تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحجرات (49) — آیت 8

فَضۡلًا مِّنَ اللّٰہِ وَ نِعۡمَۃً ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿۸﴾
اللہ کی طرف سے فضل اور نعمت کی وجہ سے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔ En
(یعنی) خدا کے فضل اور احسان سے۔ اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے
En
اللہ کے احسان وانعام سے اور اللہ دانا اور باحکمت ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَنِعْمَةً یعنی یہ بھلائی جو انھیں حاصل ہے، ان پر اللہ تعالیٰ ہی کا فضل و احسان ہے، اس میں ان کی اپنی قوت و اختیار کو کوئی دخل نہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ یعنی اللہ تعالیٰ اس شخص کو جانتا ہے جو اس نعمت کی قدر کرتا ہے پس وہ اسے اس نعمت کی توفیق سے نواز دیتا ہے اور اس شخص کو بھی جانتا ہے جو اس نعمت کی قدر نہیں کرتا اور یہ نعمت اس کے لائق نہیں ہوتی۔ پس وہ اپنے فضل و کرم کو اس مقام پر رکھتا ہے جہاں اس کی حکمت تقاضا کرتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وقوله: {فضلاً من اللهِ ونعمةً}؛ أي: ذلك الخير الذي حصل لهم هو بفضل الله عليهم وإحسانِهِ، لا بحولهم وقوَّتهم. {واللهُ عليمٌ حكيمٌ}؛ أي: عليمٌ بمن يشكر النعمة فيوفِّقه لها ممَّن لا يشكرها ولا تليقُ به، فيضع فضلَه حيث تقتضيه حكمتُه.