تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المائده (5) — آیت 77

قُلۡ یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ لَا تَغۡلُوۡا فِیۡ دِیۡنِکُمۡ غَیۡرَ الۡحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعُوۡۤا اَہۡوَآءَ قَوۡمٍ قَدۡ ضَلُّوۡا مِنۡ قَبۡلُ وَ اَضَلُّوۡا کَثِیۡرًا وَّ ضَلُّوۡا عَنۡ سَوَآءِ السَّبِیۡلِ ﴿٪۷۷﴾
کہہ دے اے اہل کتاب! اپنے دین میں ناحق حد سے نہ بڑھو اور اس قوم کی خواہشوں کے پیچھے مت چلو جو اس سے پہلے گمراہ ہو چکے اور انھوں نے بہت سوں کو گمراہ کیا اور وہ سیدھے راستے سے بھٹک گئے۔ En
کہو کہ اے اہل کتاب! اپنے دین (کی بات) میں ناحق مبالغہ نہ کرو اور ایسے لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلو جو (خود بھی) پہلے گمراہ ہوئے اور اَور بھی اکثروں کو گمراہ کر گئے اور سیدھے رستے سے بھٹک گئے
En
کہہ دیجیئے اے اہل کتاب! اپنے دین میں ناحق غلو اور زیادتی نہ کرو اور ان لوگوں کی نفسانی خواہشوں کی پیروی نہ کرو جو پہلے سے بہک چکے ہیں اور بہتوں کو بہکا بھی چکے ہیں اور سیدھی راه سے ہٹ گئے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا ہے ﴿ قُ٘لْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ غَیْرَ الْحَقِّ اے اہل کتاب! اپنے دین میں ناحق غلو نہ کرو یعنی حق سے تجاوز کر کے باطل میں نہ پڑو۔ ان کا یہ قول حضرت مسیح کے بارے میں ان کے اس قول کی مانند ہے جس کا ذکر گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے۔ یہ غلو بعض مشائخ کے بارے میں ان کے غلو کی مانند ہے۔ ایسا انھوں نے ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی کرتے ہوئے کیا، جن کی بابت کہا گیا تھا ﴿ وَلَا تَتَّبِعُوْۤا اَهْوَؔآءَؔ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ اور ایسے لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے نہ چلو جو (خود بھی) گمراہ ہوئے اس سے پہلے۔ یعنی ان کی گمراہی سامنے آچکی ہے۔ ﴿وَاَضَلُّوْا كَثِیْرًا اور (دوسرے) بہت سوں کو گمراہ کیا۔ یعنی جس دین پر یہ کاربند ہیں اس کی طرف دعوت دے کر بہت سے لوگوں کو گمراہ کر چکے ہیں ﴿وَّضَلُّوْا عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ اور سیدھے راستے سے بھٹک گئے۔ یعنی راہ اعتدال سے بھٹک گئے پس گمراہ ہونے اور دوسروں کو گمراہ کرنے، دونوں برائیوں کو انھوں نے جمع کر لیا۔ یہی وہ لوگ ہیں جو ائمہ ضلالت ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے ڈرایا ہے اور ان کی مہلک خواہشات اور گمراہ کن آراء سے بچنے کا حکم دیا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى لنبيِّه - صلى الله عليه وسلم -: {قل يا أهل الكتاب لا تَغْلوا في دينِكُم غير الحقِّ}؛ أي: لا تتجاوزوا، وتتعدُّوا، الحق إلى الباطل، وذلك كقولهم في المسيح ما تقدَّم حكايتُهُ عنهم، وكغلوِّهم في بعض المشايخ اتباعاً لأهواء {قوم قد ضَلُّوا من قبل}؛ أي: تقدم ضلالهم، {وأضلُّوا كثيراً}: من الناس بدعوتهم إيَّاهم إلى الدين الذي هم عليه، {وضلُّوا عن سواء السبيل}؛ أي: قصد الطريق، فجمعوا بين الضلال والإضلال، وهؤلاء هم أئمَّة الضَّلال الذين حَذَّرَ الله عنهم وعن اتِّباع أهوائهم المُرْدِيَة وآرائهم المضلَّة.