تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المائده (5) — آیت 71

وَ حَسِبُوۡۤا اَلَّا تَکُوۡنَ فِتۡنَۃٌ فَعَمُوۡا وَ صَمُّوۡا ثُمَّ تَابَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ ثُمَّ عَمُوۡا وَ صَمُّوۡا کَثِیۡرٌ مِّنۡہُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ بَصِیۡرٌۢ بِمَا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۷۱﴾
اور انھوں نے سمجھا کہ کوئی فتنہ واقع نہ ہوگا تو وہ اندھے ہوگئے اور بہرے ہوگئے، پھر اللہ ان پر مہربان ہوگیا، پھر ان میں بہت سے اندھے ہو گئے اور بہرے ہوگئے اور اللہ خوب دیکھنے والا ہے جو وہ کرتے ہیں۔ En
اور خیال کرتے تھے کہ (اس سے ان پر) کوئی آفت نہیں آنے کی تو وہ اندھے اور بہرے ہو گئے پھر خدا نے ان پر مہربانی فرمائی (لیکن) پھر ان میں سے بہت سے اندھے اور بہرے ہو گئے اور خدا ان کے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے
En
اور سمجھ بیٹھے کہ کوئی پکڑ نہ ہوگی، پس اندھے بہرے بن بیٹھے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کی، اس کے بعد بھی ان میں سے اکثر اندھے بہرے ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو بخوبی دیکھنے واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَحَسِبُوْۤا اَلَّا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ اور یہ خیال کرتے تھے کہ کوئی آفت نہیں آنے کی۔ یعنی وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی نافرمانی اور ان کی تکذیب کی وجہ سے ان پر عذاب نہیں آئے گا۔ نہ ان کو سزا دی جائے گی اور وہ اپنے باطل پر ہمیشہ قائم رہیں گے ﴿ فَعَمُوْا وَصَمُّوْا پس وہ (حق دیکھنے سے) اندھے اور (حق بولنے سے) گونگے ہو گئے ﴿ ثُمَّ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ پھر اللہ نے ان پر مہربانی فرمائی یعنی پھر اللہ تعالیٰ نے ان لغزشوں کو نظر انداز کر دیا جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے پاس توبہ کی اور اس کی طرف رجوع کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر لی ﴿ ثُمَّ پھر انھوں نے اس توبہ پر دوام نہ کیا یہاں تک کہ ان کے اکثر لوگ بدترین احوال کی طرف پلٹ گئے ﴿ عَمُوْا وَصَمُّوْا كَثِیْرٌ مِّؔنْهُمْ ان میں سے بہت سے اندھے اور بہرے ہوگئے۔ یعنی انھی اوصاف کے ساتھ وہ پھر اندھے اور گونگے ہو گئے۔ ان میں سے بہت کم لوگ اپنی توبہ اور ایمان پر قائم رہے ﴿ وَاللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ اور اللہ، وہ جو کچھ کرتے ہیں، اس کو دیکھتا ہے پس اللہ تعالیٰ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کی جزا دے گا۔ اگر اچھا عمل ہوا تو اچھی جزا ہو گی اور اگر برا عمل ہوا تو بری جزاہو گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وحَسِبوا أن لا تكون فتنةٌ}؛ أي: ظنوا أنَّ معصيتهم وتكذيبهم لا يجرُّ عليهم عذاباً ولا عقوبة، واستمرُّوا على باطلهم، وعَموا {وصَمُّوا}: عن الحق. {ثم}: نعشهم ، و {تاب عليهم} حين تابوا إليه وأنابوا. {ثم} لم يستمرُّوا على ذلك حتى انقلب أكثرهم إلى الحال القبيحة؛ فـ {عَمُوا وصَمُّوا كثيرٌ منهم}: بهذا الوصف، والقليل استمرُّوا على توبتهم وإيمانهم. {والله بصيرٌ بما يعملون}: فيجازي كلَّ عامل بعمله إن خيراً فخيرٌ وإن شرًّا فشرٌّ.