمندر میں مرنے والے سمندری جانور ہیں۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ مرے ہوئے بحری جانور بھی حلال ہیں۔ ﴿ مَتَاعًالَّـكُمْوَلِلسَّیَّارَةِ ﴾”تمھارے فائدے کے لیے اور مسافروں کے لیے“ یعنی اس کی اباحت میں تمھارے لیے فائدہ ہے تاکہ تم اور تمھارے وہ ساتھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں جو تمھارے ساتھ سفر کرتے ہیں ﴿ وَحُرِّمَعَلَیْكُمْصَیْدُالْـبَرِّمَادُمْتُمْحُرُمًا ﴾”اور جب تک تم احرام کی حالت میں ہو، تم پر خشکی (جنگل) کا شکار حرام ہے“ یہاں لفظ ”شکار“ سے یہ مسئلہ اخذ کیا جاتا ہے کہ یہ ضروری ہے کہ شکار کیا ہوا جانور جنگلی ہو۔ کیونکہ پالتو اور گھریلو جانور پر شکار کا اطلاق نہیں ہوتا۔ نیز یہ ایسا جانور ہو جس کا گوشت کھایا جاتا ہو کیونکہ جس جانور کا گوشت کھایا نہ جاتا ہو اس کو شکار نہیں کیا جاتا اور نہ اس پر ”شکار“ کا اطلاق ہی کیا جاتا ہے۔
﴿وَاتَّقُوااللّٰهَالَّذِیْۤاِلَیْهِتُحْشَرُوْنَ﴾”اور اس اللہ سے ڈرو جس کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤ گے“ یعنی اللہ تعالیٰ نے جس چیز کا حکم دیا ہے اس پر عمل کر کے اور جس چیز سے روکا ہے اس کو ترک کر کے تقویٰ اختیار کرو۔ اور اپنے اس علم سے حصول تقویٰ میں مدد لو کہ تمھیں اللہ تعالیٰ کے پاس اکٹھا کیا جائے گا اور وہ تمھیں اس بات کی جزا دے گا کہ آیا تم نے اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کیا تھا۔ تب وہ تمھیں بہت زیادہ ثواب سے نوازے گا یا اگر تقویٰ کو اختیار نہیں کیا تب اس صورت میں وہ تمھیں سخت سزا دے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولما كان الصيد يَشْمَلُ الصيد البريَّ والبحريَّ؛ استثنى تعالى الصيد البحريَّ، فقال: {أحِلَّ لكم صيدُ البحرِ وطعامُهُ}؛ أي: أحلَّ لكم في حال إحرامكم {صيدُ البحرِ}: وهو الحيُّ من حيواناته، {وطعامُهُ}: وهو الميت منها، فدلَّ ذلك على حِلِّ ميتة البحر، {متاعاً لكم وللسيَّارةِ}؛ أي: الفائدة في إباحته لكم أنه لأجل انتفاعِكم وانتفاع رفقتكم الذين يسيرون معكم، {وحُرِّم عليكم صيدُ البَرِّ ما دُمتم حُرُماً}: ويؤخذ من لفظ الصيد أنَّه لا بدَّ أن يكون وحشياً؛ لأنَّ الإنسيَّ ليس بصيدٍ، ومأكولاً؛ فإنَّ غير المأكول لا يُصاد ولا يُطلق عليه اسم الصيد. {واتَّقوا الله الذي إليه تُحْشَرونَ}؛ أي: اتَّقوه بفعل ما أمر به وتركِ ما نهى عنه، واستعينوا على تقواه بعلمِكم أنَّكم إليه تُحشرون، فيجازيكم؛ هل قُمتم بتقواه فيثيبُكُم الثواب الجزيل، أم لم تقوموا [بها] فيعاقبكم؟
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔