تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المائده (5) — آیت 97

جَعَلَ اللّٰہُ الۡکَعۡبَۃَ الۡبَیۡتَ الۡحَرَامَ قِیٰمًا لِّلنَّاسِ وَ الشَّہۡرَ الۡحَرَامَ وَ الۡہَدۡیَ وَ الۡقَلَآئِدَ ؕ ذٰلِکَ لِتَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ وَ اَنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۹۷﴾
اللہ نے کعبہ کو، جو حرمت والا گھر ہے، لوگوں کے قیام کا باعث بنایا ہے اور حرمت والے مہینے کو اور قربانی کے جانوروں کو اور پٹوں (والے جانوروں) کو۔یہ اس لیے کہ تم جان لو کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور یہ کہ اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔ En
خدا نے عزت کے گھر (یعنی) کعبے کو لوگوں کے لیے موجب امن مقرر فرمایا ہے اور عزت کے مہینوں کو اور قربانی کو اور ان جانوروں کو جن کے گلے میں پٹے بندھے ہوں یہ اس لیے کہ تم جان لو کہ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے خدا سب کو جانتا ہے اور یہ کہ خدا کو ہر چیز کا علم ہے
En
اللہ نے کعبہ کو جو ادب کا مکان ہے لوگوں کے قائم رہنے کا سبب قرار دے دیا اور عزت والے مہینہ کو بھی اور حرم میں قربانی ہونے والے جانور کو بھی اور ان جانوروں کو بھی جن کے گلے میں پٹے ہوں یہ اس لئے تاکہ تم اس بات کا یقین کر لو کہ بےشک اللہ تمام آسمانوں اور زمین کے اندر کی چیزوں کا علم رکھتا ہے اور بےشک اللہ سب چیزوں کو خوب جانتا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ ﴿ جَعَلَ اللّٰهُ الْكَعْبَةَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ قِیٰمًا لِّلنَّاسِ اس نے کعبہ، یعنی محترم گھر کو لوگوں کے لیے قیام کا باعث بنایا۔ یعنی اس کی تعظیم کے قیام کے ساتھ ان کا دین اور دنیا قائم ہیں۔ کعبہ کے ساتھ ان کے اسلام کی تکمیل ہوتی ہے۔ ان کے بوجھ ہلکے ہوتے ہیں۔ اس گھر کا قصد کرنے سے بہت زیادہ نوازشیں اور بہت زیادہ احسانات حاصل ہوتے ہیں۔ اسی کعبہ کے سبب سے اموال خرچ کیے جاتے ہیں اور اسی کی خاطر بڑے بڑے اہوال میں گھسا جاتا ہے۔ اس محترم گھر میں دور دور سے مختلف رنگ و نسل کے مسلمان اکٹھے ہوتے ہیں، ایک دوسرے سے متعارف ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے سے مدد لیتے ہیں، مصالح عامہ میں ایک دوسرے سے مشورہ کرتے ہیں، ان کے درمیان ان کے دینی اور دنیاوی مفادات کے ضمن میں روابط استوار ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿لِّیَشْهَدُوْا مَنَافِعَ لَهُمْ وَیَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ فِیْۤ اَ یَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ (الحج: 22؍28) تاکہ وہ اپنے فائدے کے کاموں میں حاضر ہوں اور قربانی کے چند معلوم دنوں میں ان مویشیوں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ تعالیٰ نے عطا کیے ہیں ۔
اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے اس محترم گھر کو لوگوں کے لیے اجتماعی زندگی کے قیام کا ذریعہ بنایا، بعض علماء کہتے ہیں کہ ہر سال بیت اللہ کا حج کرنا فرض کفایہ ہے اگر تمام لوگ حج چھوڑ دیں تو تمام وہ لوگ گناہ گار ٹھہریں گے جو حج کرنے کی قدرت رکھتے ہیں بلکہ اگر تمام لوگ حج چھوڑ دیں تو ان کی اجتماعی زندگی کا سہارا ختم ہو جائے گا اور قیامت قائم ہو جائے گی۔
﴿ وَالْهَدْیَ وَالْقَلَآىِٕدَ اور قربانی کو اور ان جانوروں کو جن کے گلے میں پٹے بندھے ہوں۔ یعنی اور اسی طرح اللہ تعالیٰ نے قربانی کے جانوروں اور پٹے والے جانوروں کو جو کہ قربانی کی بہترین قسم ہے، لوگوں کے گزارے کا ذریعہ بنایا۔ لوگ ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ثواب حاصل کرتے ہیں۔ ﴿ ذٰلِكَ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ وَاَنَّ اللّٰهَ بِكُ٘لِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ یہ اس لیے تاکہ تم جان لو کہ اللہ کو معلوم ہے جو کچھ کہ آسمان و زمین میں ہے اور اللہ ہر چیز سے خوب واقف ہے پس یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا علم ہی ہے کہ اس نے تمھارے لیے یہ محترم گھر بنایا کیونکہ وہ تمھارے دینی اور دنیاوی مصالح کا علم رکھتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى أنه جعل {الكعبةَ البيتَ الحرامَ قِياماً للناس}: يقوم بالقيام بتعظيمِهِ دينهم ودُنياهم؛ فبذلك يتمُّ إسلامهم، وبه تحطُّ أوزارهم، وتحصُل لهم بقصدِهِ العطايا الجزيلة والإحسان الكثير، وبسببه تُنفق الأموال وتُقتحم من أجله الأهوال، ويجتمع فيه من كل فجٍّ عميق جميع أجناس المسلمين، فيتعارفونَ، ويستعين بعضهم ببعض، ويتشاورون على المصالح العامة، وتنعقد بينهم الروابط في مصالحهم الدينيَّة والدنيويَّة؛ قال تعالى: {لِيَشْهَدوا منافِعَ لهم ويَذْكُروا اسمَ الله على ما رَزَقَهُم من بهيمةِ الأنعام}: ومن أجل كون البيتِ قياماً للنَّاس قال من قال من العلماء: إن حجَّ بيت الله فرضُ كفايةٍ في كلِّ سنة؛ فلو ترك الناس حَجَّهُ؛ لأثم كلُّ قادرٍ، بل لو ترك الناسُ حَجَّه؛ لزال ما به قِوامهم وقامت القيامة. وقوله: {والهديَ والقلائدَ}؛ أي: وكذلك جعل الهَدْيَ والقلائدَ التي هي أشرف أنواع الهَدْي قياماً للناس ينتفِعون بهما، ويُثابون عليهما. {ذلك لتعلموا أنَّ الله يَعْلَمُ ما في السمواتِ وما في الأرض وأنَّ الله بكلِّ شيءٍ عليم}: فمن علمِهِ أن جَعَلَ لكم هذا البيت الحرام لما يَعْلمُهُ من مصالحكم الدينيَّة والدنيويَّة.