ترجمہ و تفسیر — سورۃ المائده (5) — آیت 49

وَ اَنِ احۡکُمۡ بَیۡنَہُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ وَ لَا تَتَّبِعۡ اَہۡوَآءَہُمۡ وَ احۡذَرۡہُمۡ اَنۡ یَّفۡتِنُوۡکَ عَنۡۢ بَعۡضِ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ اِلَیۡکَ ؕ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاعۡلَمۡ اَنَّمَا یُرِیۡدُ اللّٰہُ اَنۡ یُّصِیۡبَہُمۡ بِبَعۡضِ ذُنُوۡبِہِمۡ ؕ وَ اِنَّ کَثِیۡرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوۡنَ ﴿۴۹﴾
اور یہ کہ ان کے درمیان اس کے ساتھ فیصلہ کر جو اللہ نے نازل کیا ہے اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کر اور ان سے بچ کہ وہ تجھے کسی ایسے حکم سے بہکا دیں جو اللہ نے تیری طرف نازل کیا ہے، پھر اگر وہ پھر جائیں تو جان لے کہ اللہ یہی چاہتا ہے کہ انھیں ان کے کچھ گناہوں کی سزا پہنچائے اور بے شک بہت سے لوگ یقینا نافرمان ہیں۔ En
اور (ہم پھر تاکید کرتے ہیں کہ) جو (حکم) خدا نے نازل فرمایا ہے اسی کے مطابق ان میں فیصلہ کرنا اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا اور ان سے بچتے رہنا کہ کسی حکم سے جو خدا نے تم پر نازل فرمایا ہے یہ کہیں تم کو بہکانہ دیں اگر یہ نہ مانیں تو جان لو کہ خدا چاہتا ہے کہ ان کے بعض گناہوں کے سبب ان پر مصیبت نازل کرے اور اکثر لوگ تو نافرمان ہیں
En
آپ ان کے معاملات میں خدا کی نازل کرده وحی کے مطابق ہی حکم کیا کیجیئے، ان کی خواہشوں کی تابعداری نہ کیجیئے اور ان سے ہوشیار رہیئے کہ کہیں یہ آپ کو اللہ کے اتارے ہوئے کسی حکم سے ادھر ادھر نہ کریں، اگر یہ لوگ منھ پھیر لیں تو یقین کریں کہ اللہ کا اراده یہی ہے کہ انہیں ان کے بعض گناہوں کی سزا دے ہی ڈالے اور اکثر لوگ نا فرمان ہی ہوتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 49) ➊ {وَ اَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ ……:} یعنی یہ اہل کتاب اگرچہ آپس میں دست و گریباں رہیں، مگر آپ ان کے باہمی اختلاف سے متاثر نہ ہوں، آپ اﷲ تعالیٰ کی اتاری ہوئی شریعت کے مطابق فیصلہ کریں اور ان سے ہوشیار رہیں، ایسا نہ ہو کہ ان کے کسی گروہ کو خوش کرنے یا ان سے مصالحت کی کوئی خواہش آپ کو اﷲ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام سے ہٹا دے۔ مزید دیکھیے سورۂ نساء (۱۱۳)، سورۂ بنی اسرائیل (۷۳ تا ۷۵) اور سورۂ قلم (۸، ۹)۔
➋ {فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ اَنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّصِيْبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوْبِهِمْ:} یعنی اﷲ تعالیٰ یہی چاہتا ہے کہ ان کو ایمان کی توفیق سے محروم رکھ کر اس دنیا میں ان کو جلاوطنی، جزیہ یا قتل کی سزا دے، کیونکہ ان میں انصاف پسند اور حق پر چلنے والے بہت تھوڑے ہیں۔ اس سے ظاہر ہے کہ انسان کو اس کے گناہوں کی شامت کیا کیا نقصان پہنچاتی ہے، اس لیے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ میں کہا کرتے تھے: [وَنَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا وَمِنْ سَيِّاٰتِ اَعْمَالِنَا] [ابن ماجہ، النکاح، باب خطبۃ النکاح: ۱۸۹۲] ہم اپنے نفسوں کی شرارتوں سے اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اﷲ کی پناہ چاہتے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

49۔ اور آپ جب ان کا فیصلہ کریں تو اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق کیجئے ان کی خواہشات کی پیروی نہ کیجئے اور اس بات سے ہوشیار رہئے کہ جو احکام اللہ نے آپ کی طرف نازل کئے ہیں ان سے یا ان کے کچھ حصہ سے یہ لوگ آپ کو منحرف نہ کر دیں۔ [91] اور اگر یہ ان باتوں سے اعراض کریں تو جان لیجئے کہ اللہ انہیں ان کے بعض جرائم کی سزا دینا چاہتا ہے۔ بلا شبہ ان میں سے اکثر لوگ نافرمان ہی ہیں
[91] حق کے لئے بہت بڑے فائدے سے دستبردار ہونا:۔
یہود کی آپس میں کسی مسئلہ میں نزاع کی صورت پیدا ہو گئی۔ ایک فریق میں ان کے بڑے بڑے علماء و مشائخ شامل تھے۔ یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگے۔ آپ ہمارے اس نزاع کا فیصلہ کر دیجئے۔ پھر اگر آپ فیصلہ ہمارے حق میں کر دیں تو ہم خود بھی اور اکثر یہود بھی ایمان لے آئیں گے کیونکہ یہود کی اکثریت ہمارے ہی زیر اثر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے رشوتی اسلام کو قبول نہ کیا اور ان کی خواہشات کی پیروی سے صاف انکار کر دیا۔ اسی دوران یہ آیات نازل ہوئیں۔ (ابن کثیر) اللہ تعالیٰ نے اس دوران یہ آیت اس لیے نازل فرمائیں کہ کسی ایک فرد کا بھی اسلام لانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو انتہائی محبوب تھا چہ جائیکہ یہود کی اکثریت کے ایمان لانے کی توقع ہو اور اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بات ماننے کی طرف مائل ہو جائیں یعنی ایک بہت بڑے فائدے کے حصول کی خاطر ان کی بات مان لیں جس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ حق پرستی کی خاطر اگر ہمیں کسی بہت بڑے متوقع فائدہ سے دستبردار ہونا پڑے تو اس میں دریغ نہ کرنا چاہیے اور ہر قیمت پر حق پر ہی قائم رہنا چاہیے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

قرآن ایک مستقل شریعت ہے ٭٭
تورات و انجیل کی ثنا و صفت اور تعریف و مدحت کے بعد اب قرآن عظیم کی بزرگی بیان ہو رہی ہے کہ ’ ہم نے اسے حق و صداقت کے ساتھ نازل فرمایا ہے یہ بالیقین اللہ واحد کی طرف سے ہے اور اس کا کلام ہے۔ یہ تمام پہلی الٰہی کتابوں کو سچا مانتا ہے اور ان کتابوں میں بھی اس کی صفت و ثنا موجود ہے اور یہ بھی بیان ان میں ہے کہ یہ پاک اور آخری کتاب آخری اور افضل رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اترے گی، پس ہر دانا شخص اس پر یقین رکھتا ہے اور اسے مانتا ہے ‘۔
جیسے فرمان ہے آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖٓ اِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ يَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًا وَيَقُولُونَ سُبْحَانَ رَبِّنَا إِن كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولًا» ۱؎ [17-الاسراء:108-107]‏‏‏‏، ’ جنہیں اس سے پہلے علم دیا گیا تھا، جب ان کے سامنے اس کی تلاوت کی جاتی ہے تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں اور زبانی اقرار کرتے ہیں کہ ہمارے رب کا وعدہ سچا ہے اور وہ سچا ثابت ہو چکا ‘۔
اس نے اگلے رسولوں کی زبانی جو خبر دی تھی وہ پوری ہوئی اور آخری رسول رسولوں کے سرتاج رسول آ ہی گئے اور یہ کتاب ان پہلی کتابوں کی امین ہے۔ یعنی اس میں جو کچھ ہے، وہی پہلی کتابوں میں بھی تھا، اب اس کے خلاف کوئی کہے کہ فلاں پہلی کتاب میں یوں ہے تو یہ غلط ہے۔ یہ ان کی سچی گواہ اور انہیں گھیر لینے والی اور سمیٹ لینے والی ہے۔ جو جو اچھائیاں پہلے کی تمام کتابوں میں جمع تھیں، وہ سب اس آخری کتاب میں یکجا موجود ہیں، اسی لیے یہ سب پر حاکم اور سب پر مقدم ہے اور اس کی حفاظت کا کفیل خود اللہ تعالیٰ ہے۔
جیسے فرمایا «اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ» ۱؎ [15-الحجر:9]‏‏‏‏ بعض نے کہا ہے کہ مراد اس سے یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کتاب پر امین ہیں۔‏‏‏‏ واقع میں تو یہ قول بہت صحیح ہے لیکن اس آیت کی تفسیر یہ کرنی ٹھیک نہیں بلکہ عربی زبان کے اعتبار سے بھی یہ غور طلب امر ہے۔ صحیح تفسیر پہلی ہی ہے۔
امام ابن جریر رحمة الله نے بھی مجاہد رحمة الله سے اس قول کو نقل کر کے فرمایا ہے یہ بہت دور کی بات ہے بلکہ ٹھیک نہیں ہے اس لیے «مُهَيْمِنً» کا عطف مصدق پر ہے، پس یہ بھی اسی چیز کی صفت ہے جس کی صفت مصدق کا لفظ تھا۔‏‏‏‏ اگر مجاہد رحمہ اللہ کے معنی صحیح مان لیے جائیں تو عبارت بغیر عطف کے ہونی چاہیئے تھی۔
خواہ عرب ہوں، خواہ عجم ہوں، خواہ لکھے پڑھے ہوں، خواہ ان پڑھ ہوں، اللہ کی طرف سے نازل کردہ سے مراد وحی اللہ ہے۔ خواہ وہ اس کتاب کی صورت میں ہو، خواہ جو پہلے احکام اللہ نے مقرر کر رکھے ہوں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس آیت سے پہلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آزادی دی گئی تھی، اگر چاہیں ان میں فیصلے کریں چاہیں نہ کریں، لیکن اس آیت نے حکم دیا کہ وحی الٰہی کے ساتھ ان میں فیصلے کرنے ضروری ہیں۔‏‏‏‏ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:332/10]‏‏‏‏
’ ان بدنصیب جاہلوں نے اپنی طرف سے جو احکام گھڑ لیے ہیں اور ان کی وجہ سے کتاب اللہ کو پس پشت ڈال دیا ہے، خبردار اے نبی کریم! صلی اللہ علیہ وسلم تو ان کی چاہتوں کے پیچھے لگ کر حق کو نہ چھوڑ بیٹھنا۔ ان میں سے ہر ایک کیلئے ہم نے راستہ اور طریقہ بنا دیا ہے ‘۔
کسی چیز کی طرف ابتداء کرنے کو «شِرْعَةً» کہتے ہیں، منہاج لغت میں کہتے ہیں واضح اور آسان راستے کو۔ پس ان دونوں لفظوں کی یہی تفسیر زیادہ مناسب ہے۔ پہلی تمام شریعتیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھیں، وہ سب توحید پر متفق تھیں، البتہ چھوٹے موٹے احکام میں قدرے ہیر پھیر تھا۔
جیسے حدیث شریف میں ہے { ہم سب انبیاء علیہم السلام علاتی بھائی ہیں، ہم سب کا دین ایک ہی ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3443]‏‏‏‏
ہر نبی علیہ السلام توحید کے ساتھ بھیجا جاتا رہا اور ہر آسمانی کتاب میں توحید کا بیان اس کا ثبوت اور اسی کی طرف دعوت دی جاتی رہی۔
جیسے قرآن فرماتا ہے کہ «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ» ۱؎ [21-الأنبياء:25]‏‏‏‏ ’ تجھ سے پہلے جتنے بھی رسول ہم نے بھیجے، ان سب کی طرف یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں، تم سب صرف میری ہی عبادت کرتے رہو ‘۔
اور آیت میں «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ» [16-النحل:36]‏‏‏‏، ’ ہم نے ہر امت کو بزبان رسول کہلوادیا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا دوسروں کی عبادت سے بچو ‘۔
ہاں احکام کا اختلاف ضرور، کوئی چیز کسی زمانے میں حرام تھی پھر حلال ہوگئی یا اس کے برعکس۔ یا کسی حکم میں تخفیف تھی اب تاکید ہوگئی یا اس کے خلاف اور یہ بھی حکمت اور مصلحت اور حجت ربانی کے ساتھ مثلاً توراۃ ایک شریعت ہے، انجیل ایک شریعت ہے، قرآن ایک مستقل شریعت ہے تاکہ ہر زمانے کے فرمانبرداروں اور نافرمانوں کا امتحان ہو جایا کرے۔ البتہ توحید سب زمانوں میں یکساں رہی اور معنی اس جملہ کے یہ ہیں کہ ’ اے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! تم میں سے ہر شخص کیلئے ہم نے اپنی اس کتاب قرآن کریم کو شریعت اور طریقہ بنایا ہے، تم سب کو اس کی اقتدأ اور تابعداری کرنی چاہیئے ‘۔
اس صورت میں «جَعَلْنَا» کے بعد ضمیر «ہ» کی محذوف ماننی پڑے گی۔ پس بہترین مقاصد حاصل کرنے کا ذریعہ اور طریقہ صرف قرآن کریم ہی ہے لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے اور اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اس کے بعد ہی فرمان ہوا ہے کہ ’ اگر اللہ چاہتا تو سب کو ایک ہی امت کر دیتا ‘۔
پس معلوم ہوا کہ اگلا خطاب صرف اس امت سے ہی نہیں بلکہ سب امتوں سے ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی اور کامل قدرت کا بیان ہے کہ اگر وہ چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی شریعت اور دین پر کر دیتا کوئی تبدیلی کسی وقت نہ ہوتی۔
لیکن رب کی حکمت کاملہ کا تقاضا یہ ہوا کہ علیحدہ علیحدہ شریعتیں مقرر کرے، ایک کے بعد دوسرا نبی علیہ السلام بھیجے اور بعض احکام اگلے نبی کے پچھلے نبی سے بدلوا دے، یہاں تک کہ اگلے دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے منسوخ ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام روئے زمین کی طرف بھیجے گئے اور خاتم الانبیاء بنا کر بھیجے گئے۔
یہ مختلف شریعتیں صرف تمہاری آزمائش کیلئے ہوئیں تاکہ تابعداروں کو جزاء اور نافرمانوں کو سزا ملے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ تمہیں آزمائے، اس چیز میں جو تمہیں اس نے دی ہے یعنی کتاب۔ پس تمہیں خیرات اور نیکیوں کی طرف سبقت اور دوڑ کرنی چاہیئے۔ اللہ کی اطاعت، اس کی شریعت کی فرمانبرداری کی طرف آگے بڑھنا چاہیئے اور اس آخری شریعت، آخری کتاب اور آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی بہ دل و جاں فرماں برداری کرنی چاہیئے۔
لوگو! تم سب کا مرجع و ماویٰ اور لوٹنا پھرنا اللہ ہی کی طرف ہے، وہاں وہ تمہیں تمہارے اختلاف کی اصلیت بتا دے گا۔ سچوں کو ان کی سچائی کا اچھا پھل دے گا اور بروں کو ان کی کج بحثی، سرکشی اور خواہش نفس کی پیروی کی سزا دے گا۔
’ جو حق کو ماننا تو ایک طرف بلکہ حق سے چڑتے ہیں اور مقابلہ کرتے ہیں ‘۔ ضحاک رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے، مگر اول ہی اولیٰ ہے۔ پھر پہلی بات کی اور تاکید ہو رہی ہے اور اس کے خلاف سے روکا جاتا ہے اور فرمایا جاتا ہے کہ ’ دیکھو کہیں اس خائن، مکار، کذاب، کفار یہود کی باتوں میں آکر اللہ کے کسی حکم سے ادھر ادھر نہ ہو جانا۔ اگر وہ تیرے احکام سے روگردانی کریں اور شریعت کے خلاف کریں تو تو سمجھ لے کہ ان کی سیاہ کاریوں کی وجہ سے اللہ کا کوئی عذاب ان پر آنے والا ہے۔ اسی لیے توفیق خیر ان سے چھین لی گئی ہے۔ اکثر لوگ فاسق ہیں یعنی اطاعت حق سے خارج۔ اللہ کے دین کے مخالف، ہدایت سے دور ہیں ‘۔
جیسے فرمایا آیت «وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ» ۱؎ [12-یوسف:103]‏‏‏‏ یعنی ’ گو تو حرص کر کے چاہے لیکن اکثر لوگ مومن نہیں ہیں ‘۔
اور فرمایا آیت «وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ يُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ» ۱؎ [6-الأنعام:116]‏‏‏‏ ’ اگر تو زمین والوں کی اکثریت کی مانے گا تو وہ تجھے بھی راہ حق سے بہکا دیں گے ‘۔
یہودیوں کے چند بڑے بڑے رئیسوں اور عالموں نے آپس میں ایک میٹنگ کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جانتے ہیں اگر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مان لیں تو تمام یہود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا اقرار کر لیں گے اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننے کیلئے تیار ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اتنا کیجئے کہ ہم میں اور ہماری قوم میں ایک جھگڑا ہے، اس کا فیصلہ ہمارے مطابق کر دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا اور اسی پر یہ آیتیں اتریں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12156:ضعیف]‏‏‏‏
اس کے بعد جناب باری تعالیٰ ان لوگوں کا ذکر کر رہا ہے جو اللہ کے حکم سے ہٹ جائیں، جس میں تمام بھلائیاں موجود اور تمام برائیاں دور ہیں۔ ایسے پاک حکم سے ہٹ کر رائے قیاس کی طرف، خواہش نفسانی کی طرف اور ان احکام کی طرف جھکے جو لوگوں نے از خود اپنی طرف سے بغیر دلیل شرعی کے گھڑ لیے ہیں جیسے کہ اہل جاہلیت اپنی جہالت و ضلالت اور اپنی رائے اور اپنی مرضی کے مطابق حکم احکام جاری کر لیا کرتے تھے اور جیسے کہ تاتاری ملکی معاملات میں چنگیز خان کے احکام کی پیروی کرتے تھے جو الیاسق نے گھڑ دیئے تھے۔ وہ بہت سے احکام کے مجموعے اور دفاتر تھے جو مختلف شریعتوں اور مذہبوں سے چھانٹے گئے تھے۔
یہودیت، نصرانیت، اسلامیت وغیرہ سب کے احکام کا وہ مجموعہ تھا اور پھر اس میں بہت سے احکام وہ بھی تھے، جو صرف اپنی عقلی اور مصلحت وقت کے پیش نظر ایجاد کئے گئے تھے، جن میں اپنی خواہش کی ملاوٹ بھی تھی۔ پس وہی مجموعے ان کی اولاد میں قابل عمل ٹھہر گئے اور اسی کو کتاب و سنت پر فوقیت اور تقدیم دے لی۔ درحقیقت ایسا کرنے والے کافر ہیں اور ان سے جہاد واجب ہے یہاں تک کہ وہ لوٹ کر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی طرف آ جائیں اور کسی چھوٹے یا بڑے اہم یا غیر اہم معاملہ میں سوائے کتاب و سنت کے کوئی حکم کسی کا نہ لیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ یہ جاہلیت کے احکام کا ارادہ کرتے ہیں اور حکم رب سے سرک رہے ہیں؟ یقین والوں کیلئے اللہ سے بہتر حکمران اور کار فرما کون ہوگا؟ اللہ سے زیادہ عدل و انصاف والے احکام کس کے ہوں گے؟ ‘
ایماندار اور یقین کامل والے بخوبی جانتے اور مانتے ہیں کہ اس احکم الحاکمین اور الرحم الراحمین سے زیادہ اچھے، صاف، سہل اور عمدہ احکام و قواعد مسائل و ضوابط کسی کے بھی نہیں ہو سکتے۔ وہ اپنی مخلوق پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے جتنی ماں اپنی اولاد پر ہوتی ہے، وہ پورے اور پختہ علم والا کامل اور عظیم الشان قدرت والا اور عدل و انصاف والا ہے۔
حسن رحمة الله فرماتے ہیں اللہ کے فیصلے کے بغیر جو فتویٰ دے اس کا فتویٰ جاہلیت کا حکم ہے۔‏‏‏‏ ایک شخص نے طاؤس رحمہ اللہ سے پوچھا کیا میں اپنی اولاد میں سے ایک کو زیادہ اور ایک کو کم دے سکتا ہوں؟ تو آپ رحمہ اللہ نے یہی آیت پڑھی۔ طبرانی میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { سب سے بڑا اللہ کا دشمن وہ ہے جو اسلام میں جاہلیت کا طریقہ اور حیلہ تلاش کرے اور بے وجہ کسی کی گردن مارنے کے درپے ہو جائے } }۔ یہ حدیث بخاری میں بھی قدرے الفاظ کی زیادتی کے ساتھ ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6882]‏‏‏‏

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَاَنِ احْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ اور ان کے درمیان اس کے موافق فیصلہ فرمائیں جو اللہ نے اتارا کہا جاتا ہے کہ یہی وہ آیت کریمہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْهُمْ ان کے درمیان فیصلہ کریں یا اس سے روگردانی کریں کو منسوخ کرتی ہے۔ صحیح رائے یہ ہے کہ یہ آیت کریمہ اس مذکورہ آیت کو منسوخ نہیں کرتی، پہلی آیت دلالت کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے درمیان فیصلہ کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا گیا تھا اور اس کا سبب یہ تھا کہ وہ حق کی خاطر فیصلہ کروانے کا قصد نہیں رکھتے تھے۔ اور یہ (دوسری) آیت کریمہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے درمیان فیصلہ کریں تو اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہدایت یعنی قرآن اور سنت کے مطابق فیصلہ کریں۔ یہی وہ انصاف ہے جس کے بارے میں گزشتہ صفحات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَاِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ اگر آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کریں۔
یہ آیت کریمہ عدل کی توضیح و تبیین پر دلالت کرتی ہے، نیز یہ کہ عدل کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت کے احکام ہیں جو انتہائی عدل و انصاف پر مبنی اصولوں پر مشتمل ہیں اور جو کچھ ان احکام کے خلاف ہے، وہ سراسر ظلم و جور ہے۔ ﴿ وَلَا تَ٘تَّ٘بِـعْ اَهْوَآءَؔهُمْ اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں۔ شدت تحذیر کی خاطر اللہ تعالیٰ نے بتکرار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی خواہشات کی پیروی کرنے سے روکا ہے۔ نیز وہ آیت حکم اور فتویٰ کے مقام پر ہے اور اس میں زیادہ وسعت ہے اور یہ صرف حکم کے مقام پر ہے۔ دونوں آیات کا مفاد یہ ہے کہ ضروری ہے کہ ان کی خلاف حق خواہشات کی پیروی نہ کی جائے۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَاحْذَرْهُمْ اَنْ یَّفْتِنُوْكَ عَنْۢ بَعْضِ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْكَ اور بچتے رہیں ان سے، اس بات سے کہ وہ کہیں آپ کو بہکا نہ دیں کسی ایسے حکم سے جو اللہ نے آپ کی طرف اتارا یعنی ان کی فریب کاریوں سے بچیے، نیز ان سے بچیے کہ وہ آپ کو فتنے میں ڈال کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی ایسی چیز سے نہ روک دیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف نازل فرمائی ہے۔ پس ان کی خواہشات کی پیروی، حق واجب کو ترک کرنے کا باعث بنتی ہے جبکہ اتباع حق فرض ہے۔
﴿ فَاِنْ تَوَلَّوْا پس اگر وہ نہ مانیں یعنی اگر وہ آپ کی اتباع اور حق کی پیروی سے روگردانی کریں ﴿ فَاعْلَمْ تو جان لیجیے کہ یہ روگردانی ان کے لیے سزا ہے ﴿ اَنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّصِیْبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوْبِهِمْ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ان کو ان کے گناہوں کے سبب کوئی سزا پہنچائے کیونکہ گناہوں کے لیے دنیا و آخرت میں سزائیں مقرر ہیں اور سب سے بڑی سزا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کو آزمائش میں مبتلا کر دے اور اتباع رسول کے ترک کو اس کے لیے مزین کر دے اور اس کا باعث اس کا فسق ہوتا ہے ﴿ وَاِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوْنَ اور اکثر لوگ نافرمان ہیں یعنی ان کی فطرت اور طبیعت میں فسق، نیز اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و اتباع سے خروج ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وأن احكم بينهم بما أنزل الله}: هذه الآية هي التي قيل: إنها ناسخةٌ لقولِهِ: {فاحكم بينَهم أو أعرِضْ عنهم}، والصحيح أنها ليست بناسخةٍ، وأن تلك الآية تدلُّ على أنه - صلى الله عليه وسلم - مخيَّرٌ بين الحكم بينهم وبين عدمه، وذلك لعدم قصدهم بالتحاكم للحقِّ. وهذه الآية تدلُّ على أنه إذا حكم؛ فإنه يحكم بينهم بما أنزل الله من الكتاب والسنة، وهو القِسْط الذي تقدَّم أنَّ الله قال: {وإن حكمت فاحكُم بينهم بالقسط}. ودلَّ هذا على بيان القسط، وأن مادَّته هو ما شرعه الله من الأحكام؛ فإنها المشتملة على غاية العدل والقسط، وما خالف ذلك فهو جَوْر وظلم، {ولا تتَّبع أهواءهم}: كرَّر النهي عن اتِّباع أهوائهم لشدَّة التحذير منها، ولأن ذلك في مقام الحكم والفتوى، وهو أوسع، وهذا في مقام الحكم وحده، وكلاهما يلزم فيه أن لا يتَّبع أهواءهم المخالفة للحقِّ. ولهذا قال: {واحْذَرْهم أن يَفْتِنوك عن بعض ما أنزل الله إليك}؛ أي: إياك والاغترار بهم وأن يفتنوك فيصدُّوك عن بعض ما أنزل الله إليك، فصار اتباع أهوائهم سبباً موصلاً إلى ترك الحق الواجب، والغرض اتباعه، {فإن تَوَلَّوا}: عن اتِّباعك واتِّباع الحق، {فاعلمْ}: أنَّ ذلك عقوبة عليهم، وأنّ الله يريد أن يُصيبَهم ببعض ذنوبهم، فإنَّ للذُّنوب عقوباتٍ عاجلة وآجلة، ومن أعظم العقوبات أن يُبتلى العبد ويُزيَّن له ترك اتباع الرسول، وذلك لفسقه، {وإنَّ كثيراً من الناس لفاسقونَ}؛ أي: طبيعتُهم الفسقُ والخروج عن طاعة الله واتِّباع رسوله.