اور یہ کہ ان کے درمیان اس کے ساتھ فیصلہ کر جو اللہ نے نازل کیا ہے اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کر اور ان سے بچ کہ وہ تجھے کسی ایسے حکم سے بہکا دیں جو اللہ نے تیری طرف نازل کیا ہے، پھر اگر وہ پھر جائیں تو جان لے کہ اللہ یہی چاہتا ہے کہ انھیں ان کے کچھ گناہوں کی سزا پہنچائے اور بے شک بہت سے لوگ یقینا نافرمان ہیں۔
En
اور (ہم پھر تاکید کرتے ہیں کہ) جو (حکم) خدا نے نازل فرمایا ہے اسی کے مطابق ان میں فیصلہ کرنا اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا اور ان سے بچتے رہنا کہ کسی حکم سے جو خدا نے تم پر نازل فرمایا ہے یہ کہیں تم کو بہکانہ دیں اگر یہ نہ مانیں تو جان لو کہ خدا چاہتا ہے کہ ان کے بعض گناہوں کے سبب ان پر مصیبت نازل کرے اور اکثر لوگ تو نافرمان ہیں
آپ ان کے معاملات میں خدا کی نازل کرده وحی کے مطابق ہی حکم کیا کیجیئے، ان کی خواہشوں کی تابعداری نہ کیجیئے اور ان سے ہوشیار رہیئے کہ کہیں یہ آپ کو اللہ کے اتارے ہوئے کسی حکم سے ادھر ادھر نہ کریں، اگر یہ لوگ منھ پھیر لیں تو یقین کریں کہ اللہ کا اراده یہی ہے کہ انہیں ان کے بعض گناہوں کی سزا دے ہی ڈالے اور اکثر لوگ نا فرمان ہی ہوتے ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَاَنِاحْكُمْبَیْنَهُمْبِمَاۤاَنْزَلَاللّٰهُ ﴾”اور ان کے درمیان اس کے موافق فیصلہ فرمائیں جو اللہ نے اتارا“ کہا جاتا ہے کہ یہی وہ آیت کریمہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ فَاحْكُمْبَیْنَهُمْاَوْاَعْرِضْعَنْهُمْ﴾”ان کے درمیان فیصلہ کریں یا اس سے روگردانی کریں “ کو منسوخ کرتی ہے۔ صحیح رائے یہ ہے کہ یہ آیت کریمہ اس مذکورہ آیت کو منسوخ نہیں کرتی، پہلی آیت دلالت کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے درمیان فیصلہ کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا گیا تھا اور اس کا سبب یہ تھا کہ وہ حق کی خاطر فیصلہ کروانے کا قصد نہیں رکھتے تھے۔ اور یہ (دوسری) آیت کریمہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے درمیان فیصلہ کریں تو اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہدایت یعنی قرآن اور سنت کے مطابق فیصلہ کریں۔ یہی وہ انصاف ہے جس کے بارے میں گزشتہ صفحات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِنْحَكَمْتَفَاحْكُمْبَیْنَهُمْبِالْقِسْطِ﴾”اگر آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کریں۔ “
یہ آیت کریمہ عدل کی توضیح و تبیین پر دلالت کرتی ہے، نیز یہ کہ عدل کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت کے احکام ہیں جو انتہائی عدل و انصاف پر مبنی اصولوں پر مشتمل ہیں اور جو کچھ ان احکام کے خلاف ہے، وہ سراسر ظلم و جور ہے۔ ﴿ وَلَاتَ٘تَّ٘بِـعْاَهْوَآءَؔهُمْ ﴾”اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں۔ “ شدت تحذیر کی خاطر اللہ تعالیٰ نے بتکرار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی خواہشات کی پیروی کرنے سے روکا ہے۔ نیز وہ آیت حکم اور فتویٰ کے مقام پر ہے اور اس میں زیادہ وسعت ہے اور یہ صرف حکم کے مقام پر ہے۔ دونوں آیات کا مفاد یہ ہے کہ ضروری ہے کہ ان کی خلاف حق خواہشات کی پیروی نہ کی جائے۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاحْذَرْهُمْاَنْیَّفْتِنُوْكَعَنْۢبَعْضِمَاۤاَنْزَلَاللّٰهُاِلَیْكَ ﴾”اور بچتے رہیں ان سے، اس بات سے کہ وہ کہیں آپ کو بہکا نہ دیں کسی ایسے حکم سے جو اللہ نے آپ کی طرف اتارا“ یعنی ان کی فریب کاریوں سے بچیے، نیز ان سے بچیے کہ وہ آپ کو فتنے میں ڈال کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی ایسی چیز سے نہ روک دیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف نازل فرمائی ہے۔ پس ان کی خواہشات کی پیروی، حق واجب کو ترک کرنے کا باعث بنتی ہے جبکہ اتباع حق فرض ہے۔
﴿ فَاِنْتَوَلَّوْا ﴾”پس اگر وہ نہ مانیں “ یعنی اگر وہ آپ کی اتباع اور حق کی پیروی سے روگردانی کریں ﴿ فَاعْلَمْ ﴾”تو جان لیجیے“ کہ یہ روگردانی ان کے لیے سزا ہے ﴿ اَنَّمَایُرِیْدُاللّٰهُاَنْیُّصِیْبَهُمْبِبَعْضِذُنُوْبِهِمْ﴾”اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ان کو ان کے گناہوں کے سبب کوئی سزا پہنچائے“ کیونکہ گناہوں کے لیے دنیا و آخرت میں سزائیں مقرر ہیں اور سب سے بڑی سزا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کو آزمائش میں مبتلا کر دے اور اتباع رسول کے ترک کو اس کے لیے مزین کر دے اور اس کا باعث اس کا فسق ہوتا ہے ﴿ وَاِنَّكَثِیْرًامِّنَالنَّاسِلَفٰسِقُوْنَ﴾”اور اکثر لوگ نافرمان ہیں “ یعنی ان کی فطرت اور طبیعت میں فسق، نیز اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و اتباع سے خروج ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وأن احكم بينهم بما أنزل الله}: هذه الآية هي التي قيل: إنها ناسخةٌ لقولِهِ: {فاحكم بينَهم أو أعرِضْ عنهم}، والصحيح أنها ليست بناسخةٍ، وأن تلك الآية تدلُّ على أنه - صلى الله عليه وسلم - مخيَّرٌ بين الحكم بينهم وبين عدمه، وذلك لعدم قصدهم بالتحاكم للحقِّ. وهذه الآية تدلُّ على أنه إذا حكم؛ فإنه يحكم بينهم بما أنزل الله من الكتاب والسنة، وهو القِسْط الذي تقدَّم أنَّ الله قال: {وإن حكمت فاحكُم بينهم بالقسط}. ودلَّ هذا على بيان القسط، وأن مادَّته هو ما شرعه الله من الأحكام؛ فإنها المشتملة على غاية العدل والقسط، وما خالف ذلك فهو جَوْر وظلم، {ولا تتَّبع أهواءهم}: كرَّر النهي عن اتِّباع أهوائهم لشدَّة التحذير منها، ولأن ذلك في مقام الحكم والفتوى، وهو أوسع، وهذا في مقام الحكم وحده، وكلاهما يلزم فيه أن لا يتَّبع أهواءهم المخالفة للحقِّ. ولهذا قال: {واحْذَرْهم أن يَفْتِنوك عن بعض ما أنزل الله إليك}؛ أي: إياك والاغترار بهم وأن يفتنوك فيصدُّوك عن بعض ما أنزل الله إليك، فصار اتباع أهوائهم سبباً موصلاً إلى ترك الحق الواجب، والغرض اتباعه، {فإن تَوَلَّوا}: عن اتِّباعك واتِّباع الحق، {فاعلمْ}: أنَّ ذلك عقوبة عليهم، وأنّ الله يريد أن يُصيبَهم ببعض ذنوبهم، فإنَّ للذُّنوب عقوباتٍ عاجلة وآجلة، ومن أعظم العقوبات أن يُبتلى العبد ويُزيَّن له ترك اتباع الرسول، وذلك لفسقه، {وإنَّ كثيراً من الناس لفاسقونَ}؛ أي: طبيعتُهم الفسقُ والخروج عن طاعة الله واتِّباع رسوله.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔