تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
چونکہ یہ ایسا واقعہ ہے جس سے بعض اہل ایمان کے دلوں میں تشویش پیدا ہوئی اور ان کی نظروں سے اس کی حکمت اوجھل ہو گئی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی حکمت اور منفعت بیان فرمائی۔ یہی صورت تمام احکام شرعیہ کی ہے تمام احکام شرعیہ ہدایت اور رحمت پر مبنی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ایک حکم عام کے ذریعے سے آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ هُوَالَّذِیْۤاَرْسَلَرَسُوْلَهٗبِالْهُدٰؔى﴾”وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت دے کر بھیجا۔“ جو کہ علم نافع ہے، جو گمراہی میں راہ راست دکھاتا ہے اور خیر و شر کے تمام راستے واضح کر دیتا ہے۔ ﴿ وَدِیْنِالْحَقِّ﴾ اور ایسے دین کے ساتھ بھیجا، جو حق سے موصوف ہے اور اس سے مراد عدل، احسان اور رحمت ہے، نیز اس سے مراد ہر وہ عمل ہے جو دلوں کو پاک، نفوس کی تطہیر، اخلاق کی تربیت اور اقدار کو بلند کرتا ہے ﴿ لِیُظْهِرَهٗ﴾ تاکہ اس دین کو غالب کرے، جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث فرمایا ہے ﴿ عَلَىالدِّیْنِكُلِّهٖ٘﴾”تمام ادیان پر“ یعنی حجت و برہان کے ذریعے سے اور یہ دین تمام ادیان کو شمشیر و سناں کے ذریعے سے مطیع ہونے کی دعوت دے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولما كانت هذه الواقعة مما تشوَّشت بها قلوبُ بعض المؤمنين، وخفيتْ عليهم حكمتُها، فبيَّن تعالى حكمتَها ومنفعتَها، وهكذا سائر أحكامه الشرعيَّة؛ فإنَّها كلَّها هدى ورحمةٌ، أخبر بحكم عام، فقال: {هو الذي أرسل رسولَه بالهُدى}: الذي هو العلمُ النافعُ، الذي يهدي من الضلالة، ويبيِّن طرقَ الخير والشرِّ، {ودين الحقِّ}؛ أي: الدين الموصوف بالحقِّ، وهو العدل والإحسان والرحمة، وهو كلُّ عمل صالح مزكٍّ للقلوب مطهِّرٍ للنفوس مربٍّ للأخلاق معلٍ للأقدار، {ليظهِرَه}: بما بعثَه الله به {على الدِّين كلِّه}: بالحجَّة والبرهان، ويكون داعياً لإخضاعهم بالسيف والسنان.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔