تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحجرات (49) — آیت 7

وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ فِیۡکُمۡ رَسُوۡلَ اللّٰہِ ؕ لَوۡ یُطِیۡعُکُمۡ فِیۡ کَثِیۡرٍ مِّنَ الۡاَمۡرِ لَعَنِتُّمۡ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ حَبَّبَ اِلَیۡکُمُ الۡاِیۡمَانَ وَ زَیَّنَہٗ فِیۡ قُلُوۡبِکُمۡ وَ کَرَّہَ اِلَیۡکُمُ الۡکُفۡرَ وَ الۡفُسُوۡقَ وَ الۡعِصۡیَانَ ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الرّٰشِدُوۡنَ ۙ﴿۷﴾
اور جان لو کہ تم میں اللہ کا رسول ہے، اگر وہ بہت سے کاموں میں تمھارا کہا مان لے تو یقینا تم مشکل میں پڑ جاؤ اور لیکن اللہ نے تمھارے لیے ایمان کو محبوب بنا دیا اور اسے تمھارے دلوں میںمزین کر دیا اور اس نے کفر اور گناہ اور نافرمانی کو تمھارے لیے ناپسندیدہ بنا دیا، یہی لوگ ہدایت والے ہیں۔ En
اور جان رکھو کہ تم میں خدا کے پیغمبرﷺ ہیں۔ اگر بہت سی باتوں میں وہ تمہارا کہا مان لیا کریں تو تم مشکل میں پڑ جاؤ لیکن خدا نے تم کو ایمان عزیز بنا دیا اور اس کو تمہارے دلوں میں سجا دیا اور کفر اور گناہ اور نافرمانی سے تم کو بیزار کردیا۔ یہی لوگ راہ ہدایت پر ہیں
En
اور جان رکھو کہ تم میں اللہ کے رسول موجود ہیں، اگر وه تمہارا کہا کرتے رہے بہت امور میں، تو تم مشکل میں پڑجاؤ لیکن اللہ تعالیٰ نے ایمان کو تمہارے لئے محبوب بنا دیا ہے اور اسے تمہارے دلوں میں زینت دے رکھی ہے اور کفر کو اور گناه کو اور نافرمانی کو تمہارے نگاہوں میں ناپسندیده بنا دیا ہے، یہی لوگ راه یافتہ ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمھارے اندر موجود ہیں وہ ایسے رسول ہیں، جو صاحب کرم، نیک طینت اور راہِراست دکھانے والے ہیں، جو تمھاری بھلائی چاہتے ہیں تمھارے خیرخواہ ہیں اور تم اپنے لیے شر اور ضرر چاہتے ہو، جس پر رسول تمھاری موافقت نہیں کر سکتے۔ اگر رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہت سے معاملات میں تمھاری اطاعت کرنے لگے تو تم مشقت میں پڑ جاؤ گے اور ہلاکت میں مبتلا ہو جاؤ گے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمھیں رشد و ہدایت کی راہ دکھاتے ہیں اللہ تعالیٰ تمھارے لیے ایمان کو محبوب بناتا ہے، اور اسے تمھارے دلوں میں مزین کرتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے تمھارے دلوں میں حق کی محبت اور اس کی ترجیح ودیعت کی ہے، اس نے حق پر جو شواہد اور دلائل قائم کیے ہیں، جو اس کی صحت پر دلالت کرتے ہیں اور قلوب اور فطرت اس کی قبولیت کی طرف راہ نمائی کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ انابت کی جو توفیق عطا کرتا ہے…وہ ان کے ذریعے سے تمھارے دلوں میں ایمان کو مزین کرتا ہے۔
اس نے تمھارے دلوں میں شر سے جو نفرت و دیعت کی ہے، تمھارے دلوں میں شر کی تعمیل کا جو ارادہ معدوم ہے، اس نے شر کے فساد اور اس کی مضرت پر جو شواہد اور دلائل قائم کیے ہیں، تمھارے دلوں اور فطرت کے اندر شر کی جو عدم قبولیت ودیعت کی ہے اور دلوں کے اندر اللہ تعالیٰ نے شر کے لیے جو کراہت پیدا کی ہے...۔ وہ ان کے ذریعے سے تمھارے دلوں کے لیے کفر و فسق یعنی چھوٹے بڑے گناہ کو ناپسندیدہ بناتا ہے۔
﴿ اُولٰٓىِٕكَ یعنی وہ لوگ جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان مزین کردیا اور اسے ان کا محبوب بنا دیا، اور ان کو کفر، گناہ اور معصیت سے بیزار کردیا۔ ﴿ هُمُ الرّٰشِدُوْنَ وہی راہ ہدایت پر ہیں۔ یعنی جن کے علوم و اعمال درست ہوگئے اور وہ دین قویم اور صراط مستقیم پر کاربند ہوگئے۔
ان کے برعکس اور ان کی ضد وہ لوگ ہیں جن کے لیے کفر، فسق اور عصیان کو پسندیدہ اور ایمان کو ناپسندیدہ بنا دیا گیا ہے۔ یہ گناہ ان کا اپنا گناہ ہے کیونکہ جب انھوں نے فسق کا ارتکاب کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ﴿ زَاغُوْۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ (الصف:61؍5) جب وہ کج رو ہو گئے تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کر دیا۔ چونکہ جب حق پہلی مرتبہ ان کے پاس آیا تو وہ اس پر ایمان نہ لائے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو پلٹ دیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: وليكن لديكم معلومًا أنَّ {رسول الله} - صلى الله عليه وسلم - بين أظهُرِكم، وهو الرسولُ الكريم البارُّ الراشدُ، الذي يريد بكم الخير، وينصح لكم، وتريدون لأنفسكم من الشرِّ والمضرَّة ما لا يوافقكم الرسولُ عليه، و {لو يطيعكم في كثيرٍ من الأمر} لشقَّ عليكم وأعنتكم، ولكن الرسول يرشدكُم، والله تعالى يحبِّب إليكم {الإيمان} ويزيِّنه {في قلوبكم} بما أودع في قلوبكم من محبة الحقِّ وإيثاره، وبما نصب على الحقِّ من الشواهد والأدلَّة الدالَّة على صحَّته وقبول القلوب والفِطَر له، وبما يفعله تعالى بكم من توفيقه للإنابة إليه، ويكرِّه {إليكم الكفر والفسوق}؛ أي: الذنوبَ الكبار. {والعصيان}؛ أي: الذنوبَ الصغار؛ بما أودع في قلوبكم من كراهة الشرِّ وعدم إرادة فعله، وبما نَصَبَه من الأدلَّة والشواهد على فسادِه ومضرَّته وعدم قبول الفطر له، وبما يجعل الله في القلوب من الكراهة له.

{أولئك}؛ أي: الذين زيَّن الله الإيمان في قلوبهم وحبَّبه إليهم، وكرَّه إليهم الكفر والفسوق والعصيان {هم الراشدونَ}؛ أي: الذين صلحت علومُهم وأعمالُهم، واستقاموا على الدين القويم والصراط المستقيم، وضدُّهم الغاوون الذين حُبِّب إليهم الكفر والفسوق والعصيان، وكُرِّه إليهم الإيمان، والذنب ذنبُهم؛ فإنهم لما فسقوا؛ طبعَ اللهُ على قلوبهم، ولما زاغوا؛ أزاغ اللهُ قلوبهم، ولما لم يؤمنوا بالحق لمَّا جاءهم أولَ مرة؛ قلب الله أفئدتهم.