اس آیت کی تفسیر آیت 8 میں تا آیت 10 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
9۔ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے ان سے اللہ کا وعدہ ہے کہ ان کے لیے بخشش [31۔ 1] اور بہت بڑا اجر ہے
[31۔ 1] اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دو طرح کے اعمال کا ذکر فرمایا۔ ایک ایمان کا، دوسرے اعمال صالحہ کا اور دو طرح کا ہی وعدہ فرمایا ایک مغفرت کا اور دوسرے اجر عظیم کا۔ جس سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور اس کے ساتھ کبھی کسی کو شریک نہیں کیا۔ ان کی بھی مغفرت ہو جائے گی رہا اجر عظیم تو وہ صرف ان لوگوں کو ملے گا جو ایمان کے ساتھ اعمال صالحہ بھی بجا لاتے رہے ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَعَدَاللّٰهُ ﴾”اللہ نے وعدہ کیا ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ جو وعدہ خلافی نہیں کرتا ان لوگوں کے ساتھ وعدہ فرماتا ہے جو اس پر، اس کے رسولوں اور یوم آخرت پر ایمان لاتے ہیں ﴿وَعَمِلُواالصّٰؔلِحٰؔتِ﴾”اور جنھوں نے نیک عمل کیے“ جو واجبات و مستحبات پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ان کو بخش دینے، ان کے گناہوں کی سزا کو معاف کر دینے اور ان کو اجر عظیم کے عطا کرنے کا وعدہ کرتا ہے جس کی بڑائی کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿فَلَاتَعْلَمُنَ٘فْ٘سٌمَّاۤاُخْ٘فِیَلَهُمْمِّنْقُ٘رَّةِاَعْیُنٍ١ۚجَزَآءًۢبِمَاكَانُوْایَعْمَلُوْنَ ﴾ (السجدۃ: 32؍17) ”کوئی متنفس نہیں جانتا کہ ان کے لیے ان کے اعمال کے صلہ کے طورپر آنکھوں کی کیا ٹھنڈک چھپارکھی گئی۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: {وَعَدَ الله}؛ ـ الذي لا يُخْلِفُ الميعاد، وهو أصدق القائلين ـ المؤمنين به وبكتبِهِ ورسلِهِ واليوم الآخر، {وعمِلُوا الصالحات}: من واجباتٍ ومستحباتٍ بالمغفرة لذنوبهم بالعفو عنها وعن عواقبها وبالأجر العظيم الذي لا يعلم عِظَمَهُ إلا الله تعالى؛ {فلا تعلمُ نفسٌ ما أخْفِيَ لهم من قُرَّةِ أعينٍ جزاءً بما كانوا يعملون}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔