تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المائده (5) — آیت 72

لَقَدۡ کَفَرَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡمَسِیۡحُ ابۡنُ مَرۡیَمَ ؕ وَ قَالَ الۡمَسِیۡحُ یٰبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ اعۡبُدُوا اللّٰہَ رَبِّیۡ وَ رَبَّکُمۡ ؕ اِنَّہٗ مَنۡ یُّشۡرِکۡ بِاللّٰہِ فَقَدۡ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیۡہِ الۡجَنَّۃَ وَ مَاۡوٰىہُ النَّارُ ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیۡنَ مِنۡ اَنۡصَارٍ ﴿۷۲﴾
بلاشبہ یقینا ان لوگوں نے کفر کیا جنھوں نے کہا بے شک اللہ مسیح ابن مریم ہی ہے، اور مسیح نے کہا اے بنی اسرائیل! اللہ کی عبادت کرو، جو میرا رب اور تمھارا رب ہے۔ بے شک حقیقت یہ ہے کہ جو بھی اللہ کے ساتھ شریک بنائے سو یقینا اس پر اللہ نے جنت حرام کر دی اور اس کا ٹھکانا آگ ہے اور ظالموں کے لیے کوئی مدد کرنے والے نہیں۔ En
وہ لوگ بےشبہ کافر ہیں جو کہتے ہیں کہ مریم کے بیٹے (عیسیٰ) مسیح خدا ہیں حالانکہ مسیح یہود سے یہ کہا کرتے تھے کہ اے بنی اسرائیل خدا ہی کی عبادت کرو جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی (اور جان رکھو کہ) جو شخص خدا کے ساتھ شرک کرے گا خدا اس پر بہشت حرام کر دے گا اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں
En
بے شک وه لوگ کافر ہوگئے جن کا قول ہے کہ مسیح ابن مریم ہی اللہ ہے حاﻻنکہ خود مسیح نے ان سے کہا تھا کہ اے بنی اسرائیل! اللہ ہی کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا سب کا رب ہے، یقین مانو کہ جو شخص اللہ کے ساتھ شریک کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے، اس کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے اور گنہگاروں کی مدد کرنے واﻻ کوئی نہیں ہوگا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نصاریٰ کے کفر کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے ان کے اس قول کو نقل فرماتا ہے ﴿ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْ٘مَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ بے شک اللہ، وہی مسیح ابن مریم ہے اس شبہہ کی وجہ سے کہ ان کو ان کی ماں نے بغیر باپ کے جنم دیا اور وہ تخلیق میں عادت الٰہی کے خلاف متولد ہوئے... دراں حالیکہ عیسیٰ علیہ السلام نے خود ان کے اس دعوے کی تکذیب کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَرَبَّكُمْ اے بنی اسرائیل! اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمھارا رب ہے مسیح علیہ السلام نے اپنے لیے کامل عبودیت اور اپنے رب کے لیے کامل ربوبیت کا اثبات کیا ہے جو تمام مخلوق کو شامل ہے۔ ﴿ اِنَّهٗ مَنْ یُّ٘شْ٘رِكْ بِاللّٰهِ جو کوئی مخلوق میں سے کسی کو بھی، (خواہ وہ عیسیٰ علیہ السلام ہوں یا کوئی اور...) اللہ کا شریک ٹھہراتا ہے۔﴿ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ الْجَنَّةَ وَمَاْوٰىهُ النَّارُ تحقیق اللہ نے اس پر جنت حرام کر دی اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے کیونکہ اس نے مخلوق کو خالق کے برابر ٹھہرا دیا اور اس چیز کو جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اسے تخلیق فرمایا۔۔، یعنی خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت.... اللہ تعالیٰ کی طرف سے پھیر کر غیر اللہ کی طرف کر دیا... اس لیے وہ اس بات کا مستحق ہے کہ ہمیشہ جہنم میں رہے ﴿ وَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ اور ظالموں کے لیے کوئی مددگار نہیں ہو گا جو انھیں اللہ کے عذاب سے بچا سکیں یا ان سے اس مصیبت کو دور کر سکیں جو ان پر نازل ہوئی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى عن كفر النصارى بقولهم: {إنَّ الله هو المسيح ابن مريم}: بشبهةِ أنه خرج من أمٍّ بلا أبٍ وخالف المعهود من الخلقة الإلهية، والحال أنه عليه الصلاة والسلام قد كذَّبهم في هذه الدعوى وقال لهم: {يا بني إسرائيل اعبدوا الله ربِّي وربَّكم}: فأثبت لنفسه العبوديَّة التامَّة ولربِّه الربوبيَّة الشاملة لكل مخلوق. {إنه مَن يشرِك بالله}: أحداً من المخلوقين لا عيسى ولا غيره، {فقد حرَّم الله عليه الجنة ومأواه النار}: وذلك لأنه سوَّى الخَلْق بالخالق، وصَرَفَ ما خلقه الله له، وهو العبادة الخالصة لغير من هي له، فاستحقَّ أن يخلد في النار. {وما للظَّالمين من أنصار}: ينقذونهم من عذاب الله، أو يدفعون عنهم بعضَ ما نزل بهم.