پھر اگر اطلاع پائی جائے کہ وہ دونوں کسی گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں تو دو اور ان کی جگہ کھڑے ہوں گے، ان میں سے جن کے خلاف گناہ کا ارتکاب ہوا ہے، جو زیادہ قریب ہوں، پس وہ دونوں اللہ کی قسم کھائیں گے کہ یقیناً ہماری گواہی ان کی گواہی سے زیادہ سچی ہے اور ہم نے زیادتی نہیں کی، بے شک ہم اس وقت یقیناً ظالموں میں سے ہوں گے۔
En
پھر اگر معلوم ہو جائے کہ ان دونوں نے (جھوٹ بول کر) گناہ حاصل کیا ہے تو جن لوگوں کا انہوں نے حق مارنا چاہا تھا ان میں سے ان کی جگہ اور دو گواہ کھڑے ہوں جو (میت سے) قرابت قریبہ رکھتے ہوں پھر وہ خدا کی قسمیں کھائیں کہ ہماری شہادت ان کی شہادت سے بہت اچھی ہے اور ہم نے کوئی زیادتی نہیں کی ایسا کیا ہو تو ہم بےانصاف ہیں
پھر اگر اس کی اطلاع ہو کہ وه دونوں گواه کسی گناه کے مرتکب ہوئے ہیں تو ان لوگوں میں سے جن کے مقابلہ میں گناه کا ارتکاب ہوا تھا اور دو شخص جو سب میں قریب تر ہیں جہاں وه دونوں کھڑے ہوئے تھے یہ دونوں کھڑے ہوں پھر دونوں اللہ کی قسم کھائیں کہ بالیقین ہماری یہ قسم ان دونوں کی اس قسم سے زیاده راست ہے اور ہم نے ذرا تجاوز نہیں کیا، ہم اس حالت میں سخت ﻇالم ہوں گے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ فَاِنْعُثِرَعَلٰۤىاَنَّهُمَا ﴾”پھر اگر خبر ہوجائے کہ یہ دونوں “ یعنی دونوں گواہ ﴿ اسْتَحَقَّـاۤ٘اِثْمًا ﴾”حق بات دبا گئے ہیں “ یعنی اگر ایسے قرائن پائے جائیں جو ان کے جھوٹ پر دلالت کرتے ہوں اور جن سے ظاہر ہوتا ہو کہ انھوں نے خیانت کی ہے تو جن لوگوں کا انھوں نے حق مارنا چاہا تھا ان میں سے ان کی جگہ دو اور گواہ کھڑے ہوں جو میت کے زیادہ قریبی ہوں، یعنی میت کے اولیاء میں سے دو آدمی کھڑے ہوں اور وہ دونوں میت کے سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار ہوں۔ ﴿ فَ٘یُ٘قْ٘سِمٰنِبِاللّٰهِلَشَهَادَتُنَاۤاَحَقُّمِنْشَهَادَتِهِمَا ﴾”پس وہ دونوں قسم کھائیں اللہ کی، کہ ہماری گواہی زیادہ صحیح ہے پہلوں کی گواہی سے“ یعنی انھوں نے جھوٹ بولا ہے اور وہ وصیت میں تغیر و تبدل کر کے خیانت کے مرتکب ہوئے ہیں ﴿ وَمَااعْتَدَیْنَاۤ١ۖٞاِنَّـاۤ٘اِذًالَّ٘مِنَالظّٰلِمِیْنَ ﴾”اور ہم نے زیادتی نہیں کی، نہیں تو بے شک ہم ظالموں میں سے ہوں گے“ یعنی اگر ہم نے ظلم اور زیادتی کی اور ناحق گواہی دی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فإنْ عُثِرَ على أنَّهما}؛ أي: الشاهدين {استحقّا إثماً}: بأن وُجِدَ من القرائن ما يدلُّ على كذبهما وأنَّهما خانا، {فآخرانِ يقومانِ مَقامَهما من الذينَ استحقَّ عَليهمُ الأوليانِ}؛ أي: فليقمْ رجلان من أولياء الميت، وليكونا من أقرب الأولياء إليه، {فيُقْسِمان بالله لشهادَتُنا أحقُّ من شهادِتهما}؛ أي: أنَّهما كذبا وغيَّرا وخانا. {وما اعْتَدَيْنا إنَّا إذاً لَمِنَ الظَّالمينَ}؛ أي: إن ظلمنا، واعتدينا، وشهِدْنا بغير الحقِّ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔