تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ اَفَحُكْمَالْجَاهِلِیَّةِیَبْغُوْنَ﴾”اب کیا وہ جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں “ یعنی کیا وہ کفار کی دوستی طلب کر کے اور آپ سے اعراض کر کے جاہلیت کے فیصلے چاہتے ہیں؟ ہر وہ فیصلہ جو اس چیز کے خلاف ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر نازل فرمایا وہ جاہلیت کا فیصلہ ہے۔ تب اس طرح صرف دو قسم کے فیصلے ہیں۔ (۱) اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ۔ (۲) جاہلیت کا فیصلہ۔ پس جو کوئی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں سے منہ موڑتا ہے تو وہ دوسری قسم کے فیصلوں میں مبتلا ہو جاتا ہے جو جہالت، ظلم اور گمراہی پر مبنی ہیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان فیصلوں کو جاہلیت کی طرف مضاف کیا ہے۔ رہے اللہ تعالیٰ کے فیصلے تو وہ علم، عدل و انصاف، نور اور ہدایت پر مبنی ہوتے ہیں۔
﴿ وَمَنْاَحْسَنُمِنَاللّٰهِحُكْمًالِّقَوْمٍیُّوْقِنُوْنَ﴾”اور اللہ سے بہتر کون ہے حکم کرنے والا، اس قوم کے لیے جو یقین رکھتی ہے“ صاحب ایقان وہ ہے جو اپنے یقین کی بنیاد پر دونوں قسم کے فیصلوں کے درمیان فرق کو پہچانتا ہو اور وہ اللہ تعالیٰ کے فیصلوں میں موجود حسن اور خوبصورتی میں امتیاز کر سکتا ہو اور عقلاً اور شرعاً ان کی اتباع کو لازم قرار دیتا ہو اور یقین سے مراد وہ علم کامل و تام ہے جو عمل کا موجب ہوتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{أفحكم الجاهلية يبغون}؛ أي: أفيطلبون بتولِّيهم وإعراضهم عنك حكم الجاهلية؟ وهو كلُّ حكم خالف ما أنزل الله على رسوله؛ فلا ثمَّ إلاَّ حكم الله ورسوله أو حكم الجاهلية؛ فمن أعرض عن الأول؛ ابتُلي بالثاني المبني على الجهل والظلم والغي، ولهذا أضافه الله للجاهلية، وأما حكم الله تعالى؛ فمبنيٌّ على العلم والعدل والقسط والنور والهدى. {ومن أحسنُ من الله حكماً لقوم يوقنونَ}: فالموقنُ هو الذي يعرِف الفرقَ بين الحكمين ويميز بإيقانه ما في حكم الله من الحسن والبهاء، وأنَّه يتعيَّن عقلاً وشرعاً اتِّباعه، واليقين هو العلم التامُّ الموجب للعمل.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔