تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المائده (5) — آیت 60

قُلۡ ہَلۡ اُنَبِّئُکُمۡ بِشَرٍّ مِّنۡ ذٰلِکَ مَثُوۡبَۃً عِنۡدَ اللّٰہِ ؕ مَنۡ لَّعَنَہُ اللّٰہُ وَ غَضِبَ عَلَیۡہِ وَ جَعَلَ مِنۡہُمُ الۡقِرَدَۃَ وَ الۡخَنَازِیۡرَ وَ عَبَدَ الطَّاغُوۡتَ ؕ اُولٰٓئِکَ شَرٌّ مَّکَانًا وَّ اَضَلُّ عَنۡ سَوَآءِ السَّبِیۡلِ ﴿۶۰﴾
کہہ دے کیا میں تمھیں اللہ کے نزدیک جزا کے اعتبار سے اس سے زیادہ برے لوگ بتائوں، وہ جن پر اللہ نے لعنت کی اور جن پر غصے ہوا اور جن میں سے بندر اور خنزیر بنا دیے اور جنھوں نے طاغوت کی عبادت کی، یہ لوگ درجے میں زیادہ برے اور سیدھے راستے سے زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔ En
کہو کہ میں تمہیں بتاؤں کہ خدا کے ہاں اس سے بھی بدتر جزا پانے والے کون ہیں؟ وہ لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی اور جن پر وہ غضبناک ہوا اور (جن کو) ان میں سے بندر اور سور بنا دیا اور جنہوں نے شیطان کی پرستش کی ایسے لوگوں کا برا ٹھکانہ ہے اور وہ سیدھے رستے سے بہت دور ہیں
En
کہہ دیجیئے کہ کیا میں تمہیں بتاؤں؟ کہ اس سے بھی زیاده برے اجر پانے واﻻ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کون ہے؟ وه جس پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی اور اس پر وه غصہ ہوا اور ان میں سے بعض کو بندر اور سور بنا دیا اور جنہوں نے معبودان باطل کی پرستش کی، یہی لوگ بدتر درجے والے ہیں اور یہی راه راست سے بہت زیاده بھٹکنے والے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اہل ایمان پر ان کا طعن و تشنیع کرنا اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ اہل ایمان میں برائی ہے اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ﴿قُ٘لْ یعنی ان کی برائی اور قباحت کے بارے میں ان کو آگاہ کرتے ہوئے کہہ دیجیے ﴿ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكَ کیا میں تمھیں خبر دوں اس سے بھی بری بات کی جس کے بارے میں تم ہمیں طعن و تشنیع کرتے ہو اس کو صحیح فرض کرتے ہوئے ﴿ مَنْ لَّعَنَهُ اللّٰهُ جس پر اللہ نے لعنت کی۔ یعنی اس کو اپنی رحمت سے دور کر دیا ﴿ وَغَضِبَ عَلَیْهِ اس پر غضب نازل کیا یعنی اسے دنیا و آخرت کے عذاب میں مبتلا کیا ﴿ وَجَعَلَ مِنْهُمُ الْ٘قِرَدَةَ وَالْخَنَازِیْرَ وَعَبَدَ الطَّاغُ٘وْتَ اور ان میں سے بعضوں کو بندر اور سور بنا دیا اور جنھوں نے طاغوت کی بندگی کی یہاں طاغوت سے مراد شیطان ہے اور ہر وہ چیز جس کی اللہ کے سوا عبادت کی جائے، وہ طاغوت ہے۔
﴿ اُولٰٓىِٕكَ یعنی وہ لوگ جن کا ان قبیح خصائل کے حوالے سے ذکر کیا گیا ہے ﴿ شَرٌّ مَّكَانًا ان کا ٹھکانا (اہل ایمان سے) برا ہے۔ اہل ایمان اللہ تعالیٰ کی رحمت کے ان کی نسبت زیادہ قریب ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے اس نے ان کو دنیا و آخرت میں ثواب سے نواز دیا ہے کیونکہ انھوں نے اپنے دین کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کر لیا۔
یہ (اَفْعَلْ التَّفْضِیل) کو ایک دوسرے اسلوب میں استعمال کرنے کی نوع ہے۔ اور اسی طرح یہ قول ہے۔
﴿ وَّاَضَلُّ عَنْ سَوَؔآءِ السَّبِیْلِ اور بہت بہکے ہوئے ہیں سیدھی راہ سے یعنی وہ اعتدال کی راہ سے بہت دور ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولما كان قدحهم في المؤمنين يقتضي أنهم يعتقدون أنهم على شرٍّ؛ قال تعالى: {قل} لهم مخبراً عن شناعة ما كانوا عليه: {هل أنبِّئُكم بشرٍّ من ذلك}: الذي نقمتُم فيه علينا مع التنزُّل معكم، {مَن لَعَنَهُ الله}؛ أي: أبعده عن رحمته، {وغضِبَ عليه}: وعاقبه في الدُّنيا والآخرة، {وجعل منهم القِردةَ والخنازير و} [مَنْ] {عَبَدَ الطاغوت}: وهو الشيطانُ، وكلُّ ما عُبِدَ من دون الله فهو طاغوت. {أولئك} المذكورون بهذه الخصال القبيحة {شرٌّ مكاناً}: من المؤمنين الذين رحمة الله قريبٌ منهم، ورضي الله عنهم، وأثابهم في الدُّنيا والآخرة؛ لأنهم أخلصوا له الدين، وهذا النوع من باب استعمال أفعل التفضيل في غير بابه، وكذلك قوله: {وأضلُّ عن سواءِ السبيل}؛ أي: وأبعد عن قصد السبيل.