اے میری قوم! اس مقدس زمین میں داخل ہو جائو جو اللہ نے تمھارے لیے لکھ دی ہے اور اپنی پیٹھوں پر نہ پھر جائو، ورنہ خسارہ اٹھانے والے ہو کر لوٹو گے۔
En
تو بھائیو! تم ارض مقدس (یعنی ملک شام) میں جسے خدا نے تمہارے لیے لکھ رکھا ہے چل داخل ہو اور (دیکھنا مقابلے کے وقت) پیٹھ نہ پھیر دینا ورنہ نقصان میں پڑ جاؤ گے
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
بنابریں فرمایا: ﴿یٰقَوْمِادْخُلُواالْاَرْضَالْمُقَدَّسَةَ ﴾”اے میری قوم! ارض مقدسہ میں داخل ہو جاؤ“ یعنی سرزمین پاک میں ﴿الَّتِیْكَتَبَاللّٰهُلَكُمْ﴾”جو اللہ نے تمھارے لیے لکھ دی ہے“ اللہ تعالیٰ نے ایسی خبر سے آگاہ فرمایا کہ اگر وہ مومن اور اللہ تعالیٰ کی خبر کی تصدیق کرنے والے ہوتے تو یقینا ان کے دل اس خبر سے مطمئن ہو جاتے کہ اللہ تعالیٰ نے ارض مقدس میں ان کا داخل ہونا اور اپنے دشمن پر فتح حاصل کرنا لکھ دیا ہے ﴿وَلَاتَرْتَدُّوْاعَلٰۤىاَدْبَ٘ارِكُمْ ﴾”اور نہ لوٹو اپنی پیٹھوں کی طرف“ یعنی واپس نہ لوٹو ﴿فَتَنْقَلِبُوْاخٰسِرِیْنَ﴾”پھر جا پڑو گے نقصان میں “ یعنی اپنے دشمنوں پر غلبہ حاصل نہ کر سکنے اور اپنے شہروں کو فتح نہ کر سکنے کی وجہ سے تم دنیا میں بھی گھاٹے میں رہو گے اور آخرت میں بھی اپنی نافرمانی کی وجہ سے ثواب سے محروم اور عذاب کے مستحق ہو کر خسارے میں رہو گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولهذا قال: {يا قوم ادخُلوا الأرضَ المقدَّسة}؛ أي: المطهَّرة {التي كَتَبَ الله لكم}: فأخبرهم خبراً تطمئنُّ به أنفسُهم إن كانوا مؤمنين مصدِّقين بخبر الله، وأنه قد كَتَبَ الله لهم دخولها وانتصارَهم على عدوِّهم، {ولا ترتدُّوا}؛ أي: ترجعوا {على أدبارِكُم فتنقَلبوا خاسرين}: قد خسرتُم دُنياكم بما فاتكم من النصر على الأعداء وفتح بلادِكم، وآخرتَكم بما فاتكم من الثواب وما استحققتم بمعصيتكم من العقاب.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔