تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المائده (5) — آیت 59

قُلۡ یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ ہَلۡ تَنۡقِمُوۡنَ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡنَا وَ مَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلُ ۙ وَ اَنَّ اَکۡثَرَکُمۡ فٰسِقُوۡنَ ﴿۵۹﴾
کہہ دے اے اہل کتاب! تم ہم سے اس کے سوا کس چیز کا انتقام لیتے ہو کہ ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس پر جو ہماری طرف نازل کیا گیا اور اس پر بھی جو اس سے پہلے نازل کیا گیا اور یہ کہ تمھارے اکثر نافرمان ہیں۔ En
کہو کہ اے اہل کتاب! تم ہم میں برائی ہی کیا دیکھتے ہو سوا اس کے کہ ہم خدا پر اور جو (کتاب) ہم پر نازل ہوئی اس پر اور جو (کتابیں) پہلے نازل ہوئیں ان پر ایمان لائے ہیں اور تم میں اکثر بدکردار ہیں
En
آپ کہہ دیجیئے اے یہودیوں اور نصرانیو! تم ہم سے صرف اس وجہ سے دشمنیاں کر رہے ہو کہ ہم اللہ تعالیٰ پر اور جو کچھ ہماری جانب نازل کیا گیا ہے اور جو کچھ اس سے پہلے اتارا گیا ہے اس پر ایمان ﻻئے ہیں اور اس لئے بھی کہ تم میں اکثر فاسق ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قُ٘لْ یعنی اے رسول کہہ دیجیے ﴿ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ اے اہل کتاب! یعنی ان پر حجت لازم کرتے ہوئے۔ بلاشبہ دین اسلام دین حق ہے اور اس میں طعن و تشنیع ایک ایسے معاملے میں طعن و تشنیع ہے جو درحقیقت مدح کے لائق ہے۔ ﴿ هَلْ تَنْقِمُوْنَ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَمَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ١ۙ وَاَنَّ اَكْثَ٘رَؔكُمْ فٰسِقُوْنَ تم ہم میں برائی ہی کیا دیکھتے ہو سوائے اس کے کہ ہم اللہ پر اور جو (کتاب) ہم پر نازل ہوئی اس پر اور جو (کتابیں) پہلے نازل ہوئیں ان پر ایمان لائے ہیں اور تم میں اکثر فاسق ہیں۔ یعنی اس کے سوا ہم میں اور کیا عیب ہے کہ ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں، اس کی گزشتہ کتابوں اور انبیائے متقدمین و متاخرین پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور ہم نہایت جزم کے ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ جو کوئی اس ایمان جیسا ایمان نہیں رکھتا وہ کافر اور فاسق ہے۔ کیا تم صرف اس امر کی بنا پر ہمیں طعن و تشنیع کرتے ہو جو تمام مکلفین پر سب سے زیادہ فرض ہے۔ اور بایں ہمہ کہ ان میں سے اکثر فاسق ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے باہر اور اس کی نافرمانی کی جسارت کرنے والے ہیں تو اے فاسقو! تمھارے لیے خاموش رہنا ہی بہتر ہے۔ پس اگر تم میں یہی عیب ہوتا جبکہ تم فسق سے پاک ہوتے، حالانکہ یہ بہت بعید ہے... تو یہ برائی تمھارے فسق کی معیت میں تمھارے ہماری بابت طعن و تشنیع سے خفیف تر ہوتی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: {قل} يا أيُّها الرسول: {يا أهل الكتاب}؛ ملزماً لهم: إن دين الإسلام هو الدين الحق، وإن قدحهم فيه قدحٌ بأمر ينبغي المدح عليه، {هل تَنقِمونَ منَّا إلَّا أن آمنَّا بالله وما أُنزِلَ إلينا وما أُنزِلَ من قبلُ وأنَّ أكثركم فاسقونَ}؛ أي: هل لنا من العيب إلاَّ إيماننا بالله وبكتبه السابقة واللاحقة وبأنبيائه المتقدِّمين والمتأخِّرين؟! وبأننا نجزم أنَّ من لم يؤمن كهذا الإيمان؛ فإنه كافر فاسق؛ فهل تنقِمون منَّا بهذا الذي هو أوجب الواجبات على جميع المكلفين؟! ومع هذا؛ فأكثركم {فاسقونَ}؛ أي: خارجون عن طاعة الله متجرِّئون على معاصيه؛ فأولى لكم أيُّها الفاسقون السكوت؛ فلو كان عيبكم وأنتم سالمون من الفسق وهيهات ذلك؛ لكان الشرُّ أخف من قدحكم فينا مع فسقكم.