تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَعَدَاللّٰهُ ﴾”اللہ نے وعدہ کیا ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ جو وعدہ خلافی نہیں کرتا ان لوگوں کے ساتھ وعدہ فرماتا ہے جو اس پر، اس کے رسولوں اور یوم آخرت پر ایمان لاتے ہیں ﴿وَعَمِلُواالصّٰؔلِحٰؔتِ﴾”اور جنھوں نے نیک عمل کیے“ جو واجبات و مستحبات پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ان کو بخش دینے، ان کے گناہوں کی سزا کو معاف کر دینے اور ان کو اجر عظیم کے عطا کرنے کا وعدہ کرتا ہے جس کی بڑائی کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَلَاتَعْلَمُنَ٘فْ٘سٌمَّاۤاُخْ٘فِیَلَهُمْمِّنْقُ٘رَّةِاَعْیُنٍ١ۚجَزَآءًۢبِمَاكَانُوْایَعْمَلُوْنَ ﴾ (السجدۃ: 32؍17) ”کوئی متنفس نہیں جانتا کہ ان کے لیے ان کے اعمال کے صلہ کے طورپر آنکھوں کی کیا ٹھنڈک چھپارکھی گئی۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: {وَعَدَ الله}؛ ـ الذي لا يُخْلِفُ الميعاد، وهو أصدق القائلين ـ المؤمنين به وبكتبِهِ ورسلِهِ واليوم الآخر، {وعمِلُوا الصالحات}: من واجباتٍ ومستحباتٍ بالمغفرة لذنوبهم بالعفو عنها وعن عواقبها وبالأجر العظيم الذي لا يعلم عِظَمَهُ إلا الله تعالى؛ {فلا تعلمُ نفسٌ ما أخْفِيَ لهم من قُرَّةِ أعينٍ جزاءً بما كانوا يعملون}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔