تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
﴿كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ لِلّٰهِ شُهَدَاءَ﴾
کا یہ مطلب لیا ہے کہ اللہ کے دین کو قائم کرنے والے بن جاؤ۔ یعنی تم پر یہ فریضہ عائد کیا گیا ہے کہ تم تمام اقوام عالم کو اپنے قول سے بھی اور فعل سے توحید اور احکام اخلاق کی تعلیم دینے کے ذمہ دار بن جاؤ۔ جیسا کہ صحابہ کرام نے اس پر عمل کر کے دکھایا اسی ذمہ داری کو تمہیں بحال رکھنا چاہیے اور آگے بڑھانا چاہیے اور اس سلسلہ میں تمہیں عدل و انصاف کے تقاضوں کو بھی ملحوظ رکھنا چاہیے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اسلام لاتے وقت انہی چیزوں کا ہر مومن اپنی بیعت میں اقرار کرتا تھا، چنانچہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے الفاظ ہیں کہ { ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی کہ ”ہم سنتے رہیں گے اور مانتے چلے جائیں گے، خواہ جی چاہے خواہ نہ چاہے، خواہ دوسروں کو ہم پر ترجیح دی جائے اور کسی لائق شخص سے ہم کسی کام کو نہیں چھینیں گے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7056]
یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس آیت میں یہودیوں کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ تم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کے قول قرار ہو چکے ہیں، پھر تمہاری نافرمانی کے کیا معنی؟ یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی پیٹھ سے نکال کر جو عہد اللہ رب العزت نے بنو آدم سے لیا تھا، اسے یاد دلایا جا رہا ہے جس میں فرمایا تھا کہ ’ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ ‘ سب نے اقرار کیا کہ ہاں ہم اس پر گواہ ہیں، لیکن پہلا قول زیادہ ظاہر ہے۔
سدی رحمة الله اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے وہی مروی ہے اور امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی اسی کو مختار بتایا ہے۔ ہر حال میں ہر حال میں انسان کو اللہ کا خوف رکھنا چاہیئے۔ دلوں اور سینوں کے بھید سے وہ واقف ہے۔ ایمان والو لوگوں کو دکھانے کو نہیں بلکہ اللہ کی وجہ سے حق پر قائم ہو جاؤ اور عدل کے ساتھ صحیح گواہ بن جاؤ۔
پھر فرمایا ’ دیکھو کسی کی عداوت اور ضد میں آ کر عدل سے نہ ہٹ جانا۔ دوست ہو یا دشمن ہو، تمہیں عدل و انصاف کا ساتھ دینا چاہیئے، تقوے سے زیادہ قریب یہی ہے ‘۔
«هُوَ» کی ضمیر کے مرجع پر دلالت فعل نے کر دی ہے جیسے کہ اس کی نظریں قرآن میں اور بھی ہے اور کلام عرب میں بھی، جیسے اور جگہ ہے «وَإِن قِيلَ لَكُمُ ارْجِعُوا فَارْجِعُوا هُوَ أَزْكَىٰ لَكُمْ وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ» ۱؎ [24-النور:28] یعنی ’ اگر تم کسی مکان میں جانے کی اجازت مانگو اور نہ ملے بلکہ کہا جائے کہ واپس جاؤ تو تم واپس چلے جاؤ یہی تمہارے لیے زیادہ پاکیزگی کا باعث ہے ‘۔
پس یہاں «هُوَ» کی ضمیر کا مرجع مذکور نہیں، لیکن فعل کی دلالت موجود ہے یعنی لوٹ جانا۔ اسی طرح مندرجہ آیت میں یعنی عدل کرنا۔
’ اللہ سے ڈرو! وہ تمہارے عملوں سے باخبر ہے، ہر خیر و شر کا پورا پورا بدلہ دے گا ‘۔
وہ ایمان والوں، نیک کاروں سے ان کے گناہوں کی بخشش کا اور انہیں اجر عظیم یعنی جنت دینے کا وعدہ کر چکا ہے۔ گو دراصل وہ اس رحمت کو صرف فعل الٰہی سے حاصل کرینگے لیکن رحمت کی توجہ کا سبب ان کے نیک اعمال بنے۔ پس حقیقتاً ہر طرح قابل تعریف و ستائش اللہ ہی ہے اور یہ سب کچھ اس کا فضل و رحم ہے۔ حکمت و عدل کا تقاضا یہی تھا کہ ایمانداروں اور نیک کاروں کو جنت دی جائے اور کافروں اور جھٹلانے والوں کو جہنم واصل کیا جائے چنانچہ یونہی ہوگا۔
پھر اپنی ایک اور نعمت یاد دلاتا ہے، جس کی تفصیل یہ ہے، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک منزل میں اترے، لوگ ادھر ادھر سایہ دار درختوں کی تلاش میں لگ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہتھیار اتار کر ایک درخت پر لٹکا دئے۔ ایک اعرابی نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار اپنے ہاتھ میں لے لی اور اسے کھینچ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا اب بتا کہ مجھ سے تجھے کون بچا سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً بعد جواب دیا کہ { اللہ عزوجل }، اس نے پھر یہی سوال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی جواب دیا، تیسری مرتبہ کے جواب کے ساتھ ہی اس کے ہاتھ سے تلوار گر پڑی۔
اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو آواز دی اور جب وہ آ گئے تو ان سے سارا واقعہ کہہ دیا۔ اعرابی اس وقت بھی موجود تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کوئی بدلہ نہ لیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4135]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { یہودیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو قتل کرنے کے ارادہ سے زہر ملا کر کھانا پکا کر دعوت کردی، لیکن اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بچ رہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ کعب بن اشرف اور اس کے یہودی ساتھیوں نے اپنے گھر میں بلا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صدمہ پہنچانا چاہا تھا }۔
ابن اسحاق رحمة الله وغیرہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد بنو نضیر کے وہ لوگ ہیں جنہوں نے چکی کا پاٹ قلعہ کے اوپر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر گرانا چاہتا تھا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عامری لوگوں کی دیت کے لینے کیلئے ان کے پاس گئے تھے تو ان شریروں نے عمرو بن حجاش بن کعب کو اس بات پر آمادہ کیا تھا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نیچے کھڑا کر کے باتوں میں مشغول کر لیں گے تو اوپر سے یہ پھینک کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کام تمام کر دینا لیکن راستے میں ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی شرارت و خباثت سے آگاہ کر دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مع اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے وہیں سے پلٹ گئے۔
اسی کا ذکر اس آیت میں ہے، ’ مومنوں کو اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیئے جو کفایت کرنے والا، حفاظت کرنے والا ہے ‘۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے حکم سے بنو نضیر کی طرف مع لشکر گئے، محاصرہ کیا، وہ ہارے اور انہیں جلا وطن کر دیا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:11560]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: {يا أيُّها الذين آمنوا}: بما أمروا بالإيمان به، قوموا بلازم إيمانكم، بأن تكونوا {قوَّامينَ لله شهداءَ بالقِسْط}: بأن تنشط للقيام بالقِسْط حركاتكُم الظاهرة والباطنة، وأنْ يكونَ ذلك القيام لله وحدَه لا لغرض من الأغراض الدنيويَّة، وأن تكونوا قاصدين للقِسْط الذي هو العدل، لا الإفراط ولا التفريط في أقوالكم ولا أفعالكم، وقوموا بذلك على القريب والبعيد والصديق والعدو. {ولا يَجْرِمَنَّكُم}؛ أي: يحملنَّكم بغض قوم {على أن لا تَعْدِلوا}؛ كما يفعله مَن لا عدل عنده ولا قِسْط، بل كما تشهدون لوليِّكم؛ فاشهدوا عليه، وكما تشهدون على عدوِّكم؛ فاشهدوا له، ولو كان كافراً أو مبتدعاً؛ فإنَّه يجب العدل فيه وقبول ما يأتي به من الحقِّ؛ [لأنه حقٌّ]، لا لأنه قاله، ولا يُرَدُّ الحق لأجل قوله؛ فإن هذا ظلم للحقِّ. {اعدِلوا هو أقرب للتَّقوى}؛ أي: كلما حرصتم على العدل واجتهدتم في العمل به؛ كان ذلك أقرب لتقوى قلوبكم؛ فإن تمَّ العدل؛ كملت التقوى، {إنَّ الله خبيرٌ بما تعملونَ}؛ فمجازيكم بأعمالكم خيرِها وشرِّها صغيرِها وكبيرِها جزاءً عاجلاً وآجلاً.