اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تمھاری آپس کی شہادت، جب تم میں سے کسی کو موت آ پہنچے، وصیت کے وقت، دو عدل والے آدمی ہوں گے، جو تم میں سے ہوں، یا دو اور تمھارے غیر سے ہوں، اگر تم زمین میں سفر کر رہے ہو، پھر تمھیں موت کی مصیبت آ پہنچے، تم ان دونوں کو نماز کے بعد روک لو گے، اگر تم شک کرو، پس وہ دونوں اللہ کی قسم کھائیں گے کہ ہم اس کے ساتھ کوئی قیمت نہیں لیں گے، اگرچہ وہ قرابت والا ہو اور نہ ہم اللہ کی شہادت چھپائیں گے، بے شک ہم اس وقت یقیناً گنہگاروں سے ہوں گے۔
En
مومنو! جب تم میں سے کسی کی موت آموجود ہو تو شہادت (کا نصاب) یہ ہے کہ وصیت کے وقت تم (مسلمانوں) میں سے دو عادل (یعنی صاحب اعتبار) گواہ ہوں یا اگر (مسلمان نہ ملیں اور) تم سفر کر رہے ہو اور (اس وقت) تم پر موت کی مصیبت واقع ہو تو کسی دوسرے مذہب کے دو (شخصوں کو) گواہ (کر لو) اگر تم کو ان گواہوں کی نسبت کچھ شک ہو تو ان کو (عصر کی) نماز کے بعد کھڑا کرو اور دونوں خدا کی قسمیں کھائیں کہ ہم شہادت کا کچھ عوض نہیں لیں گے گو ہمارا رشتہ دار ہی ہو اور نہ ہم الله کی شہادت کو چھپائیں گے اگر ایسا کریں گے تو گنہگار ہوں گے
اے ایمان والو! تمہارے آپس میں دو شخص کا گواه ہونا مناسب ہے جبکہ تم میں سے کسی کو موت آنے لگے اور وصیت کرنے کا وقت ہو وه دو شخص ایسے ہوں کہ دیندار ہوں خواه تم میں سے ہوں یا غیر لوگوں میں سے دو شخص ہوں اگر تم کہیں سفر میں گئے ہو اور تمہیں موت آ جائے اگر تم کو شبہ ہو تو ان دونوں کو بعد نماز روک لو پھر دونوں اللہ کی قسم کھائیں کہ ہم اس قسم کے عوض کوئی نفع نہیں لینا چاہتے اگر چہ کوئی قرابت دار بھی ہو اور اللہ تعالیٰ کی بات کو ہم پوشیده نہ کریں گے، ہم اس حالت میں سخت گنہگار ہوں گے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ خبر دیتا ہے جو کہ اس حکم کو متضمن ہے کہ جب انسان کی موت کی علامات اور اس کے مقدمات سامنے آ جائیں تو اپنی وصیت پر دو گواہ بنا لے۔ اس کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ اپنی وصیت کو تحریر کروائے اور اس پر دو عادل اور معتبر گواہوں کی گواہی ثبت کروائے۔ ﴿ اَوْاٰخَرٰنِمِنْغَیْرِكُمْ ﴾”یا دوسرے دو گواہ تمھارے سوا“ یعنی مسلمانوں کے علاوہ کوئی اور یعنی یہود و نصاریٰ وغیرہ۔ یہ سخت ضرورت اور حاجت کے وقت ہے جب یہود و نصاریٰ کے سوا مسلمانوں میں سے گواہ موجود نہ ہوں ﴿اِنْاَنْتُمْضَرَبْتُمْفِیالْاَرْضِ ﴾”جب تم زمین میں سفر کر رہے ہو“﴿ فَاَصَابَتْكُمْمُّصِیْبَةُالْمَوْتِ﴾”اور پہنچے تمھیں مصیبت موت کی“ یعنی تم ان دونوں کو گواہ بنا لو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو گواہ بنانے کا حکم اس لیے دیا ہے کہ اس صورتحال میں ان کی گواہی مقبول ہے اور ان کے بارے میں مزید تاکید فرمائی کہ ان کو روک لیا جائے ﴿مِنْۢبَعْدِالصَّلٰ٘وةِ ﴾”نماز کے بعد“ جس نماز کی یہ تعظیم کرتے ہیں ﴿فَ٘یُ٘قْ٘سِمٰنِبِاللّٰهِ ﴾”پس وہ اللہ کی قسم اٹھائیں “ کہ انھوں نے سچ کہا ہے اور انھوں نے کوئی تغیر و تبدل نہیں کیا ﴿ اِنِارْتَبْتُمْ ﴾”اگر تمھیں (ان کی گواہی میں) شک ہو“ اور اگر تم انھیں سچا سمجھتے ہو تو پھر ان سے قسم اٹھوانے کی ضرورت نہیں اور وہ قسم اٹھاتے وقت یہ الفاظ ادا کریں ﴿ لَانَشْتَرِیْبِهٖ ﴾”نہیں حاصل کرتے ہم اس کے بدلے“ یعنی اپنی قسموں کے بدلے ﴿ ثَمَنًا ﴾”کوئی مال“ یعنی دنیاوی فائدے کی خاطر ہم جھوٹی قسم نہیں اٹھائیں گے ﴿ وَّلَوْكَانَذَاقُ٘رْبٰى ﴾”اگرچہ ہم کو کسی سے قرابت بھی ہو“ یعنی اس کے ساتھ اپنی قرابت داری کی وجہ سے اس سے کوئی رعایت نہیں کریں گے ﴿وَلَانَؔكْتُمُشَهَادَةَاللّٰهِ﴾”اور نہ ہم اللہ کی گواہی کو چھپائیں گے“ بلکہ ہم اسی طرح شہادت کو ادا کریں گے جس طرح ہم نے سنی ہے ﴿ اِنَّـاۤ٘اِذًا ﴾”بے شک تب ہم“ یعنی اگر ہم گواہی کو چھپائیں ﴿لَّ٘مِنَالْاٰثِمِیْنَ ﴾”تو یقینا گناہ گاروں میں سے ہوں گے“۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى خبراً متضمناً للأمر بإشهاد اثنين على الوصيَّة إذا حضر الإنسانَ مقدماتُ الموت وعلائمه، فينبغي له أن يكتبَ وصيَّته، ويُشْهِدَ عليها اثنين ذَوَيْ عدل ممَّن يعتبر شهادتهما، {أو آخرانِ من غيركم}؛ أي: من غير أهل دينكم من اليهود أو النصارى أو غيرهم، وذلك عند الحاجة والضَّرورة وعدم غيرهما من المسلمين {إن أنتم ضَرَبْتُم في الأرض}؛ أي: سافرتم فيها، {فأصابَتْكُم مصيبةُ الموت}؛ أي: فأشْهِدوهما، ولم يأمر بإشهادِهِما إلاَّ لأنَّ قولَهما في تلك الحال مقبولٌ، ويؤكَّد عليهما بأن يُحْبَسا {من بعد الصلاة}: التي يعظِّمونها، {فيُقْسِمانِ بالله}: أنهما صَدَقا وما غيَّرا ولا بدَّلا هذا، {إنِ ارْتَبْتُم}: في شهادتهما؛ فإن صدَّقْتُموها ؛ فلا حاجة إلى القسم بذلك. ويقولان: {لا نشتري به}؛ أي: بأيماننا {ثمناً}: بأن نكذب فيها لأجل عَرَض من الدُّنيا، {ولو كان ذا قُربى}: فلا نراعيه لأجل قُربه منَّا، {ولا نكتُمُ شهادةَ الله}: بل نؤدِّيها على ما سمعناها، {إنَّا إذاً}؛ أي: إن كتمناها {لَمِنَ الآثمِين}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔