تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المائده (5) — آیت 76

قُلۡ اَتَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَا لَا یَمۡلِکُ لَکُمۡ ضَرًّا وَّ لَا نَفۡعًا ؕ وَ اللّٰہُ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۷۶﴾
کہہ دے کیا تم اللہ کے سوا اس چیز کی عبادت کرتے ہو جو تمھارے لیے نہ کسی نقصان کی مالک ہے اور نہ نفع کی، اور اللہ ہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ En
کہو کہ تم خدا کے سوا ایسی چیز کی کیوں پرستش کرتے ہو جس کو تمہارے نفع اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں؟ اور خدا ہی (سب کچھ) سنتا جانتا ہے
En
آپ کہہ دیجیئے کہ کیا تم اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمہارے کسی نقصان کے مالک ہیں نہ کسی نفع کے، اللہ ہی خوب سننے اور پوری طرح جاننے واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قُ٘لْ یعنی اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کہہ دیجیے ﴿ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ کیا تم اللہ کے سوا مخلوق کی عبادت کرتے ہو جو محتاج اور فقیر ہیں ﴿ مَا لَا یَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّلَا نَفْعًا جو تمھارے لیے نفع اور نقصان کا اختیار نہیں رکھتے اور تم اس ہستی کو چھوڑ دیتے ہو جس اکیلی کے قبضۂ قدرت میں نفع و نقصان ہے اور صرف وہی ہستی ہے جو عطا کرتی اور محروم کرتی ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ هُوَ السَّمِیْعُ اور اللہ، وہی سننے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ مخلوق کے اختلافات زبان اور تنوع حاجات کے باوجود سب آوازیں سنتا ہے ﴿ الْعَلِیْمُ جاننے والا ہے۔ وہ ظاہر و باطن، غیب و شہادت اور ماضی اور مستقبل کے امور کو جانتا ہے۔ پس صاحب کمال ہستی جو ان اوصاف کی مالک ہے، وہی عبادت کی تمام انواع اور خالص اطاعت کی مستحق ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: {قل} لهم أيُّها الرسول، {أتعبُدون من دونِ الله}: من المخلوقين الفقراء المحتاجين، مَنْ {لا يملِكُ لكم ضَرًّا ولا نفعاً}: وتَدَعون مَن انفردَ بالضُّرِّ والنفع والعطاء والمنع، {والله هو السميع}: لجميع الأصوات باختلاف اللغات على تفنُّن الحاجات، {العليم}: بالظَّواهر والبواطن والغيب والشهادة والأمور الماضية والمستقبلة؛ فالكامل تعالى الذي هذه أوصافه هو الذي يستحقُّ أن يُفْرَدَ بجميع أنواع العبادة، ويُخْلَصَ له الدِّين.