تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المائده (5) — آیت 23

قَالَ رَجُلٰنِ مِنَ الَّذِیۡنَ یَخَافُوۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمَا ادۡخُلُوۡا عَلَیۡہِمُ الۡبَابَ ۚ فَاِذَا دَخَلۡتُمُوۡہُ فَاِنَّکُمۡ غٰلِبُوۡنَ ۬ۚ وَ عَلَی اللّٰہِ فَتَوَکَّلُوۡۤا اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۲۳﴾
دو آدمیوں نے کہا، جو ان لوگوں میں سے تھے جو ڈرتے تھے، ان دونوں پر اللہ نے انعام کیا تھا، تم ان پر دروازے میں داخل ہو جائو، پھر جب تم اس میں داخل ہوگئے تو یقینا تم غالب ہو اور اللہ ہی پر پس بھروسا کرو، اگر تم مومن ہو۔ En
جو لوگ (خدا سے) ڈرتے تھے ان میں سے دو شخص جن پر خدا کی عنایت تھی کہنے لگے کہ ان لوگوں پر دروازے کے رستے سے حملہ کردو جب تم دروازے میں داخل ہو گئے تو فتح تمہارے ہے اور خدا ہی پر بھروسہ رکھو بشرطیکہ صاحبِ ایمان ہو
En
دو شخصوں نے جو خدا ترس لوگوں میں سے تھے، جن پر اللہ تعالیٰ کا فضل تھا کہا کہ تم ان کے پاس دروازے میں تو پہنچ جاؤ، دروازے میں قدم رکھتے ہی یقیناً تم غالب آجاؤ گے، اور تم اگر مومن ہو تو تمہیں اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿قَالَ رَجُلٰ٘نِ مِنَ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ دو آدمیوں نے کہا: جو ڈرنے والوں میں سے تھے یعنی جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے تھے انھوں نے اپنی قوم کا دل بڑھاتے ہوئے ان کو دشمن کے خلاف جنگ کرنے اور ان کے علاقوں میں اترنے پر آمادہ کرنے کے لیے کہا ﴿اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمَا جن پر اللہ نے انعام کیا تھا جنھیں اللہ تعالیٰ نے توفیق اور اس قسم کے مواقع پر کلمہ حق کہنے کی جرأت سے نوازا تھا اور انھیں صبر و یقین کی نعمت عطا کی تھی ﴿ادْخُلُوْا عَلَیْهِمُ الْبَابَ١ۚ فَاِذَا دَخَلْ٘تُمُوْهُ فَاِنَّـكُمْ غٰ٘لِبُوْنَ تم دروازے میں داخل ہو جاؤ، جب تم اس میں داخل ہو جاؤ گے تو تم غالب ہو گے یعنی تمھارے اور تمھاری فتح کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں، سوائے اس کے کہ تم ان پر حملے کا پختہ عزم کر لو اور شہر کے دروازے میں گھس جاؤ، پس جب تم اس میں گھس جاؤ گے تو وہ ہزیمت اٹھا کر بھاگ جائیں گے، پھر ان کو اس تیاری کا حکم دیا جو سب سے بڑی تیاری ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَعَلَى اللّٰهِ فَتَوَؔكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ اور اللہ ہی پر تم بھروسہ کرو، اگر تم مومن ہو کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ پر توکل میں، خصوصاً ایسے مواقع پر، معاملے میں آسانی اور دشمنوں پر فتح حاصل ہوتی ہے اور یہ آیت کریمہ توکل کے وجوب پر دلالت کرتی ہے۔ نیز یہ کہ توکل بندۂ مومن کے ایمان کی مقدار کے مطابق ہوتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قال رجلانِ من الذين يخافونَ} الله تعالى؛ مشجعَيْنِ لقومهم، منهضَيْنِ لهم على قتال عدوهم واحتلال بلادهم {أنعم الله عليهما}: بالتوفيق وكلمة الحقِّ في هذا الموطن المحتاج إلى مثل كلامهم، وأنعم عليهم بالصبر واليقين، {ادخُلوا عليهم البابَ، فإذا دَخَلْتُموه فإنَّكم غالبون}؛ أي: ليس بينكم وبين نصرِكم عليهم إلاَّ أن تجزموا عليهم وتدخلوا عليهم الباب؛ فإذا دخلتُموه عليهم؛ فإنهم سينهزمون. ثم أمراهم بعدة هي أقوى العدد، فقالا: {وعلى الله فتوكَّلوا إنْ كنتم مؤمنين}: فإنَّ في التوكُّل على الله، وخصوصاً في هذا الموطن، تيسيراً للأمر ونصراً على الأعداء. ودل هذا على وجوب التوكُّل، وعلى أنه بحسب إيمان العبد يكون توكُّله.