تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { لَوْ يُطِيْعُكُمْ فِيْ كَثِيْرٍ مِّنَ الْاَمْرِلَعَنِتُّمْ:} یعنی رسول کے احکام چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ علیم و حکیم ہے اور اس کا ہر حکم علم و حکمت اور رحمت و مصلحت پر مبنی ہے اس لیے رسول کی اطاعت کرنے سے تم ہر طرح کی مشقت اور مصیبت سے بچے رہو گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ تمھارے لیے آسانی چاہتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «يُرِيْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَ لَا يُرِيْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ» [البقرۃ: ۱۸۵] ”اللہ تمھارے ساتھ آسانی کا ارادہ رکھتا ہے اورتمھارے ساتھ تنگی کا ارادہ نہیں رکھتا۔“ اور رسول کو بھی تمھارا مشقت میں پڑنا کسی صورت گوارا نہیں، فرمایا: «عَزِيْزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيْصٌ عَلَيْكُمْ» [التوبۃ: ۱۲۸] ”اس پر بہت شاق ہے کہ تم مشقت میں پڑو، تم پر بہت حرص رکھنے والا ہے۔“ اس کے برعکس اگر رسول تمھاری اطاعت کرے تو تم مشقت میں پڑ جاؤ گے، کیونکہ اوّل تو تمھاری سب کی بات ایک نہیں ہو گی، ہر شخص وہ بات منوانے کی کوشش کرے گا جو اس کے خیال میں اس کے فائدے کی ہے، تو رسول کس کس کی بات مانے گا اور کس کی بات کا امت کو حکم دے گا؟ پھر تمھارا علم ناقص ہے، نہ تمھیں مستقبل کی کوئی خبر ہے نہ تم غیب کا علم رکھتے ہو، تمھیں کیا معلوم کہ تم جسے اپنے لیے فائدہ مند سمجھ رہے ہو وہ انجام کے لحاظ سے کس قدر نقصان دہ ہے۔ اس لیے جس طرح کائنات کا نظام درست اس لیے چل رہا ہے کہ وہ ایک اللہ کے حکم کے مطابق چل رہا ہے اسی طرح شریعت کا نظام بھی صرف رسول کی اطاعت سے صحیح چل سکتا ہے، کیونکہ اس کی اطاعت درحقیقت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے، فرمایا: «وَ لَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ اَهْوَآءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِيْهِنَّ» [المؤمنون: ۷۱] ”اور اگر حق ان کی خواہشوں کے پیچھے چلے تو سب آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہے، یقینا بگڑ جائیں۔“
➌ { ” لَوْ يُطِيْعُكُمْ فِيْ كَثِيْرٍ مِّنَ الْاَمْرِ “} میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ رسول بعض تدبیری امور میں تمھارا مشورہ مان بھی لیتا ہے، کیونکہ اسے اللہ کی طرف سے مشورے کا حکم دیا گیا ہے، چنانچہ فرمایا: «فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَ شَاوِرْهُمْ فِي الْاَمْرِ» [آل عمران: ۱۵۹] ”سو ان سے درگزر کر اور ان کے لیے بخشش کی دعا کر اور کام میں ان سے مشورہ کر۔“ مگر یاد رکھو! تمھارا کام حکم دینا نہیں، مشورہ دینا ہے، رسول مناسب سمجھے تو مان لے مناسب نہ سمجھے تو نہ مانے، آخری فیصلہ اللہ تعالیٰ کی راہنمائی کے ساتھ اسی نے کرنا ہے، جیسا کہ فرمایا: «فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ» [آل عمران: ۱۵۹] ”پھر جب تو پختہ ارادہ کرے تو اللہ پر بھروسا کر۔“
➍ { وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَيْكُمُ الْاِيْمَانَ:} ایمان سے مراد یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہے جس میں تصدیق بالقلب، اقرار باللسان اور عمل بالارکان تینوں شامل ہیں۔ یعنی اگر رسول بہت سی باتوں میں تمھاری اطاعت کرے تو یقینا تم مشکل میں پڑ جاؤ، لیکن اللہ تعالیٰ نے(تمھیں مشکل میں پڑنے سے بچا لیا اور) ایمان یعنی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو تمھارے لیے محبوب بنا دیا اور اسے تمھارے دلوں میں ایسا مزین کر دیا کہ تم خوش دلی سے رسول کی اطاعت پر کار بند ہو گئے۔ اس لیے بعض اوقات بتقاضائے بشریت تم سے غلطی ہو جاتی ہے مگر ایمان کی محبت اور کفر سے نفرت کی بدولت تم جلد ہی اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہو اور گناہوں سے باز رہتے ہو۔
➎ { وَ كَرَّهَ اِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَ الْفُسُوْقَ وَ الْعِصْيَانَ:} یعنی کفر، فسوق اور عصیان کو تمھارے لیے ناپسندیدہ بنا دیا۔ رازی نے فرمایا: ”ایمان میں تصدیق بالقلب، اقرار باللسان اور عمل بالارکان تینوں شامل ہیں۔ کفر دل کی تصدیق نہ ہونا ہے، فسوق زبان سے اقرار نہ کرنا ہے اور عصیان عمل نہ کرنا ہے۔“ شیخ عبد الرحمان السعدی نے فرمایا: ”(کفر کا معنی تو ظاہر ہے) فسوق سے مراد بڑے گناہ (کبائر) اور عصیان سے مراد ان سے کم تر درجے کے گناہ ہیں۔“ (واللہ اعلم)
➏ {اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الرّٰشِدُوْنَ:} یعنی یہ لوگ جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایمان کو محبوب بنا دیا ہے اور اسے ان کے دلوں میں مزین کر دیا ہے اور کفر و فسوق و عصیان کو ان کے لیے ناپسندیدہ بنا دیا ہے، یہی لوگ ہیں جو کامل ہدایت والے ہیں۔ ”الف لام“ بیانِ کمال کے لیے ہے اور حصر کا فائدہ بھی دے رہا ہے کہ صحابہ ہی ہدایت پر ہیں، ان کے دشمن اور مخالف گمراہ ہیں۔ اس آیت میں صحابہ کرام کی بے حد فضیلت بیان ہوئی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے پہلے ان کے وہ اوصاف حمیدہ بیان کیے جو اس نے انھیں عطا فرمائے اور آخر میں صریح الفاظ میں ان کے راہِ راست پر ہونے کی شہادت دی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[9] تم پر یہ اللہ کی خاص مہربانی ہے کہ تمہیں کفر اور اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کے کاموں سے نفرت ہو چکی ہے۔ اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں تم راحت اور خوشی محسوس کرتے ہو۔ لہٰذا معاشرتی آداب کے سلسلہ میں ان ہدایات کو بھی ملحوظ خاطر رکھا کرو جو تمہیں اب دی جا رہی ہیں۔ اسی صورت میں تم ہدایت یافتہ ہو سکتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
چنانچہ اور جگہ ارشاد ہے «النَّبِيُّ أَوْلَىٰ بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّـهِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ إِلَّا أَن تَفْعَلُوا إِلَىٰ أَوْلِيَائِكُم مَّعْرُوفًا كَانَ ذَٰلِكَ فِي الْكِتَابِ مَسْطُورًا» ۱؎ [33-الأحزاب:6] یعنی ’ مسلمانوں کے معاملات میں ان کی اپنی بہ نسبت نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) ان کے لیے زیادہ خیر اندیش ہیں ‘۔
پھر بیان فرمایا کہ ’ لوگو تمہاری عقلیں تمہاری مصلحتوں اور بھلائیوں کو نہیں پا سکتیں انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پا رہے ہیں۔ پس اگر وہ تمہاری ہر پسندیدگی کی رائے پر عامل بنتے رہیں تو اس میں تمہارا ہی حرج واقع ہو گا۔ ‘
جیسے اور آیت میں ہے «وَلَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ أَهْوَاءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ وَمَن فِيهِنَّ بَلْ أَتَيْنَاهُم بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَن ذِكْرِهِم مُّعْرِضُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:71] یعنی ’ اگر سچا رب ان کی خوشی پر چلے تو آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی ہر چیز خراب ہو جائے یہ نہیں بلکہ ہم نے انہیں ان کی نصیحت پہنچا دی ہے لیکن یہ اپنی نصیحت پر دھیان ہی نہیں دھرتے ‘۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ اللہ نے ایمان کو تمہارے نفسوں میں محبوب بنا دیا ہے اور تمہارے دلوں میں اس کی عمدگی بٹھا دی ہے ‘۔
مسند احمد میں ہے { رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اسلام ظاہر ہے اور ایمان دل میں ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سینے کی طرف تین بار اشارہ کرتے اور فرماتے تقویٰ یہاں ہے، پرہیزگاری کی جگہ یہ ہے“ }۔ ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:6906]
اس نے تمہارے دلوں میں کبیرہ گناہ اور تمام نافرمانیوں کی عداوت ڈال دی ہے اس طرح بتدریج تم پر اپنی نعمتیں بھرپور کر دی ہیں۔ پھر ارشاد ہوتا ہے جن میں یہ پاک اوصاف ہیں انہیں اللہ نے رشد نیکی ہدایت اور بھلائی دے رکھی ہے۔
مرفوع حدیث میں ہے { جس شخص کو اپنی نیکی اچھی لگے اور برائی اسے ناراض کرے وہ مومن ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2165،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر فرماتا ہے یہ بخشش جو تمہیں عطا ہوئی ہے یہ تم پر اللہ کا فضل ہے اور اس کی نعمت ہے اللہ مستحقین ہدایت کو اور مستحقین ضلالت کو بخوبی جانتا ہے وہ اپنے اقوال و افعال میں حکیم ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: وليكن لديكم معلومًا أنَّ {رسول الله} - صلى الله عليه وسلم - بين أظهُرِكم، وهو الرسولُ الكريم البارُّ الراشدُ، الذي يريد بكم الخير، وينصح لكم، وتريدون لأنفسكم من الشرِّ والمضرَّة ما لا يوافقكم الرسولُ عليه، و {لو يطيعكم في كثيرٍ من الأمر} لشقَّ عليكم وأعنتكم، ولكن الرسول يرشدكُم، والله تعالى يحبِّب إليكم {الإيمان} ويزيِّنه {في قلوبكم} بما أودع في قلوبكم من محبة الحقِّ وإيثاره، وبما نصب على الحقِّ من الشواهد والأدلَّة الدالَّة على صحَّته وقبول القلوب والفِطَر له، وبما يفعله تعالى بكم من توفيقه للإنابة إليه، ويكرِّه {إليكم الكفر والفسوق}؛ أي: الذنوبَ الكبار. {والعصيان}؛ أي: الذنوبَ الصغار؛ بما أودع في قلوبكم من كراهة الشرِّ وعدم إرادة فعله، وبما نَصَبَه من الأدلَّة والشواهد على فسادِه ومضرَّته وعدم قبول الفطر له، وبما يجعل الله في القلوب من الكراهة له.
{أولئك}؛ أي: الذين زيَّن الله الإيمان في قلوبهم وحبَّبه إليهم، وكرَّه إليهم الكفر والفسوق والعصيان {هم الراشدونَ}؛ أي: الذين صلحت علومُهم وأعمالُهم، واستقاموا على الدين القويم والصراط المستقيم، وضدُّهم الغاوون الذين حُبِّب إليهم الكفر والفسوق والعصيان، وكُرِّه إليهم الإيمان، والذنب ذنبُهم؛ فإنهم لما فسقوا؛ طبعَ اللهُ على قلوبهم، ولما زاغوا؛ أزاغ اللهُ قلوبهم، ولما لم يؤمنوا بالحق لمَّا جاءهم أولَ مرة؛ قلب الله أفئدتهم.