قُلۡ اَتَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَا لَا یَمۡلِکُ لَکُمۡ ضَرًّا وَّ لَا نَفۡعًا ؕ وَ اللّٰہُ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۷۶﴾
کہہ دے کیا تم اللہ کے سوا اس چیز کی عبادت کرتے ہو جو تمھارے لیے نہ کسی نقصان کی مالک ہے اور نہ نفع کی، اور اللہ ہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
En
کہو کہ تم خدا کے سوا ایسی چیز کی کیوں پرستش کرتے ہو جس کو تمہارے نفع اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں؟ اور خدا ہی (سب کچھ) سنتا جانتا ہے
En
آپ کہہ دیجیئے کہ کیا تم اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمہارے کسی نقصان کے مالک ہیں نہ کسی نفع کے، اللہ ہی خوب سننے اور پوری طرح جاننے واﻻ ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 76) {قُلْ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ……:} یہ نصاریٰ کے عقیدے کی تردید پر دوسری دلیل ہے، مطلب یہ ہے کہ جن کی تم عبادت کرتے ہو ان میں الوہیت (معبود ہونے) کا کوئی وصف بھی نہیں ہے، ان کا دوسروں کو نفع پہنچانا یا نقصان سے بچانا تو کجا وہ تو خود اپنے سے دشمنوں کے ظلم کو دفع کرنے کے لیے اﷲ کے حضور گڑ گڑا کر دعا کرتے رہے کہ اے اﷲ! مجھ سے مصیبت کا یہ وقت ٹال دے۔ پھر اس کے بعد اگر اس سمیع و علیم کو چھوڑ کر عیسیٰ علیہ السلام کو اپنا معبود بناؤ تو اس سے بڑھ کر جہالت اور کیا ہو گی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
76۔ 1 یہ مشرکوں کی کم عقلی کی وضاحت کی جا رہی ہے کہ ایسوں کو انہوں نے معبود بنا رکھا ہے جو کسی کو نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان، بلکہ نقصان پہنچانا تو کجا، وہ تو کسی کی بات سننے اور کسی کا حال جاننے کی ہی قدرت نہیں رکھتے۔ یہ قدرت صرف اللہ ہی کے اندر ہے۔ اس لئے حاجت روا مشکل کشا بھی صرف وہی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
76۔ آپ ان سے کہئے: کیا تم اللہ کو چھوڑ کر اس کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمہارے نقصان کا کچھ اختیار رکھتا [122] ہے اور نہ نفع کا۔ اور اللہ ہی سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے
[122] اس آیت میں عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ کی الوہیت کی تردید میں چوتھی دلیل بیان کی گئی ہے یعنی وہ دونوں اپنے بھی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے تھے۔ یہود نے انہیں ایذائیں اور دکھ پہنچائے وہ از خود ان کی مدافعت بھی نہ کرسکتے تھے۔ یہود نے سیدہ مریم پر زنا کی تہمت لگائی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی بریت بیان فرمائی اور ان کی معجزانہ پیدائش کو واضح طور پر بیان کیا لیکن یہود پھر بھی باز نہ آئے۔ اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی بھر ان کے درپے آزار رہے حتیٰ کہ حکومت سے ساز باز کر کے انہیں سولی پر چڑھوا دیا۔ لیکن یہ دونوں نہ اپنے آپ کی مدافعت کرسکے نہ یہود کا کچھ بگاڑ سکے پھر کیا وہ اللہ یا الٰہ یا الوہیت میں شریک قرار دیئے جاسکتے ہیں؟ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
معبودان باطل کی جو اللہ کے سوا ہیں عبادت کرنے سے ممانعت کی جاتی ہے کہ ان تمام لوگوں سے کہہ تو دو کہ جو تم سے ضرر کو دفع کرنے کی اور نفع کے پہنچانے کی کچھ بھی طاقت نہیں رکھتے، آخر تم کیوں انہیں پوجے چلے جا رہے ہو؟ تمام باتوں کے سننے والے تمام چیزوں سے باخبر اللہ سے ہٹ کر بے سمع و بصر، بے ضرر و بے نفع و بے قدر اور بے قدرت چیزوں کے پیچھے پڑ جانا یہ کون سی عقلمندی ہے؟ اے اہل کتاب اتباع حق کی حدود سے آگے نہ بڑھو، جس کی توقیر کرنے کا جتنا حکم ہو اتنی ہی اس کی توقیر کرو۔ انسانوں کو جنہیں اللہ نے نبوت دی ہے نبوت کے درجے سے معبود تک نہ پہنچاؤ۔ جیسے کہ تم جناب مسیح کے بارے میں غلطی کر رہے ہو اور اس کی اور کوئی وجہ نہیں بجز اس کے کہ تم اپنے پیروں مرشدوں استادوں اور اماموں کے پیچھے لگ گئے ہو وہ تو خود ہی گمراہ ہیں بلکہ گمراہ کن ہیں۔ استقامت اور عدل کے راستے کو چھوڑے ہوئے انہیں زمانہ گزر گیا۔ ضلالت اور بدعتوں میں مبتلا ہوئے عرصہ ہو گیا۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک شخص ان میں بڑا پابند دین حق تھا ایک زمانہ کے بعد شیطان نے اسے بہکا دیا کہ جو اگلے کر گئے وہی تم بھی کر رہے ہو اس میں کیا رکھا ہے؟ اس کی وجہ سے نہ تو لوگوں میں تمہاری قدر ہو گی نہ شہرت تمہیں چاہیئے کہ کوئی نئی بات ایجاد کرو اسے لوگوں میں پھیلاؤ پھر دیکھو کہ کیسی شہرت ہوتی ہے؟ اور کس طرح جگہ بہ جگہ تمہارا ذکر ہونے لگتا ہے چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا اس کی بدعتیں لوگوں میں پھیل گئیں اور زمانہ اس کی تقلید کرنے لگا۔ اب تو اسے بڑی ندامت ہوئی سلطنت و ملک چھوڑ دیا اور تنہائی میں اللہ کی عبادتوں میں مشغول ہو گیا لیکن اللہ کی طرف سے اسے جواب ملا کہ میری خطا ہی صرف کی ہوتی تو میں معاف کر دیتا لیکن تو نے عام لوگوں کو بگاڑ دیا اور انہیں گمراہ کر کے غلط راہ پر لگا دیا۔ جس راہ پر چلتے چلتے وہ مر گئے ان کا بوجھ تجھ پر سے کیسے ٹلے گا؟ میں تو تیری توبہ قبول نہیں فرماؤں گا پس ایسوں ہی کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک شخص ان میں بڑا پابند دین حق تھا ایک زمانہ کے بعد شیطان نے اسے بہکا دیا کہ جو اگلے کر گئے وہی تم بھی کر رہے ہو اس میں کیا رکھا ہے؟ اس کی وجہ سے نہ تو لوگوں میں تمہاری قدر ہو گی نہ شہرت تمہیں چاہیئے کہ کوئی نئی بات ایجاد کرو اسے لوگوں میں پھیلاؤ پھر دیکھو کہ کیسی شہرت ہوتی ہے؟ اور کس طرح جگہ بہ جگہ تمہارا ذکر ہونے لگتا ہے چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا اس کی بدعتیں لوگوں میں پھیل گئیں اور زمانہ اس کی تقلید کرنے لگا۔ اب تو اسے بڑی ندامت ہوئی سلطنت و ملک چھوڑ دیا اور تنہائی میں اللہ کی عبادتوں میں مشغول ہو گیا لیکن اللہ کی طرف سے اسے جواب ملا کہ میری خطا ہی صرف کی ہوتی تو میں معاف کر دیتا لیکن تو نے عام لوگوں کو بگاڑ دیا اور انہیں گمراہ کر کے غلط راہ پر لگا دیا۔ جس راہ پر چلتے چلتے وہ مر گئے ان کا بوجھ تجھ پر سے کیسے ٹلے گا؟ میں تو تیری توبہ قبول نہیں فرماؤں گا پس ایسوں ہی کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ قُ٘لْ ﴾ یعنی اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کہہ دیجیے ﴿ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ﴾ کیا تم اللہ کے سوا مخلوق کی عبادت کرتے ہو جو محتاج اور فقیر ہیں ﴿ مَا لَا یَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّلَا نَفْعًا﴾ ”جو تمھارے لیے نفع اور نقصان کا اختیار نہیں رکھتے“ اور تم اس ہستی کو چھوڑ دیتے ہو جس اکیلی کے قبضۂ قدرت میں نفع و نقصان ہے اور صرف وہی ہستی ہے جو عطا کرتی اور محروم کرتی ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ هُوَ السَّمِیْعُ ﴾ ”اور اللہ، وہی سننے والا ہے۔“ اللہ تعالیٰ مخلوق کے اختلافات زبان اور تنوع حاجات کے باوجود سب آوازیں سنتا ہے ﴿ الْعَلِیْمُ﴾ ”جاننے والا ہے۔“ وہ ظاہر و باطن، غیب و شہادت اور ماضی اور مستقبل کے امور کو جانتا ہے۔ پس صاحب کمال ہستی جو ان اوصاف کی مالک ہے، وہی عبادت کی تمام انواع اور خالص اطاعت کی مستحق ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: {قل} لهم أيُّها الرسول، {أتعبُدون من دونِ الله}: من المخلوقين الفقراء المحتاجين، مَنْ {لا يملِكُ لكم ضَرًّا ولا نفعاً}: وتَدَعون مَن انفردَ بالضُّرِّ والنفع والعطاء والمنع، {والله هو السميع}: لجميع الأصوات باختلاف اللغات على تفنُّن الحاجات، {العليم}: بالظَّواهر والبواطن والغيب والشهادة والأمور الماضية والمستقبلة؛ فالكامل تعالى الذي هذه أوصافه هو الذي يستحقُّ أن يُفْرَدَ بجميع أنواع العبادة، ويُخْلَصَ له الدِّين.