تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المائده (5) — آیت 61

وَ اِذَا جَآءُوۡکُمۡ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا وَ قَدۡ دَّخَلُوۡا بِالۡکُفۡرِ وَ ہُمۡ قَدۡ خَرَجُوۡا بِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ اَعۡلَمُ بِمَا کَانُوۡا یَکۡتُمُوۡنَ ﴿۶۱﴾
اور جب وہ تمھارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے، حالانکہ یقینا وہ کفر کے ساتھ داخل ہوئے اور یقینا اسی کے ساتھ وہ نکل گئے اور اللہ زیادہ جاننے والا ہے جو وہ چھپاتے تھے۔ En
اور جب یہ لوگ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے حالانکہ کفر لے کر آتے ہیں اور اسی کو لیکر جاتے ہیں اور جن باتوں کو یہ مخفی رکھتے ہیں خدا ان کو خوب جانتا ہے
En
اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان ﻻئے حاﻻنکہ وه کفر لئے ہوئے ہی آئے تھے اور اسی کفر کے ساتھ ہی گئے بھی اور یہ جو کچھ چھپا رہے ہیں اسے اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَاِذَا جَآءُوْؔكُمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا اور جب وہ تمھارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے یعنی وہ مکرو فریب اور نفاق کی بنا پر کہتے ہیں ﴿ وَقَدْ دَّخَلُوْا بِالْ٘كُفْرِ وَهُمْ قَدْ خَرَجُوْا بِهٖ حالانکہ وہ کفر لے کر آتے ہیں اور اسی کو لے کر جاتے ہیں۔ یعنی وہ اس حال میں داخل ہوئے کہ وہ کفر میں گھرے ہوئے تھے اور اسی کے ساتھ وہ نکلے۔ پس ان کا داخل ہونا اور ان کا نکلنا کفر کے ساتھ ہے۔ بایں ہمہ وہ اپنے آپ کو مومن کہتے ہیں۔ ان سے زیادہ برا اور ان سے زیادہ بدحال کوئی اور ہو سکتا ہے؟ ﴿وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا كَانُوْا یَكْ٘تُمُوْنَ اور اللہ خوب جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں پس اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اچھے، برے اعمال کا بدلہ دے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وإذا جاؤوكم قالوا آمنَّا}: نفاقاً ومكراً، {و} هم {قد دخلوا} مشتملينَ على الكفرِ {وهم قد خرجوا به}؛ فمدخلُهم ومخرجُهم بالكفر، وهم يزعُمون أنهم مؤمنون؛ فهل أشرُّ من هؤلاء وأقبحُ حالاً منهم؟! {والله أعلم بما كانوا يكتُمون}: فيُجازيهم بأعمالهم خيرِها وشرِّها.