تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المائده (5) — آیت 80

تَرٰی کَثِیۡرًا مِّنۡہُمۡ یَتَوَلَّوۡنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ؕ لَبِئۡسَ مَا قَدَّمَتۡ لَہُمۡ اَنۡفُسُہُمۡ اَنۡ سَخِطَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ وَ فِی الۡعَذَابِ ہُمۡ خٰلِدُوۡنَ ﴿۸۰﴾
تو ان میں سے بہت سوں کو دیکھے گا وہ ان لوگوں سے دوستی رکھتے ہیں جنھوں نے کفر کیا۔ یقینا برا ہے جو ان کے نفسوں نے ان کے لیے آگے بھیجا کہ اللہ ان پر غصے ہوگیا اور عذاب ہی میں وہ ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ En
تم ان میں سے بہتوں کو دیکھو گے کہ کافروں سے دوستی رکھتے ہیں انہوں نے جو کچھ اپنے واسطے آگے بھیجا ہے برا ہے (وہ یہ) کہ خدا ان سے ناخوش ہوا اور وہ ہمیشہ عذاب میں (مبتلا) رہیں گے
En
ان میں سے بہت سے لوگوں کو آپ دیکھیں گے کہ وه کافروں سے دوستیاں کرتے ہیں، جو کچھ انہوں نے اپنے لئے آگے بھیج رکھا ہے وه بہت برا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے ناراض ہوا اور وه ہمیشہ عذاب میں رہیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ تَرٰى كَثِیْرًا مِّؔنْهُمْ یَتَوَلَّوْنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا آپ دیکھیں گے کہ ان میں سے اکثر کافروں کو دوست رکھتے ہیں یعنی ان کے ساتھ محبت اور موالات رکھتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں ﴿ لَ٘بِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ اَنْفُسُهُمْ برا ہے وہ جو ان کے نفسوں نے ان کے لیے آگے بھیجا یعنی انھوں نے گھٹیا مال پیش کیا اور خسارے کا سودا کیا... اور یہ ہے اللہ تبارک و تعالیٰ کی ناراضی جس کے ناراض ہونے سے کائنات کی ہر چیز ناراض ہو جاتی ہے اور جس کی ناراضی کا نتیجہ عذاب عظیم میں خلود اور دوام ہے۔ پس ان کے نفسوں نے ان پر ظلم کیا کہ انھوں نے یہ بری مہمانی آگے بھیجی اور انھوں نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا کہ انھوں نے انھیں ہمیشہ رہنے والی نعمت سے محروم کر دیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ترى كثيراً منهم يَتَوَلَّوْنَ الذين كفروا}: بالمحبَّة والموالاة والنصرة، {لبئس ما قدَّمَتْ لهم أنفسُهم}: [هذه] البضاعة الكاسدة والصفقة الخاسرة، وهي سَخَط الله الذي يسخط لِسَخَطِهِ كلُّ شيء والخلود الدائم في العذاب العظيم؛ فقد ظلمتهم أنفسهم حيث قدمت لهم هذا النزل غير الكريم، وقد ظلموا أنفسهم إذ فوَّتوها النعيم المقيم.