تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المائده (5) — آیت 9

وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۙ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ وَّ اَجۡرٌ عَظِیۡمٌ ﴿۹﴾
اللہ نے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک کام کیے کہ بے شک ان کے لیے بڑی بخشش اور بہت بڑا اجر ہے۔ En
جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان سے خدا نے وعدہ فرمایا ہے کہ ان کے لیے بخشش اور اجر عظیم ہے
En
اللہ تعالیٰ کا وعده ہے کہ جو ایمان ﻻئیں اور نیک کام کریں ان کے لئے وسیع مغفرت اور بہت بڑا اجر و ﺛواب ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَعَدَ اللّٰهُ اللہ نے وعدہ کیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ جو وعدہ خلافی نہیں کرتا ان لوگوں کے ساتھ وعدہ فرماتا ہے جو اس پر، اس کے رسولوں اور یوم آخرت پر ایمان لاتے ہیں ﴿وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ اور جنھوں نے نیک عمل کیے جو واجبات و مستحبات پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ان کو بخش دینے، ان کے گناہوں کی سزا کو معاف کر دینے اور ان کو اجر عظیم کے عطا کرنے کا وعدہ کرتا ہے جس کی بڑائی کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَلَا تَعْلَمُ نَ٘فْ٘سٌ مَّاۤ اُخْ٘فِیَ لَهُمْ مِّنْ قُ٘رَّةِ اَعْیُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (السجدۃ: 32؍17) کوئی متنفس نہیں جانتا کہ ان کے لیے ان کے اعمال کے صلہ کے طورپر آنکھوں کی کیا ٹھنڈک چھپارکھی گئی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: {وَعَدَ الله}؛ ـ الذي لا يُخْلِفُ الميعاد، وهو أصدق القائلين ـ المؤمنين به وبكتبِهِ ورسلِهِ واليوم الآخر، {وعمِلُوا الصالحات}: من واجباتٍ ومستحباتٍ بالمغفرة لذنوبهم بالعفو عنها وعن عواقبها وبالأجر العظيم الذي لا يعلم عِظَمَهُ إلا الله تعالى؛ {فلا تعلمُ نفسٌ ما أخْفِيَ لهم من قُرَّةِ أعينٍ جزاءً بما كانوا يعملون}.