تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { اٰمَنَّا:} سورت کی ابتدا میں ان اعراب کا ذکر ہے جو نئے نئے مسلمان ہوئے تھے اور ابھی تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آداب اور اسلام کے دوسرے احکام سے پوری طرح واقف نہیں تھے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان آداب و احکام کی تلقین فرمائی اور جاہلیت کے فخر و غرور اور اس سے پیدا ہونے والی قباحتوں سے منع فرمایا۔ اس سلسلے میں واضح فرمایا کہ آدمی کو دوسروں پر فخر کا حق ہی نہیں، کیونکہ وہ عزت جو دوسروں پر برتری دلاتی ہے وہ صرف تقویٰ سے حاصل ہوتی ہے، جس کا تعلق دل سے ہے اور دل کا حال صرف علیم و خبیر جانتا ہے۔ یہاں سے ان اعراب کے کچھ دعوے ذکر فرما کر، جن سے ان کے فخر کا اظہار ہوتا تھا، ان کی تردید فرمائی۔ سب سے پہلے ان کے اس دعوے کا ذکر فرما کر کہ ہم ایمان لے آئے ہیں، اس کی نفی فرمائی۔
➌ { قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَ لٰكِنْ قُوْلُوْۤا اَسْلَمْنَا:} اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ان سے کہو کہ تم ایمان نہیں لائے بلکہ یوں کہو کہ ہم اسلام لے آئے۔ واضح رہے کہ قرآن و حدیث میں عام طور پر ایمان اور اسلام ایک ہی معنی میں استعمال ہوئے ہیں، جس میں دل کا یقین اور ظاہری فرماں برداری دونوں شامل ہیں، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبد القیس کو ایمان کی تشریح کرتے ہوئے بتایا کہ ایمان کلمۂ شہادت، نماز، روزے، زکوٰۃ، حج اور غنیمت میں سے خمس ادا کرنے کا نام ہے اور اللہ تعالیٰ نے {” اِنَّ الدِّيْنُ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ “} کہہ کر اپنی جناب میں معتبر دین اسلام کو قرار دیا اور ظاہر ہے وہاں وہی دین معتبر ہے جو دل کے یقین سے ہو، صرف ظاہری اعمال تو وہاں کچھ حیثیت نہیں رکھتے۔ بعض اوقات اسلام سے مراد ظاہری احکام کی پابندی اور ایمان سے مراد قلبی یقین ہوتا ہے، جیسا کہ حدیث جبریل میں ہے۔ یہاں بھی ایسا ہی ہے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمیشہ ایمان سے مراد دلی یقین اور اسلام سے مراد ظاہری اعمال ہوتے ہیں، بلکہ بعض اوقات اسلام سے مراد دل سے مان لینا ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «فَمَنْ يُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ يَّهْدِيَهٗ يَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ» [الأنعام: ۱۲۵] ”تو وہ شخص جسے اللہ چاہتا ہے کہ اسے ہدایت دے، اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے۔“ جس طرح بعض اوقات ایمان سے مراد صرف زبانی کلمہ پڑھنا ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ» [النساء:۱۳۶] ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! (یعنی جنھوں نے ایمان کا اقرار کیا ہے) ایمان لے آؤ (یعنی دل سے مان لو)۔“ یہاں فرمایا، ان سے کہو کہ تم ایمان نہیں لائے، بلکہ یوں کہو کہ ہم اسلام لے آئے ہیں۔ یعنی ہم کلمہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہو گئے ہیں اور اس کے ظاہری احکام پر عمل شروع کر دیا ہے۔ یہاں الفاظ پر غور فرمائیں، اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ {” قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوْا وَ لٰكِنْ أَسْلَمْتُمْ “} ”ان سے کہو کہ تم ایمان نہیں لائے، بلکہ تم مسلم ہو گئے ہو۔“ بلکہ فرمایا: «لَمْ تُؤْمِنُوْا وَ لٰكِنْ قُوْلُوْۤا اَسْلَمْنَا» ”تم ایمان نہیں لائے، بلکہ یوں کہو کہ ہم اسلام لے آئے ہیں۔“ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے مومن ہونے کی نفی کے بعد ان کے مسلم ہونے کو تسلیم نہیں کیا، بلکہ یہ فرمایا کہ تم مسلم ہونے کا دعویٰ کر سکتے ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مسلم وہی تسلیم ہو سکتا ہے جو مومن بھی ہو۔ اس کے ہاں اگر کسی کے دل میں یقین نہیں تو ظاہری اعمال کا بھی کچھ اعتبار نہیں۔ ہاں ظاہری طور پر اسلامی احکام کی پابندی کرنے والے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسلام کا دعویٰ کرنے کی اجازت ہے۔
➍ { وَ لَمَّا يَدْخُلِ الْاِيْمَانُ فِيْ قُلُوْبِكُمْ:} ”اور ابھی تک ایمان تمھارے دلوں میں داخل نہیں ہوا“ اس جملے سے ظاہر ہے کہ یہ لوگ اگرچہ پکے مومن نہیں تھے مگر منافق بھی نہیں تھے، کیونکہ وہ دل سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھوٹا نہیں جانتے تھے۔ ان کے شک کی وجہ سے ان کے ایمان کی نفی کی گئی اور اگلی آیت میں مومن ان لوگوں کو قرار دیا جو ایمان لائے پھر انھوں نے شک نہیں کیا۔ {” لَمَّا “} کے لفظ سے ظاہر ہے کہ اگرچہ وہ ابھی تک ایمان نہیں لائے تھے، مگر آئندہ ان کے دلوں کے اندر ایمان داخل ہونے کی امید تھی۔
➎ {وَ اِنْ تُطِيْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَا يَلِتْكُمْ …:” لاَ يَلِتْ “} اصل میں {” لاَ يَلِيْتُ “} تھا، {” وَ اِنْ تُطِيْعُوْا “} شرط کا جواب ہونے کی وجہ سے تاء پر جزم آ گئی، تو یاء اور تاء دو ساکن جمع ہونے کی وجہ سے یاء گر گئی۔ {”لَاتَ يَلِيْتُ“} کسی کے حق میں کمی کرنا۔ یعنی اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمھارے اعمال میں کچھ کمی نہیں کرے گا۔ ظاہر ہے ان دونوں کی اطاعت کی شرط اوّل ان پر سچے دل سے ایمان و یقین رکھنا ہے۔ اس میں انھیں اخلاص و یقین کی ترغیب دلائی ہے، یعنی اسلام کے احکام پر ثواب کی امید بھی اس وقت ہو سکتی ہے جب ظاہر و باطن سے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہو۔ یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے بعد اعمال کا پورا ثواب دینا اور اس میں کمی نہ کرنا صرف اللہ کا کام ہے، رسول کا نہیں۔ اس لیے {”لاَ يَلِتْ“} واحد کا صیغہ استعمال فرمایا۔
➏ { اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ:} یعنی اطاعت کے بعد پہلی کوتاہیوں کو اللہ معاف کر دے گا، کیونکہ وہ گناہوں پر بے حد پردہ ڈالنے والا اور نہایت رحم والا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایمان کا تعلق دل کے افعال سے ہے اور اسلام کا ظاہری اعمال سے۔ یہ ان میں فرق کا پہلو ہے اور مماثلت کا پہلو یہ ہے کہ اگر ارکان اسلام کو باقاعدہ اور خلوص نیت سے ادا کیا جائے تو اس سے ایمان میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اور ایمان میں اضافہ سے ظاہری اعمال میں حسن پیدا ہوتا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے ایمان اور اسلام ایک دوسرے کے مؤید اور لازم و ملزوم بن جاتے ہیں۔ منافقوں میں کمی یہ ہوتی ہے کہ ان کے اعمال میں نہ خلوص ہوتا ہے اور نہ حسن عمل لہٰذا ان کا ایمان شہادتین کے اقرار سے آگے بڑھتا ہی نہیں یعنی ایمان یا یقین ان کے دلوں میں راسخ نہیں ہوتا۔ اسی بات کو اللہ نے ایمان نہ لانے کے مترادف قرار دیا ہے۔
[24] یعنی اب بھی اگر تم اپنا رویہ درست کر لو اور دل و جان سے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے لگو تو اللہ تمہارے سابقہ اعمال کا اجر تمہیں دے دے گا۔ اس میں کچھ کمی نہ کرے گا۔ اور تمہاری سابقہ خطائیں بھی معاف فرما دے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت نے یہ فائدہ دیا کہ ایمان اسلام سے مخصوص چیز ہے جیسے کہ اہل سنت و الجماعت کا مذہب ہے، جبرائیل علیہ السلام والی حدیث بھی اسی پر دلالت کرتی ہے جبکہ انہوں نے اسلام کے بارے میں سوال کیا پھر ایمان کے بارے میں پھر احسان کے بارے میں۔ پس وہ زینہ بہ زینہ چڑھتے گئے عام سے خاص کی طرف آئے اور پھر خاص سے اخص کی طرف آئے۔
پس اس حدیث میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مومن و مسلم میں فرق کیا اور معلوم ہو گیا کہ ایمان زیادہ خاص ہے بہ نسبت اسلام کے۔ ہم نے اسے مع دلائل صحیح بخاری کی «کتاب الایمان» کی شرح میں ذکر کر دیا ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
اور اس حدیث میں اس بات پر بھی دلالت ہے کہ یہ شخص مسلمان تھے منافق نہ تھے اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کوئی عطیہ عطا نہیں فرمایا اور اسے اس کے اسلام کے سپرد کر دیا۔
پس معلوم ہوا کہ یہ اعراب جن کا ذکر اس آیت میں ہے منافق نہ تھے، تھے تو مسلمان لیکن اب تک ان کے دلوں میں ایمان صحیح طور پر مستحکم نہ ہوا تھا اور انہوں نے اس بلند مقام تک اپنی رسائی ہو جانے کا ابھی سے دعویٰ کر دیا تھا اس لیے انہیں ادب سکھایا گیا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابراہیم نخعی اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم کے قول کا یہی مطلب ہے اور اسی کو امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اختیار کیا ہے ہمیں یہ سب یوں کہنا پڑا کہ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ منافق تھے جو ایمان ظاہر کرتے تھے لیکن دراصل مومن نہ تھے (یہ یاد رہے ایمان و اسلام میں فرق اس وقت ہے جبکہ اسلام اپنی حقیقت پر نہ ہو جب اسلام حقیقی ہو تو وہی اسلام ایمان ہے اور اس وقت ایمان اسلام میں کوئی فرق نہیں) اس کے بہت سے قوی دلائل امام الائمہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب صحیح بخاری میں «کتاب الایمان» میں بیان فرمائے ہیں اور ان لوگوں کا منافق ہونا اس کا ثبوت بھی موجود ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» (مترجم)
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت بنو اسد بن خزیمہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان لوگوں کے بارے میں اتری ہے جو ایمان لانے کا دعویٰ کرتے تھے حالانکہ اب تک وہاں پہنچے نہ تھے پس انہیں ادب سکھایا گیا اور بتایا گیا کہ یہ اب تک ایمان تک نہیں پہنچے اگر یہ منافق ہوتے تو انہیں ڈانٹ ڈپٹ کی جاتی اور ان کی رسوائی کی جاتی جیسے کہ سورۃ برات میں منافقوں کا ذکر کیا گیا لیکن یہاں تو انہیں صرف ادب سکھایا گیا۔
جیسے فرمایا «وَمَا أَلَتْنَاهُم مِّنْ عَمَلِهِم مِّن شَيْءٍ كُلُّ امْرِئٍ بِمَا كَسَبَ رَهِينٌ» ۱؎ [52-الطور:21] یعنی ’ ہم نے ان کے اعمال میں سے کچھ بھی نہیں گھٹایا ‘۔
پھر فرمایا ’ جو اللہ کی طرف رجوع کرے برائی سے لوٹ آئے اللہ اس کے گناہ معاف فرمانے والا اور اس کی طرف رحم بھری نگاہوں سے دیکھنے والا ہے ‘۔
پھر فرماتا ہے کہ کامل ایمان والے صرف وہ لوگ ہیں جو اللہ پر اور اس کے رسول پر دل سے یقین رکھتے ہیں پھر نہ شک کرتے ہیں، نہ کبھی ان کے دل میں کوئی نکما خیال پیدا ہوتا ہے بلکہ اسی خیال تصدیق پر اور کامل یقین پر جم جاتے ہیں اور جمے ہی رہتے ہیں اور اپنے نفس اور دل کی پسندیدہ دولت کو بلکہ اپنی جانوں کو بھی راہ اللہ کے جہاد میں خرچ کرتے ہیں۔ یہ سچے لوگ ہیں یعنی یہ ہیں جو کہہ سکتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں یہ ان لوگوں کی طرح نہیں جو صرف زبان سے ہی ایمان کا دعویٰ کر کے رہ جاتے ہیں۔
مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”دنیا میں مومن کی تین قسمیں ہیں (۱) وہ جو اللہ پر اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے شک شبہ نہ کیا اور اپنی جان اور اپنے مال سے راہ اللہ میں جہاد کیا، (۲) وہ جن سے لوگوں نے امن پا لیا، نہ یہ کسی کا مال ماریں، نہ کسی کی جان لیں، (۳) وہ جو طمع کی طرف جب جھانکتے ہیں اللہ عزوجل کی یاد کرتے ہیں }۔ ۱؎ [مسند احمد:8/3:ضعیف]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبرُ تعالى عن مقالةِ الأعراب، الذين دخلوا في الإسلام على عهد رسول الله - صلى الله عليه وسلم - دخولاً من غير بصيرةٍ ولا قيامٍ بما يجبُ ويقتضيه الإيمان؛ أنَّهم مع هذا ادَّعوا وقالوا {آمنَّا}؛ أي: إيماناً كاملاً مستوفياً لجميع أموره. هذا موجب هذا الكلام، فأمر الله رسوله أن يردَّ عليهم، فقال: {قل لمْ تؤمِنوا}؛ أي: لا تدَّعوا لأنفسِكُم مقامَ الإيمان ظاهراً وباطناً كاملاً، {ولكن قولوا أسْلَمْنا}؛ أي: دخلْنا في الإسلام، واقْتَصِروا على ذلك، {و} السبب في ذلك أنه {لَمَّا يدخلِ الإيمانُ في قلوبِكُم}: وإنَّما أسلمتم خوفاً أو رجاءً أو نحو ذلك مما هو السبب في إيمانكم؛ فلذلك لم تدخل بشاشة الإيمان في قلوبكم. وفي قوله: {ولمَّا يدخلِ الإيمانُ في قلوبِكُم}؛ أي: وقتَ هذا الكلام الذي صدر منكم، فكان فيه إشارةٌ إلى أحوالهم بعد ذلك؛ فإنَّ كثيراً منهم منَّ الله عليهم بالإيمان الحقيقيِّ والجهاد في سبيل الله، {وإن تُطيعوا اللهَ ورسولَه}: بفعل خير أو ترك شرٍّ {لا يَلِتْكُم من أعمالِكُمْ شيئاً}؛ أي: لا يَنْقُصْكم منها مثقال ذرَّةٍ، بل يوفيكم إيَّاها أكمل ما تكون، لا تفقدون منها صغيراً ولا كبيراً. {إنَّ الله غفورٌ رحيمٌ}؛ أي: غفورٌ لمَن تابَ إليه وأناب، رحيمٌ به؛ حيث قبل توبته.