تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المائده (5) — آیت 78

لُعِنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡۢ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ عَلٰی لِسَانِ دَاوٗدَ وَ عِیۡسَی ابۡنِ مَرۡیَمَ ؕ ذٰلِکَ بِمَا عَصَوۡا وَّ کَانُوۡا یَعۡتَدُوۡنَ ﴿۷۸﴾
وہ لوگ جنھوں نے بنی اسرائیل میں سے کفر کیا، ان پر دائود اور مسیح ابن مریم کی زبان پر لعنت کی گئی۔ یہ اس لیے کہ انھوں نے نافرمانی کی اور وہ حد سے گزرتے تھے۔ En
جو لوگ بنی اسرائیل میں کافر ہوئے ان پر داؤد اور عیسیٰ بن مریم کی زبان سے لعنت کی گئی یہ اس لیے کہ نافرمانی کرتے تھے اور حد سے تجاوز کرتے تھے
En
بنی اسرائیل کے کافروں پر (حضرت) داؤد (علیہ السلام) اور (حضرت) عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کی زبانی لعنت کی گئی اس وجہ سے کہ وه نافرمانیاں کرتے تھے اور حد سے آگے بڑھ جاتے تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ لُ٘عِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ بنی اسرائیل کے کافروں پر لعنت کی گئی یعنی ان کو دھتکار دیا گیا اور اللہ کی رحمت سے دور کر دیا گیا ﴿ عَلٰى لِسَانِ دَاوٗدَ وَعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ داؤد اورعیسیٰ ابن مریم کی زبان پر یعنی ان دونوں کی گواہی اور ان کے اقرار پر، بایں طور پر کہ ان پر حجت قائم ہو گئی اور انھوں نے اس حجت و دلیل سے عناد رکھا ﴿ ذٰلِكَ یعنی یہ کفر اور لعنت ﴿ بِمَا عَصَوْا وَّكَانُوْا یَعْتَدُوْنَ اس لیے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے اور حد سے تجاوز کرتے تھے۔ یعنی اس وجہ سے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں پر ظلم کرتے تھے۔ یہ چیز ان کے کفر اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری کا سبب بن گئی کیونکہ گناہوں اور ظلم کی سزا ملتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم قال تعالى: {لُعِنَ الذينَ كفروا من بني إسرائيل}؛ أي: طُردوا وأبعدوا عن رحمة الله، {على لسان داود وعيسى ابن مريم}؛ أي: بشهادتهما وإقرارهما بأن الحجَّة قد قامت عليهم وعاندوها. {ذلك}: الكفر واللعن {بما عَصَوا وكانوا يعتدون}؛ أي: بعصيانهم لله وظُلمهم لعباد الله صار سبباً لكفرِهم وبعدِهم عن رحمة الله؛ فإنَّ للذُّنوب والظُّلم عقوبات.