تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ فَضْلًامِّنَاللّٰهِوَنِعْمَةً﴾ یعنی یہ بھلائی جو انھیں حاصل ہے، ان پر اللہ تعالیٰ ہی کا فضل و احسان ہے، اس میں ان کی اپنی قوت و اختیار کو کوئی دخل نہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُعَلِیْمٌحَكِیْمٌ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ اس شخص کو جانتا ہے جو اس نعمت کی قدر کرتا ہے پس وہ اسے اس نعمت کی توفیق سے نواز دیتا ہے اور اس شخص کو بھی جانتا ہے جو اس نعمت کی قدر نہیں کرتا اور یہ نعمت اس کے لائق نہیں ہوتی۔ پس وہ اپنے فضل و کرم کو اس مقام پر رکھتا ہے جہاں اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وقوله: {فضلاً من اللهِ ونعمةً}؛ أي: ذلك الخير الذي حصل لهم هو بفضل الله عليهم وإحسانِهِ، لا بحولهم وقوَّتهم. {واللهُ عليمٌ حكيمٌ}؛ أي: عليمٌ بمن يشكر النعمة فيوفِّقه لها ممَّن لا يشكرها ولا تليقُ به، فيضع فضلَه حيث تقتضيه حكمتُه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔