تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحجرات (49) — آیت 16

قُلۡ اَتُعَلِّمُوۡنَ اللّٰہَ بِدِیۡنِکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ وَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۱۶﴾
کہہ دے کیا تم اللہ کو اپنے دین سے آگاہ کر رہے ہو، حالانکہ اللہ جانتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔ En
ان سے کہو کیا تم خدا کو اپنی دینداری جتلاتے ہو۔ اور خدا تو آسمانوں اور زمین کی سب چیزوں سے واقف ہے۔ اور خدا ہر شے کو جانتا ہے
En
کہہ دیجئے! کہ کیا تم اللہ تعالیٰ کو اپنی دینداری سے آگاه کر رہے ہو، اللہ ہر اس چیز سے جو آسمانوں میں اور زمین میں ہے بخوبی آگاه ہے۔ اور اللہ ہر چیز کا جاننے واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قُ٘لْ اَتُعَلِّمُوْنَ اللّٰهَ بِدِیْنِكُمْ١ؕ وَاللّٰهُ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَاللّٰهُ بِكُ٘لِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ کہہ دیجیے: کیا تم اللہ تعالیٰ کو اپنی دین داری سے آگاہ کر رہے ہو حالانکہ اللہ تعالیٰ ہر اس چیز سے جو آسمانوں میں اور زمین میں ہے بخوبی آگاہ ہے اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ یہ تمام اشیاء کو شامل ہے اور دل کے اندر جو ایمان اور کفر، نیکی اور بدی ہوتی ہے وہ بھی اسی میں داخل ہے اور اللہ تعالیٰ یہ سب کچھ جانتا ہے اور وہ اس کی جزا دے گا، اگر اچھا عمل ہو گا تو اچھی جزا ہو گی اور برا عمل ہوگا تو بری جزا ہو گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا قال: {قل أتُعَلِّمون اللهَ بِدينِكم واللهُ يعلمُ ما في السمواتِ وما في الأرضِ واللهُ بكلِّ شيءٍ عليمٌ}: وهذا شاملٌ للأشياء كلِّها، التي من جملتِها ما في القلوب من الإيمان والكفران والبرِّ والفجور؛ فإنَّه تعالى يعلمُ ذلك كلَّه، ويجازي عليه، إن خيراً فخيرٌ، وإن شرًّا فشرٌّ.