بدویوں نے کہا ہم ایمان لے آئے، کہہ دے تم ایمان نہیں لائے اور لیکن یہ کہو کہ ہم مطیع ہوگئے اور ابھی تک ایمان تمھارے دلوں میں داخل نہیں ہوا اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو گے تو وہ تمھیں تمھارے اعمال میں کچھ کمی نہیں کرے گا، بے شک اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
En
دیہاتی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے۔ کہہ دو کہ تم ایمان نہیں لائے (بلکہ یوں) کہو کہ ہم اسلام لائے ہیں اور ایمان تو ہنوز تمہارے دلوں میں داخل ہی نہیں ہوا۔ اور تم خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو گے تو خدا تمہارے اعمال سے کچھ کم نہیں کرے گا۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے
دیہاتی لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان ﻻئے۔ آپ کہہ دیجئے کہ درحقیقت تم ایمان نہیں ﻻئے لیکن تم یوں کہو کہ ہم اسلام ﻻئے (مخالفت چھوڑ کر مطیع ہوگئے) حاﻻنکہ ابھی تک تمہارے دلوں میں ایمان داخل ہی نہیں ہوا۔ تم اگر اللہ کی اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرنے لگو گے تو اللہ تمہارے اعمال میں سے کچھ بھی کم نہ کرے گا۔ بیشک اللہ بخشنے واﻻ مہربان ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ بعض ان عرب دیہاتیوں کے قول کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں کسی بصیرت کے بغیر اسلام میں داخل ہوئے اور ان امور کو قائم نہ کیا جن کا قیام واجب اور جن کے قیام کا تقاضا ایمان کرتا ہے۔ اور اس کے باوجود وہ یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں ”ہم ایمان لائے“ یعنی کامل ایمان جو تمام امور کو پورا کرتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ ان کے اس قول کی تردید کر دیں، چنانچہ فرمایا ﴿ قُ٘لْلَّمْتُؤْمِنُوْا﴾ یعنی کہہ دیجیے: تم اپنے لیے ظاہری اور باطنی طور پر کامل مقام ایمان کا دعوی نہ کرو ﴿ وَلٰكِنْقُوْلُوْۤااَسْلَمْنَا﴾”لیکن کہو ہم اسلام لائے۔“ یعنی ہم اسلام میں داخل ہو گئے اور اسی پر اکتفا کرو۔ ﴿ وَ ﴾”اور “اس کا سبب یہ ہے کہ ﴿لَمَّایَدْخُلِالْاِیْمَانُفِیْقُلُوْبِكُمْ﴾ تم نے تو محض کسی خوف یا کسی امید وغیرہ کی بنا پر اسلام قبول کیا ہے، جو تمھارے ایمان کا سبب ہے، اس لیے ایمان کی بشاشت ابھی تمھارے دلوں میں داخل نہیں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿وَلَمَّایَدْخُلِالْاِیْمَانُفِیْقُلُوْبِكُمْ﴾ سے مراد ہے کہ جب تم سے یہ کلام صادر ہوا اس وقت تک تمھارے دلوں میں ایمان داخل نہیں ہوا تھا، اس آیت کریمہ میں ان کے بعد کے احوال کی طرف اشارہ ہے کیونکہ ان میں سے بہت سے لوگ ایسے بھی تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے حقیقی ایمان سے بہرہ مند اور جہاد فی سبیل اللہ کی فضیلت سے سرفراز فرمایا۔
﴿ وَاِنْتُطِیْعُوااللّٰهَوَرَسُوْلَهٗ﴾ اور اگر تم کسی فعلِ خیر اور اجتنابِ شر کے ذریعے سے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہو ﴿ لَایَلِتْكُمْمِّنْاَعْمَالِكُمْشَیْـًٔـا﴾ تو وہ تمھارے اعمال میں ذرہ بھر کمی نہیں کرے گا بلکہ تمھارے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا اور تم اپنا کوئی چھوٹا یا بڑا عمل غیر موجود نہیں پاؤ گے ﴿ اِنَّاللّٰهَغَفُوْرٌرَّحِیْمٌ﴾یقیناً اللہ تعالیٰ اس شخص کے گناہ بخش دیتا ہے جو توبہ کر کے اس کی طرف رجوع کرتا ہے اور وہ اس پر نہایت مہربان ہے کہ اس نے اس کی توبہ قبول کی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبرُ تعالى عن مقالةِ الأعراب، الذين دخلوا في الإسلام على عهد رسول الله - صلى الله عليه وسلم - دخولاً من غير بصيرةٍ ولا قيامٍ بما يجبُ ويقتضيه الإيمان؛ أنَّهم مع هذا ادَّعوا وقالوا {آمنَّا}؛ أي: إيماناً كاملاً مستوفياً لجميع أموره. هذا موجب هذا الكلام، فأمر الله رسوله أن يردَّ عليهم، فقال: {قل لمْ تؤمِنوا}؛ أي: لا تدَّعوا لأنفسِكُم مقامَ الإيمان ظاهراً وباطناً كاملاً، {ولكن قولوا أسْلَمْنا}؛ أي: دخلْنا في الإسلام، واقْتَصِروا على ذلك، {و} السبب في ذلك أنه {لَمَّا يدخلِ الإيمانُ في قلوبِكُم}: وإنَّما أسلمتم خوفاً أو رجاءً أو نحو ذلك مما هو السبب في إيمانكم؛ فلذلك لم تدخل بشاشة الإيمان في قلوبكم. وفي قوله: {ولمَّا يدخلِ الإيمانُ في قلوبِكُم}؛ أي: وقتَ هذا الكلام الذي صدر منكم، فكان فيه إشارةٌ إلى أحوالهم بعد ذلك؛ فإنَّ كثيراً منهم منَّ الله عليهم بالإيمان الحقيقيِّ والجهاد في سبيل الله، {وإن تُطيعوا اللهَ ورسولَه}: بفعل خير أو ترك شرٍّ {لا يَلِتْكُم من أعمالِكُمْ شيئاً}؛ أي: لا يَنْقُصْكم منها مثقال ذرَّةٍ، بل يوفيكم إيَّاها أكمل ما تكون، لا تفقدون منها صغيراً ولا كبيراً. {إنَّ الله غفورٌ رحيمٌ}؛ أي: غفورٌ لمَن تابَ إليه وأناب، رحيمٌ به؛ حيث قبل توبته.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔