مومن تو وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے، پھر انھوں نے شک نہیں کیا اور انھوں نے اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔ یہی لوگ سچے ہیں۔
En
مومن تو وہ ہیں جو خدا اور اس کے رسول پر ایمان لائے پھر شک میں نہ پڑے اور خدا کی راہ میں مال اور جان سے لڑے۔ یہی لوگ (ایمان کے) سچے ہیں
مومن تو وه ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر (پکا) ایمان ﻻئیں پھر شک وشبہ نہ کریں اور اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے اللہ کی راه میں جہاد کرتے رہیں، (اپنے دعوائے ایمان میں) یہی سچے اور راست گو ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ اِنَّمَاالْمُؤْمِنُوْنَ﴾ یعنی حقیقی مومن ﴿ الَّذِیْنَاٰمَنُوْابِاللّٰهِوَرَسُوْلِهٖ٘ثُمَّلَمْیَرْتَابُوْاوَجٰهَدُوْابِاَمْوَالِهِمْوَاَنْفُسِهِمْفِیْسَبِیْلِاللّٰہِ﴾ وہ ہیں جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان اور اللہ کے راستے میں جہاد کو یکجا کیا۔ اور جس نے کفار کے ساتھ جہاد کیا تو یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ اس کے دل میں کامل ایمان ہے۔ کیونکہ جو کوئی اسلام، ایمان اور اللہ تعالیٰ کے دین کو قائم کرنے کے لیے دوسروں سے جہاد کرتا ہے تو اس کا اپنے نفس کے ساتھ جہاد کرنا زیادہ اولیٰ ہے۔ نیز اس لیے بھی کہ جو کوئی جہاد کی قوت نہیں پاتا تو یہ اس کے ایمان کی کمزوری کی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایمان کے لیے عدم شک و ریب کی شرط عائد کی ہے کیونکہ ایمان نافع سے مراد ہے اس معاملے میں قطعی یقین سے بہرہ ور ہونا جس پر اللہ تعالیٰ نے ایمان رکھنے کا حکم دیا ہے جس میں کسی لحاظ سے بھی شک و شبہ کا شائبہ نہ ہو۔
﴿ اُولٰٓىِٕكَهُمُالصّٰؔدِقُوْنَ﴾”یہی لوگ سچے ہیں“ یعنی جنھوں نے اعمال جمیلہ کے ذریعے سے اپنے ایمان کی تصدیق کی، کیونکہ ہر معاملے میں صدق ایک بڑا دعویٰ ہے، جس میں صاحبِ صدق کسی دلیل و برہان کا محتاج ہے، اور ایمان کا دعویٰ تو سب سے بڑا دعویٰ ہے جس پر بندے کی سعادت، ابدی کامیابی اور سرمدی فلاح کا دار ومدار ہے۔ پس جو کوئی ایمان کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کے واجبات و لوازم کو قائم کرتا ہے، وہی حقیقی اور سچا مومن ہے۔ اور جو کوئی ایسا نہیں تو وہ اپنے دعوے میں سچا نہیں اور اس کے اس دعوائے ایمان کا کوئی فائدہ نہیں۔ کیونکہ ایمان دل کے اندر ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اس لیے ایمان کا اثبات کرنا یا اس کی نفی کرنا، گویا دل میں جو کچھ ہے اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو آگاہ کرنا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں بے ادبی اور بدظنی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{إنَّما المؤمنون}؛ أي: على الحقيقة، {الذين آمنوا بالله ورسولِهِ وجاهدوا في سبيلِ اللهِ}؛ أي: من جمعوا بينَ الإيمان بالله ورسولِهِ والجهادِ في سبيله؛ فإنَّ مَن جاهدَ الكفارَ؛ دلَّ ذلك على الإيمان التامِّ في قلبِهِ؛ لأنَّ من جاهد غيره على الإسلام والإيمان والقيام بشرائعه؛ فجهاده لنفسه على ذلك من باب أولى وأحرى، ولأنَّ من لم يقوَ على الجهاد؛ فإنَّ ذلك دليلٌ على ضعف إيمانه. وشرط تعالى في الإيمان عدم الريب؛ أي: الشكِّ؛ لأنَّ الإيمان النافع هو الجزم اليقينيُّ بما أمر الله بالإيمان به، الذي لا يعتريه شكٌّ بوجه من الوجوه. وقوله: {أولئك هم الصادقون}؛ أي: الذين صدَّقوا إيمانهم بأعمالهم الجميلة؛ فإنَّ الصدقَ دعوى عظيمةٌ في كل شيء يُدَّعى، يحتاج صاحبه إلى حجة وبرهانٍ، وأعظم ذلك دعوى الإيمان، الذي هو مدار السعادة والفوز الأبديِّ والفلاح السرمديِّ؛ فمن ادَّعاه وقام بواجباته ولوازمه؛ فهو الصادق المؤمن حقًّا، ومن لم يكن كذلك؛ عُلِم أنه ليس بصادق في دعواه، وليس لدعواه فائدة؛ فإنَّ الإيمان في القلب، لا يطلع عليه إلا الله تعالى؛ فإثباتُه ونفيُه من باب تعليم الله بما في القلب وهو سوء أدبٍ وظنٍّ بالله.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔