وہ تجھ پر احسان رکھتے ہیں کہ وہ اسلام لے آئے، کہہ دے مجھ پر اپنے اسلام کا احسان نہ رکھو، بلکہ اللہ تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے تمھیں ایمان کے لیے ہدایت دی، اگر تم سچے ہو۔
En
یہ لوگ تم پر احسان رکھتے ہیں کہ مسلمان ہوگئے ہیں۔ کہہ دو کہ اپنے مسلمان ہونے کا مجھ پر احسان نہ رکھو۔ بلکہ خدا تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کا رستہ دکھایا بشرطیکہ تم سچے (مسلمان) ہو
اپنے مسلمان ہونے کا آپ پر احسان جتاتے ہیں۔ آپ کہہ دیجئے کہ اپنے مسلمان ہونے کا احسان مجھ پر نہ رکھو، بلکہ دراصل اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی ہدایت کی اگر تم راست گو ہو
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہ اس شخص کا حال ہے جو ایمان کا دعویٰ کرتا ہے حالانکہ اس میں ایمان نہیں ہوتا۔ یہ دعویٰ یا تو اللہ تعالیٰ کو آگاہ کرنے کے لیے ہے درآں حالیکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز سے آگاہ ہے یا اس کلام کا مقصد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر احسان کا اظہار ہے کہ انھوں نے جو کچھ کیا ہے اس میں ان کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو اس کا دنیاوی فائدہ حاصل ہوا ہے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایسے معاملے سے اپنے آپ کو آراستہ کرنا ہے جس سے آراستہ نہیں ہوا جا سکتا اور ایسے معاملے پر فخر کرنا ہے جو قابل فخر نہیں۔ کیونکہ احسان اور نوازش کا مالک تو اللہ تعالیٰ ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو تخلیق کیا اور رزق عطا کیا، ان کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا۔ پس یہ اس کی عنایت اور احسان ہے کہ اس نے اسلام کی طرف ان کی راہ نمائی کی اور یہ اس کا احسان ہے کہ اس ایمان سے ان کو سرفراز فرمایا جو ہر چیز سے افضل ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ یَمُنُّوْنَعَلَیْكَاَنْاَسْلَمُوْا١ؕقُ٘لْلَّاتَمُنُّوْاعَلَیَّاِسْلَامَكُمْ١ۚبَلِاللّٰهُیَمُنُّعَلَیْكُمْاَنْهَدٰؔىكُمْلِلْاِیْمَانِاِنْكُنْتُمْصٰؔدِقِیْنَ﴾”اپنے مسلمان ہونے کا آپ پر احسان جتاتے ہیں، آپ کہہ دیجیے کہ اپنے مسلمان ہونے کا احسان مجھ پر نہ رکھو، بلکہ دراصل اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمھیں ایمان کی ہدایت کی، اگر تم راست گو ہو۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذه حالةٌ من أحوال من ادَّعى لنفسه الإيمان وليس به؛ فإنَّه إمَّا أن يكون ذلك تعليماً لله، وقد علم أنه عالمٌ بكلِّ شيء، وإمَّا أن يكون قصدُهم بهذا الكلام المنة على رسولِه، وأنَّهم قد بذلوا وتبرَّعوا بما ليس من مصالحهم بل هو من حظوظه الدنيويَّة، وهذا تجمُّلٌ بما لا يجمل، وفخرٌ بما لا ينبغي لهم الفخر به على رسوله؛ فإنَّ المنَّة لله تعالى عليهم؛ فكما أنه تعالى هو المانُّ عليهم بالخلق والرزق والنعم الظاهرة والباطنة؛ فمنَّتُه عليهم بهدايتهم إلى الإسلام ومنَّتُه عليهم بالإيمان أفضلُ من كلِّ شيء، ولهذا قال: {يَمُنُّونَ عليك أنْ أسلَموا قل لا تَمُنُّوا عليَّ إسلامكم بلِ اللهُ يمنُّ عليكم أنْ هداكُم للإيمانِ إن كنتُم صادقينَ}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔