اے لوگو جو ایمان لائے ہو! شکار کو مت قتل کرو، اس حال میں کہ تم احرام والے ہو اور تم میں سے جو اسے جان بوجھ کر قتل کرے تو چوپاؤں میں سے اس کی مثل بدلہ ہے جو اس نے قتل کیا، جس کا فیصلہ تم میں سے دو انصاف والے کریں، بطور قربانی جو کعبہ میں پہنچنے والی ہے، یا کفارہ ہے مسکینوں کو کھانا کھلانا، یا اس کے برابر روزے رکھنا ، تا کہ وہ اپنے کام کا وبال چکھے۔ اللہ نے معاف کر دیا جو گزر چکا اور جو دوبارہ کرے تو اللہ اس سے انتقام لے گا اور اللہ سب پر غالب، بڑے انتقام والا ہے۔
En
مومنو! جب تم احرام کی حالت میں ہو تو شکار نہ مارنا اور جو تم میں سے جان بوجھ کر اسے مارے تو (یا تو اس کا) بدلہ (دے اور وہ یہ ہے کہ) اسی طرح کا چارپایہ جسے تم میں دو معتبر شخص مقرر کر دیں قربانی (کرے اور یہ قربانی) کعبے پہنچائی جائے یا کفارہ (دے اور وہ) مسکینوں کو کھانا کھلانا (ہے) یا اس کے برابر روزے رکھے تاکہ اپنے کام کی سزا (کا مزہ) چکھے (اور) جو پہلے ہو چکا وہ خدا نے معاف کر دیا اور جو پھر (ایسا کام) کرے گا تو خدا اس سے انتقام لے گا اور خدا غالب اور انتقام لینے والا ہے
اے ایمان والو! (وحشی) شکار کو قتل مت کرو جب کہ تم حالت احرام میں ہو۔ اور جو شخص تم میں سے اس کو جان بوجھ کر قتل کرے گا تو اس پر فدیہ واجب ہو گا جو کہ مساوی ہو گا اس جانور کے جس کو اس نے قتل کیا ہے جس کا فیصلہ تم میں سے دو معتبر شخص کر دیں خواه وه فدیہ خاص چوپایوں میں سے ہو جو نیاز کے طور پر کعبہ تک پہنچایا جائے اور خواه کفاره مساکین کو دے دیا جائے اور خواه اس کے برابر روزے رکھ لئے جائیں تاکہ اپنے کئے شامت کا مزه چکھے، اللہ تعالیٰ نے گذشتہ کو معاف کر دیا اور جو شخص پھر ایسی ہی حرکت کرے گا تو اللہ انتقام لے گا اور اللہ زبردست ہے انتقام لینے واﻻ
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تعالیٰ نے حالت احرام میں شکار کرنے سے منع کر کے شکار کرنے کو حرام قرار دے دیا، چنانچہ فرمایا: ﴿ یٰۤاَیُّهَاالَّذِیْنَاٰمَنُوْالَاتَقْتُلُواالصَّیْدَوَاَنْتُمْحُرُمٌؔ ﴾”اے ایمان دارو! جب تم احرام کی حالت میں ہو تو شکار نہ مارنا۔“ یعنی جب تم نے حج اور عمرہ کا احرام باندھا ہوا ہو۔ شکار مارنے کی ممانعت، شکار مارنے کے مقدمات کی ممانعت کو بھی شامل ہے۔ جیسے شکار مارنے میں اشتراک، شکار کی نشاندہی کرنا اور شکار کرنے میں اعانت کرنا، احرام کی حالت میں سب ممنوع ہے۔ حتی کہ محرم کو وہ شکار کھانا بھی ممنوع ہے جو اس کی خاطر شکار کیا گیا ہو۔ یہ سب کچھ اس عظیم عبادت کی تعظیم کے لیے ہے کہ محرم کے لیے اس شکار کو مارنا حرام ہے جو احرام باندھنے سے پہلے تک اس کے لیے حلال تھا۔ ﴿ وَمَنْقَتَلَهٗمِنْكُمْمُّتَعَمِّدًا ﴾”اور جو تم میں سے جان بوجھ کر اسے مارے۔“ یعنی اس نے جان بوجھ کر شکار مارا ﴿ فَجَزَآءٌمِّثْ٘لُمَاقَتَلَمِنَالنَّعَمِ ﴾”تو اس پر بدلہ ہے اس مارے ہوئے کے برابر مویشی میں سے“ یعنی اس پر لازم ہے کہ اونٹ، گائے اور بکری کا فدیہ دے۔ شکار کے بارے میں دیکھا جائے گا کہ وہ کس سے مشابہت رکھتا ہے تو اس جیسا مویشی ذبح کر کے صدقہ کیا جائے گا۔ اور مماثلت کی تعیین میں کس کا فیصلہ معتبر ہو گا؟ ﴿ یَحْكُمُبِهٖذَوَاعَدْلٍمِّؔنْكُمْ ﴾”تم میں سے دو عادل شخص اس کا فیصلہ کریں گے“ یعنی دو عادل اشخاص جو فیصلہ کرنا جانتے ہوں اور وجہ مشابہت کی بھی معرفت رکھتے ہوں جیسا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کیا۔ انھوں نے کبوتر کا شکار کرنے پر بکری، شتر مرغ کا شکار کرنے پر اونٹنی اور نیل گائے کی تمام اقسام پر گائے ذبح کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اسی طرح تمام جنگلی جانور جو مویشیوں میں کسی کے ساتھ مشابہت رکھتے ہیں تو فدیہ کے لیے وہی اس کے مماثل ہیں۔ اگر کوئی مشابہت نہ ہو تو اس میں قیمت ہے۔ جیسا کہ تلف شدہ چیزوں میں قاعدہ ہے۔
یہ بھی لازم ہے کہ یہ ہدی بیت اللہ پہنچے ﴿ هَدْیً٘ۢا٘بٰ٘لِغَالْكَعْبَةِ ﴾”وہ جانور بطور قربانی پہنچایا جائے کعبے تک“ یعنی اس کو حرم کے اندر ذبح کیا جائے ﴿ اَوْكَفَّارَةٌطَعَامُمَسٰكِیْنَ ﴾”یا اس جزا کا کفارہ چند مساکین کو کھانا کھلانا ہے“ یعنی مویشیوں میں سے مماثل کے مقابلے میں مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے۔ بہت سے علماء کہتے ہیں کہ جزا یوں پوری ہو گی کہ مماثل مویشی کی قیمت کے برابر غلہ وغیرہ خریدا جائے اور ہر مسکین کو ایک مد گیہوں یا گیہوں کے علاوہ کسی دوسری جنس میں سے نصف صاع دیا جائے ﴿ اَوْعَدْلُذٰلِكَ ﴾”یا اس کھانے کے بدل میں “﴿ صِیَامًا ﴾”روزے رکھے۔“ یعنی ایک مسکین کو کھانا کھلانے کے بدلے میں ایک روزہ رکھے ﴿ لِّیَذُوْقَ ﴾”تاکہ چکھے وہ“ اس مذکورہ جزا کے وجوب کے ذریعے سے ﴿ وَبَ٘الَاَمْرِهٖ ﴾”سزا اپنے کام کی“﴿وَمَنْعَادَ ﴾”اور پھر جو کرے گا“ یعنی اس کے بعد ﴿ فَیَنْتَقِمُاللّٰهُمِنْهُ١ؕوَاللّٰهُعَزِیْزٌذُوانْتِقَامٍ ﴾”تو اللہ تعالیٰ اس سے انتقام لے گا اور اللہ تعالیٰ غالب اور انتقام لینے والا ہے۔“
اللہ تبارک و تعالیٰ نے جان بوجھ کر شکار مارنے پر اس کی سزا کی صراحت کی ہے باوجود اس بات کے کہ بدلہ تو ہر غلطی کا ضروری ہوتا ہے، چاہے اس کا مرتکب جان بوجھ کر کرے یا غلطی سے۔ جیسا کہ شرعی قاعدہ ہے کہ جان اور مال کو تلف کرنے والے پر ضمان لازم ہے خواہ کسی بھی حال میں اس سے یہ اتلاف صادر ہوا ہو۔ جبکہ یہ اتلاف ناحق ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر بدلہ اور انتقام مترتب کیا ہے اور یہ سب جان بوجھ کر کرنے والے کے لیے ہے۔ لیکن غلطی سے کرنے والے کے لیے سزا نہیں ہے، صرف بدلہ ہے۔ یہی جمہور علماء کی رائے ہے مگر صحیح وہی ہے جس کی آیت کریمہ نے تصریح کی ہے کہ جس طرح بغیر جانے بوجھے اور بغیر ارادے کے شکار مارنے والے پر کوئی گناہ نہیں اسی طرح اس پر جزا بھی لازم نہیں ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم صَرَّحَ بالنهي عن قتل الصيد في حال الإحرام، فقال: {يا أيُّها الذين آمنوا لا تقتلوا الصيد وأنتم حُرُم}؛ أي: محرمون في الحجِّ والعمرة، والنهي عن قتله يشمل النهي عن مقدِّمات القتل وعن المشاركة في القتل والدلالة عليه والإعانة على قتله، حتى أنَّ من تمام ذلك أنَّه ينهى المحرم عن أكل ما قُتِلَ أو صِيدَ لأجله، وهذا كلُّه تعظيم لهذا النُّسك العظيم؛ أنَّه يحرم على المحرم قتل وصيد ما كان حلالاً له قبل الإحرام. وقوله: {ومَن قَتَلَهُ منكم متعمِّداً}؛ أي: قتل صيداً عمداً، {فـ} عليه {جزاءٌ مثلُ ما قَتَلَ من النَّعم}؛ أي: الإبل أو البقر أو الغنم، فينظُرُ ما يشبهه شيئاً من ذلك، فيجب عليه مثله، يذبحهُ ويتصدقُ به، والاعتبار بالمماثلة، {يحكمُ به ذوا عدل منكم}؛ أي: عدلان يعرفان الحكم ووجه الشبه؛ كما فعل الصحابة رضي الله عنهم؛ حيث قضوا بالحمامة شاة، وفي النعامة بدنة، وفي بقر الوحش على اختلاف أنواعه بقرة، وهكذا كلُّ ما يشبه شيئاً من النَّعم؛ ففيه مثله، فإن لم يشبه شيئاً؛ ففيه قيمته كما هو القاعدة في المتلفات، وذلك الهدي لا بدَّ أن يكون {هدياً بالغَ الكعبةِ}؛ أي: يُذبح في الحرم، {أو كفارةٌ طعام مساكينَ}؛ أي: كفارة ذلك الجزائي طعام مساكين؛ أي: يجعل مقابلة المثل من النَّعم طعام يُطعم المساكين. قال كثيرٌ من العلماء: يُقَوَّمُ الجزاء، فيُشترى بقيمته طعامٌ، فيُطعم كلَّ مسكين مُدَّ بُرٍّ أو نصف صاع من غيره، {أو عدل ذلك} الطعام {صياماً}؛ أي: يصوم عن إطعام كلِّ مسكين يوماً، {ليذوقَ} بإيجاب الجزاء المذكور عليه وبالَ أمرِهِ، ومن عاد بعد ذلك فينتَقِمُ الله منه. والله عزيزٌ ذو انتقام.
وإنما نصَّ الله على المتعمِّد لقتل الصيد، مع أن الجزاء يلزم المتعمِّد والمخطئ كما هو القاعدة الشرعية: أنَّ المتلِفَ للنُّفوس والأموال المحترمة؛ فإنَّه يضمنُها على أيِّ حال كان إذا كان إتلافُهُ بغير حقٍّ؛ لأنَّ الله رتَّب عليه الجزاء والعقوبة والانتقام، وهذا للمتعمِّد، وأما المخطئ؛ فليس عليه عقوبة، إنما عليه الجزاء. (هذا قول جمهور العلماء، والصحيح ما صرَّحت به الآية: أنَّه لا جزاء على غير المتعمِّد؛ كما لا إثم عليه).
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔