اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر خوب قائم رہنے والے، انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بن جائو اور کسی قوم کی دشمنی تمھیں ہرگز اس بات کا مجرم نہ بنا دے کہ تم عدل نہ کرو۔ عدل کرو، یہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ اس سے پوری طرح با خبر ہے جو تم کرتے ہو۔
En
اے ایمان والوں! خدا کے لیے انصاف کی گواہی دینے کے لیے کھڑے ہو جایا کرو۔ اور لوگوں کی دشمنی تم کو اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ انصاف چھوڑ دو۔ انصاف کیا کرو کہ یہی پرہیزگاری کی بات ہے اور خدا سے ڈرتے رہو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے
اے ایمان والو! تم اللہ کی خاطر حق پر قائم ہو جاؤ، راستی اور انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بن جاؤ، کسی قوم کی عداوت تمہیں خلاف عدل پر آماده نہ کردے، عدل کیا کرو جو پرہیز گاری کے زیاده قریب ہے، اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو، یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے باخبر ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿یٰۤاَیُّهَاالَّذِیْنَاٰمَنُوْا ﴾”اے ایمان والو!“یعنی اے وہ لوگو جو ان امور پر ایمان لائے ہو جن پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے۔ اپنے ایمان کے لوازم کو قائم کرو ﴿كُوْنُوْاقَوّٰمِیْنَلِلّٰهِشُهَدَآءَؔبِالْقِسْطِ﴾”اللہ کے لیے انصاف کی گواہی دینے کے لیے کھڑے ہوجاؤ۔“ یعنی انصاف کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے لیے گواہی دینے کے لیے کھڑے ہونے والے بن جاؤ۔ تمھاری ظاہری اور باطنی حرکات قیام انصاف میں نشاط محسوس کریں۔ اور یہ قیام عدل دنیاوی اغراض کی خاطر نہ ہو بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہو اور صرف (قسط) یعنی عدل تمھارا مقصد ہو۔ تمھارے اقوال و افعال میں کسی قسم کی افراط و تفریط نہ ہو اور تم قریب اور بعید، دوست اور دشمن سب کے ساتھ عدل و انصاف کرو۔
﴿وَلَایَجْرِمَنَّـكُمْ ﴾”تمھیں ہرگز آمادہ نہ کرے“﴿شَنَاٰنُقَوْمٍ ﴾”لوگوں کی دشمنی۔“ یعنی کسی قوم کے ساتھ کینہ و بغض ﴿عَلٰۤىاَلَّاتَعْدِلُوْا﴾”اس بات پر کہ تم عدل نہ کرو“ جیسا کہ وہ لوگ کرتے ہیں جن کے پاس عدل و انصاف کا کوئی تصور نہیں۔ بلکہ ہونا یہ چاہیے کہ جیسے تم اپنے دوست کے حق میں گواہی دیتے ہو، اس کے خلاف بھی گواہی دو اور جیسے تم اپنے دشمن کے خلاف گواہی دیتے ہو تو اس کے حق میں بھی گواہی دو۔ خواہ تمھارا دشمن کافر یا بدعتی ہی کیوں نہ ہو۔ اس کے بارے میں عدل کرنا اور اگر وہ حق بات کہتا ہے تو اسے قبول کرنا فرض ہے اور محض اس وجہ سے اس کا قول قبول نہ کیا جائے کہ وہ دوست کا قول ہے اور نہ دشمن کے قول کو محض اس وجہ سے رد کیا جائے کہ وہ دشمن کا قول ہے کیونکہ یہ حق پر ظلم ہے۔ ﴿اِعْدِلُوْا١۫هُوَاَقْرَبُلِلتَّقْوٰى ﴾”انصاف کرو، یہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے“ یعنی جب بھی تم عدل کرنے کی خواہش کرو گے اور اس خواہش پر عمل کرنے کی کوشش کرو گے تو یہ چیز تمھارے دلوں کے تقویٰ کے بہت قریب ہے۔ اگر عدل کی تکمیل ہو گئی تو تقویٰ بھی مکمل ہو گیا ﴿اِنَّاللّٰهَخَبِیْرٌۢبِمَاتَعْمَلُوْنَ﴾”یقینا اللہ اس سے باخبر ہے جو تم کرتے ہو“ اس لیے وہ تمھارے اچھے اور برے، چھوٹے اور بڑے تمام اعمال کی دنیا اور آخرت میں جزا دے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: {يا أيُّها الذين آمنوا}: بما أمروا بالإيمان به، قوموا بلازم إيمانكم، بأن تكونوا {قوَّامينَ لله شهداءَ بالقِسْط}: بأن تنشط للقيام بالقِسْط حركاتكُم الظاهرة والباطنة، وأنْ يكونَ ذلك القيام لله وحدَه لا لغرض من الأغراض الدنيويَّة، وأن تكونوا قاصدين للقِسْط الذي هو العدل، لا الإفراط ولا التفريط في أقوالكم ولا أفعالكم، وقوموا بذلك على القريب والبعيد والصديق والعدو. {ولا يَجْرِمَنَّكُم}؛ أي: يحملنَّكم بغض قوم {على أن لا تَعْدِلوا}؛ كما يفعله مَن لا عدل عنده ولا قِسْط، بل كما تشهدون لوليِّكم؛ فاشهدوا عليه، وكما تشهدون على عدوِّكم؛ فاشهدوا له، ولو كان كافراً أو مبتدعاً؛ فإنَّه يجب العدل فيه وقبول ما يأتي به من الحقِّ؛ [لأنه حقٌّ]، لا لأنه قاله، ولا يُرَدُّ الحق لأجل قوله؛ فإن هذا ظلم للحقِّ. {اعدِلوا هو أقرب للتَّقوى}؛ أي: كلما حرصتم على العدل واجتهدتم في العمل به؛ كان ذلك أقرب لتقوى قلوبكم؛ فإن تمَّ العدل؛ كملت التقوى، {إنَّ الله خبيرٌ بما تعملونَ}؛ فمجازيكم بأعمالكم خيرِها وشرِّها صغيرِها وكبيرِها جزاءً عاجلاً وآجلاً.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔