تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المائده (5) — آیت 22

قَالُوۡا یٰمُوۡسٰۤی اِنَّ فِیۡہَا قَوۡمًا جَبَّارِیۡنَ ٭ۖ وَ اِنَّا لَنۡ نَّدۡخُلَہَا حَتّٰی یَخۡرُجُوۡا مِنۡہَا ۚ فَاِنۡ یَّخۡرُجُوۡا مِنۡہَا فَاِنَّا دٰخِلُوۡنَ ﴿۲۲﴾
انھوں نے کہا اے موسیٰ! بے شک اس میں ایک بہت زبردست قوم ہے اور بے شک ہم ہرگز اس میں داخل نہ ہوں گے، یہاں تک کہ وہ اس سے نکل جائیں، پس اگر وہ اس سے نکل جائیں تو ہم ضرور داخل ہونے والے ہیں۔ En
وہ کہنے لگے کہ موسیٰ! وہاں تو بڑے زبردست لوگ (رہتے) ہیں اور جب تک وہ اس سرزمین سے نکل نہ جائیں ہم وہاں جا نہیں سکتے ہاں اگر وہ وہاں سے نکل جائیں تو ہم جا داخل ہوں گے
En
انہوں نے جواب دیا کہ اے موسیٰ وہاں تو زور آور سرکش لوگ ہیں اور جب تک وه وہاں سے نکل نہ جائیں ہم تو ہرگز وہاں نہ جائیں گے ہاں اگر وه وہاں سے نکل جائیں پھر تو ہم (بخوشی) چلے جائیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

انھوں نے (اس کے جواب میں) موسیٰ علیہ السلام کو ایک ایسا جواب دیا جو ان کے ضعف قلب، ضعیف جسم اور اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے بارے میں عدم اہتمام پر دلالت کرتا ہے ﴿یٰمُوْسٰۤى اِنَّ فِیْهَا قَوْمًا جَبَّارِیْنَ اے موسیٰ! اس میں ایک زبردست قوم ہے یعنی بہت طاقتور اور بہادر لوگ ہیں، یعنی اس لیے وہ اس ملک میں ہمارے داخل ہونے سے موانع میں سے ہیں ﴿وَاِنَّا لَ٘نْ نَّدْخُلَهَا حَتّٰى یَخْرُجُوْا مِنْهَا١ۚ فَاِنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَا فَاِنَّا دٰخِلُوْنَ اور ہم اس میں ہرگز داخل نہیں ہوں گے یہاں تک کہ وہ اس میں سے نکل جائیں۔ پس اگر وہ اس میں سے نکل جائیں تو ہم اس میں داخل ہو جائیں گے اور ان کا یہ قول ان کی بزدلی اور قلت یقین پر دلالت کرتا ہے۔ ورنہ اگر وہ عقلمند ہوتے تو انھیں معلوم ہوتاکہ وہ بھی سب کے سب آدم کی اولاد ہیں اور طاقتور وہ ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ اپنی اعانت سے نواز دے۔ کیونکہ اللہ کی اعانت و توفیق کے بغیر کسی کے پاس کوئی قوت و اختیار نہیں۔ نیز انھیں یہ بھی معلوم ہوتا کہ ان کو ضرور فتح و نصرت سے نوازا جائے گا کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ فتح و نصرت کا خاص وعدہ کر رکھا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فقالوا قولاً يدلُّ على ضعف قلوبهم وخَوَر نفوسِهم وعدم اهتمامهم بأمر الله ورسوله: {يا موسى إنَّ فيها قوماً جَبَّارينَ}: شديدي القوَّة والشجاعةِ؛ أي: فهذا من الموانع لنا من دخولها، {وإنَّا لن نَدْخُلَها حتَّى يخرُجوا منها فإن يخرُجوا منها فإنَّا داخلونَ}: وهذا من الجبن وقلة اليقين، وإلاَّ؛ فلو كان معهم رُشدهم؛ لعلموا أنهم كلُّهم من بني آدم، وأنَّ القويَّ مَن أعانه الله بقوَّة من عندِهِ؛ فإنه لا حول ولا قوة إلا بالله، ولعلموا أنهم سينصرون عليهم إذ وَعَدَهم الله بذلك وعداً خاصًّا.