تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
ان آیات کی شان نزول یہ ہے کہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ بنو سہم قبیلے کا ایک (مسلم) شخص تمیم داری اور عدی بن بداء کے ساتھ سفر کے لیے نکلا (یہ دونوں اس وقت نصرانی تھے)۔ سہمی کو اس سر زمین پر موت آئی جہاں کوئی مسلمان نہ تھا جسے وہ وصیت کرتا، لہٰذا اس نے اپنا سامان تمیم داری اور عدی کے حوالے کر دیا، پھر جب وہ دونوں اس کے ترکے کے ساتھ واپس آئے تو ورثا نے دیکھا کہ چاندی کا ایک جام، جس پر سونے کے نقش و نگار بنے ہوئے تھے، غائب ہے۔ (مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ گیا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمیم داری اور عدی سے قسم لی (اور انھیں چھوڑ دیا) بعد میں وہ جام مکہ میں ملا، ان لوگوں نے (جن کے پاس سے وہ جام ملا تھا) کہا کہ ہم نے اسے تمیم اور عدی بن بداء سے خریدا ہے، پھر اس سہمی کے ورثا میں سے دو آدمی کھڑے ہوئے اور انھوں نے گواہی دی کہ یقینا یہ جام ہمارے قریبی رشتے دار، یعنی سہمی کا جام ہے، چنانچہ یہ آیت انھی کے بارے میں نازل ہوئی: «يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِيْنَ الْوَصِيَّةِ اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ» [المائدۃ: ۱۰۶] [بخاری، الوصایا، باب قول اللہ عزوجل: «یآیھا الذین اٰمنوا شھادۃ بینکم…» : ۲۷۸]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ یہ حکم اس شخص کے بارے میں ہے جو سفر میں ہو اور وہیں اجل آ جائے اور مال اس کے پاس ہو پس اگر دو مسلمان اسے مل جائیں تو انہیں اپنا مال سونپ دے اور دو گواہ مسلمان مقرر کر لے، اس قول کے مطابق تو یہ دونوں وصی ہوئے، دوسرا قول یہ ہے کہ یہ دونوں گواہ ہوں گے، آیت کے الفاظ کا ظاہر مطلب بھی یہی معلوم ہوتا ہے، ہاں جس صورت میں ان کے ساتھ اور گواہ نہ ہوں تو یہی وصی ہوں گے اور یہی گواہ بھی ہوں گے
امام ابن جریررحمة الله نے ایک مشکل اس میں یہ بیان کی ہے کہ شریعت کے کسی حکم میں گواہ پر قسم نہیں۔ لیکن ہم کہتے ہیں یہ ایک حکم ہے جو مستقل طور پر بالکل علیحدہ صورت میں ہے اور احکام کا قیاس اس پر جاری نہیں ہے، یہ ایک خاص شہادت خاص موقعہ کی ہے اس میں اور بھی بہت سی ایسی باتیں جو دوسرے احکام میں نہیں۔ پس شک کے قرینے کے وقت اس آیت کے حکم کے مطابق ان گواہوں پر قسم لازم آتی ہے۔
دنیوی مفاد کی بناء پر جھوٹی قسم نہیں کھاتے چاہے ہماری قسم سے کسی ہمارے قریبی رشتہ دار کو نقصان پہنچ جائے تو پہنچ جائے لیکن ہم جھوٹی قسم نہیں کھائیں گے اور نہ ہم سچی گواہی چھپائیں گے۔ اس گواہی کی نسبت اللہ کی طرف اس کی عزت و عظمت کے اظہار کیلئے ہے بعض نے اسے قسم کی بنا پر مجرور پڑھا ہے لیکن مشہور قرأت پہلی ہی ہے وہ ساتھ ہی یہ بھی کہیں کہ اگر ہم شہادت کو بدلیں یا الٹ پلٹ کریں یا کچھ حصہ چھپالیں تو ہم بھی گنہگار۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى خبراً متضمناً للأمر بإشهاد اثنين على الوصيَّة إذا حضر الإنسانَ مقدماتُ الموت وعلائمه، فينبغي له أن يكتبَ وصيَّته، ويُشْهِدَ عليها اثنين ذَوَيْ عدل ممَّن يعتبر شهادتهما، {أو آخرانِ من غيركم}؛ أي: من غير أهل دينكم من اليهود أو النصارى أو غيرهم، وذلك عند الحاجة والضَّرورة وعدم غيرهما من المسلمين {إن أنتم ضَرَبْتُم في الأرض}؛ أي: سافرتم فيها، {فأصابَتْكُم مصيبةُ الموت}؛ أي: فأشْهِدوهما، ولم يأمر بإشهادِهِما إلاَّ لأنَّ قولَهما في تلك الحال مقبولٌ، ويؤكَّد عليهما بأن يُحْبَسا {من بعد الصلاة}: التي يعظِّمونها، {فيُقْسِمانِ بالله}: أنهما صَدَقا وما غيَّرا ولا بدَّلا هذا، {إنِ ارْتَبْتُم}: في شهادتهما؛ فإن صدَّقْتُموها ؛ فلا حاجة إلى القسم بذلك. ويقولان: {لا نشتري به}؛ أي: بأيماننا {ثمناً}: بأن نكذب فيها لأجل عَرَض من الدُّنيا، {ولو كان ذا قُربى}: فلا نراعيه لأجل قُربه منَّا، {ولا نكتُمُ شهادةَ الله}: بل نؤدِّيها على ما سمعناها، {إنَّا إذاً}؛ أي: إن كتمناها {لَمِنَ الآثمِين}.