بلاشبہ یقینا ان لوگوں نے کفر کیا جنھوں نے کہا بے شک اللہ تین میں سے تیسرا ہے، حالانکہ کوئی بھی معبود نہیں مگر ایک معبود، اور اگر وہ اس سے باز نہ آئے جو وہ کہتے ہیں تو یقینا ان میں سے جن لوگوں نے کفر کیا انھیں ضرور درد ناک عذاب پہنچے گا۔
En
وہ لوگ (بھی) کافر ہیں جو اس بات کے قائل ہیں کہ خدا تین میں کا تیسرا ہے حالانکہ اس معبود یکتا کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اگر یہ لوگ ایسے اقوال (وعقائد) سے باز نہیں آئیں گے تو ان میں جو کافر ہوئے ہیں وہ تکلیف دینے والا عذاب پائیں گے
وه لوگ بھی قطعاً کافر ہوگئے جنہوں نے کہا، اللہ تین میں کا تیسرا ہے، دراصل سوا اللہ تعالیٰ کے کوئی معبود نہیں۔ اگر یہ لوگ اپنے اس قول سے باز نہ رہے تو ان میں سے جو کفر پر رہیں گے، انہیں المناک عذاب ضرور پہنچے گا
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ لَقَدْكَفَرَالَّذِیْنَقَالُوْۤااِنَّاللّٰهَثَالِثُثَلٰ٘ثَةٍ﴾”یقینا ان لوگوں نے کفر کیا جنھوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ تین میں سے تیسرا ہے“ یہ نصاریٰ کا قول ہے جو ان کے ہاں متفق علیہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تین میں سے تیسرا ہے یعنی اللہ تعالیٰ،عیسیٰ اور مریم... اللہ ان کے قول باطل سے بالا و بلند تر ہے ... یہ نصاریٰ کی کم عقلی کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ انھوں نے اس بدترین قول اور قبیح ترین عقیدے کو کیسے قبول کر لیا؟ ان پر خالق اور مخلوق کیسے مشتبہ ہو گئے؟ جہانوں کا رب ان پر کیسے مخفی رہ گیا؟
اللہ تعالیٰ نے ان کا اور ان جیسے دیگر لوگوں کا رد کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمَامِنْاِلٰهٍاِلَّاۤاِلٰ٘هٌوَّاحِدٌ﴾”اور نہیں ہے کوئی معبود مگر ایک ہی معبود“ جو ہر صفت کمال سے متصف اور ہر نقص سے پاک ہے، وہ تخلیق و تدبیر کائنات میں متفرد ہے۔ مخلوق کے پاس جو بھی نعمت ہے وہ اسی کی طرف سے ہے۔ پس اس کے ساتھ غیر اللہ کو کیسے معبود بنایا جا سکتا ہے؟ اللہ تعالیٰ اس بات سے بہت بلند ہے جو یہ ظالم کہتے ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَاِنْلَّمْیَنْتَهُوْاعَمَّؔایَقُوْلُوْنَلَ٘یَ٘مَسَّنَّالَّذِیْنَكَفَرُوْامِنْهُمْعَذَابٌاَلِیْمٌ﴾”اگر وہ اپنے اس عقیدے سے باز نہ آئے تو ان میں سے جو لوگ کافر ہیں انھیں ضرور دردناک عذاب پہنچے گا“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{لقد كَفَرَ الذين قالوا إنَّ الله ثالث ثلاثة}: وهذا من أقوال النصارى المنصورة عندهم، زعموا أنَّ الله ثالث ثلاثة؛ الله، وعيسى، ومريم! تعالى الله عن قولهم علوًّا كبيراً، وهذا أكبر دليل على قلة عقول النصارى؛ كيف قَبِلوا هذه المقالة الشنعاء والعقيدة القبيحة؟! كيف اشتبه عليهم الخالق بالمخلوق؟! كيف خفي عليهم ربُّ العالمين؟! قال تعالى رادًّا عليهم وعلى أشباههم: {وما من إله إلَّا إلهٌ واحدٌ}: متصف بكل صفة كمال، منزَّه عن كل نقص، منفرد بالخلق والتدبير، ما بالخلق من نعمة إلاَّ منه؛ فكيف يُجْعَلُ معه إله غيره، تعالى الله عما يقولُ الظالمون علوًّا كبيراً. ثم توعدهم بقوله: {وإن لم يَنتَهُوا عمَّا يقولونَ لَيَمَسَّنَّ الذين كفروا منهم عذابٌ أليم}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔