تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تعالیٰ نے انھیں اس گناہ سے توبہ کرنے کی دعوت دی جو ان سے صادر ہوا اور بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔ فرمایا: ﴿ اَفَلَایَتُوْبُوْنَاِلَىاللّٰهِ ﴾”کیا پس وہ اللہ کی طرف توبہ نہیں کرتے“ یعنی وہ اپنی بات کو چھوڑ کر اس چیز کی طرف کیوں نہیں لوٹتے جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید کا اقرار اور اس حقیقت کا اعتراف کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔
﴿ وَیَسْتَغْفِرُوْنَهٗ﴾ اور ان گناہوں کی بخشش کیوں نہیں مانگتے جو ان سے صادر ہوئے ہیں ﴿ وَاللّٰهُغَفُوْرٌرَّحِیْمٌ﴾”اور اللہ تو بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کے گناہ بخش دیتا ہے خواہ وہ آسمان کی بلندیوں تک کیوں نہ پہنچے ہوئے ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کر کے اور ان کی برائیوں کو نیکیوں میں تبدیل کر کے ان پر رحم فرماتا ہے۔ ان کو توبہ کی دعوت اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے صادر ہوتی ہے جو لطف و کرم اور مہربانی کی انتہا ہے ﴿اَفَلَایَتُوْبُوْنَاِلَىاللّٰهِ ﴾”کیا پس وہ اللہ کی طرف توبہ نہیں کرتے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم دعاهم إلى التوبة عما صدر منهم، وبيَّن أنه يقبل التوبة عن عباده، فقال: {أفلا يتوبون إلى الله}؛ أي: يرجعون إلى ما يحبُّه ويرضاه من الإقرار لله بالتوحيد، وبأن عيسى عبد الله ورسوله، وعما كانوا يقولونه {ويَسْتَغْفِرونَه} عن ما صدر منهم، {والله غفورٌ رحيم}؛ أي: يغفر ذنوب التائبين، ولو بلغت عنان السماء، ويرحمهم بقبول توبتهم وتبديل سيئاتهم حسنات، وصدَّر دعوتهم إلى التوبة بالعرض الذي هو في غاية اللطف واللين في قوله: {أفلا يتوبونَ إلى الله}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔