تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الفتح (48) — آیت 29

مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰہِ ؕ وَ الَّذِیۡنَ مَعَہٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَی الۡکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیۡنَہُمۡ تَرٰىہُمۡ رُکَّعًا سُجَّدًا یَّبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰہِ وَ رِضۡوَانًا ۫ سِیۡمَاہُمۡ فِیۡ وُجُوۡہِہِمۡ مِّنۡ اَثَرِ السُّجُوۡدِ ؕ ذٰلِکَ مَثَلُہُمۡ فِی التَّوۡرٰىۃِ ۚۖۛ وَ مَثَلُہُمۡ فِی الۡاِنۡجِیۡلِ ۚ۟ۛ کَزَرۡعٍ اَخۡرَجَ شَطۡـَٔہٗ فَاٰزَرَہٗ فَاسۡتَغۡلَظَ فَاسۡتَوٰی عَلٰی سُوۡقِہٖ یُعۡجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیۡظَ بِہِمُ الۡکُفَّارَ ؕ وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنۡہُمۡ مَّغۡفِرَۃً وَّ اَجۡرًا عَظِیۡمًا ﴿٪۲۹﴾
محمد اللہ کا رسول ہے اور وہ لوگ جو اس کے ساتھ ہیں کافروں پر بہت سخت ہیں، آپس میں نہایت رحم دل ہیں، تو انھیں اس حال میں دیکھے گا کہ رکوع کرنے والے ہیں، سجدے کرنے والے ہیں، اپنے رب کا فضل اور (اس کی) رضا ڈھونڈتے ہیں، ان کی شناخت ان کے چہروں میں (موجود) ہے، سجدے کرنے کے اثر سے۔ یہ ان کا وصف تورات میں ہے اور انجیل میں ان کا وصف اس کھیتی کی طرح ہے جس نے اپنی کونپل نکالی، پھر اسے مضبوط کیا، پھر وہ موٹی ہوئی، پھر اپنے تنے پر سیدھی کھڑی ہو گئی، کاشت کرنے والوں کو خوش کرتی ہے، تاکہ وہ ان کے ذریعے کافروں کو غصہ دلائے، اللہ نے ان لوگوں سے جو ان میں سے ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے بڑی بخشش اور بہت بڑے اجر کا وعدہ کیا ہے۔ En
محمدﷺ خدا کے پیغمبر ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں کے حق میں سخت ہیں اور آپس میں رحم دل، (اے دیکھنے والے) تو ان کو دیکھتا ہے کہ (خدا کے آگے) جھکے ہوئے سر بسجود ہیں اور خدا کا فضل اور اس کی خوشنودی طلب کر رہے ہیں۔ (کثرت) سجود کے اثر سے ان کی پیشانیوں پر نشان پڑے ہوئے ہیں۔ ان کے یہی اوصاف تورات میں (مرقوم) ہیں۔ اور یہی اوصاف انجیل میں ہیں۔ (وہ) گویا ایک کھیتی ہیں جس نے (پہلے زمین سے) اپنی سوئی نکالی پھر اس کو مضبوط کیا پھر موٹی ہوئی اور پھر اپنی نال پر سیدھی کھڑی ہوگئی اور لگی کھیتی والوں کو خوش کرنے تاکہ کافروں کا جی جلائے۔ جو لوگ ان میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان سے خدا نے گناہوں کی بخشش اور اجر عظیم کا وعدہ کیا ہے
En
محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ کافروں پر سخت ہیں آپس میں رحمدل ہیں، تو انہیں دیکھے گا کہ رکوع اور سجدے کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں ہیں، ان کا نشان ان کے چہروں پر سجدوں کے اﺛر سے ہے، ان کی یہی مثال تورات میں ہے اور ان کی مثال انجیل میں ہے، مثل اسی کھیتی کے جس نے اپنا انکھوا نکالا پھر اسے مضبوط کیا اور وه موٹا ہوگیا پھر اپنے تنے پر سیدھا کھڑا ہوگیا اور کسانوں کو خوش کرنے لگا تاکہ ان کی وجہ سے کافروں کو چڑائے، ان ایمان والوں اور نیک اعمال والوں سے اللہ نے بخشش کا اور بہت بڑے ﺛواب کا وعده کیا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ، جو مہاجرین و انصار میں سے ہیں، ان کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ وہ کامل ترین صفات اور جلیل ترین احوال کے حامل ہیں اور وہ ﴿ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ کفار کے ساتھ بہت سخت ہیں، فتح و نصرت میں جدوجہد اور اس بارے میں پوری کوشش کرنے والے ہیں۔ وہ کفار کے ساتھ صرف درشتی اور سختی سے پیش آتے ہیں۔ اسی لیے ان کے دشمن ان کے سامنے ذلیل ہو گئے، ان کی طاقت ٹوٹ گئی اور مسلمان ان پر غالب آ گئے۔
﴿ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ یعنی صحابہ آپس میں محبت کرنے والے، ایک دوسرے پر مہربانی کرنے والے اور ایک دوسرے کے ساتھ شفقت اور عاطفت کے ساتھ پیش آنے والے ہیں وہ جسد واحد کی مانند ہیں، ان میں سے ہر کوئی اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کرتا ہے، جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ یہ ہے ان کا مخلوق کے ساتھ معاملہ۔ رہا خالق کے ساتھ ان کا معاملہ، تو ﴿ تَرٰىهُمْ رُؔكَّـعًا سُجَّدًا تم ان کو رکوع اور سجدے کی حالت میں دیکھو گے۔ یعنی ان کا وصف کثرتِ نماز ہے جس کے جلیل ترین ارکان رکوع اور سجود ہیں ﴿ یَّبْتَغُوْنَ وہ اس عبادت کے ذریعے سے طلب گار ہیں ﴿ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانًا اللہ کے فضل اور اس کی رضامندی کے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا تک پہنچنا اور اس کا ثواب حاصل کرنا ان کا مطلوب و مقصود ہے۔
﴿ سِیْمَاهُمْ فِیْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ حسن عبادت اور اس کی کثرت نے ان کے چہروں پر اثر کیا ہے حتیٰ کہ وہ منور ہو گئے ہیں، چونکہ نماز کے نور سے ان کے باطن روشن ہیں لہذا جلال سے ان کے ظاہر منور ہیں ﴿ ذٰلِكَ یہ مذکورہ احوال ﴿ مَثَلُهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ یعنی ان کا یہ وصف جس سے اللہ تعالیٰ نے ان کو موصوف کیا ہے، تو رات کریم میں اسی طرح ذکر کیا گیا ہے۔ انجیل میں ان کو ایک اور وصف سے موصوف کیا گیا ہے کہ وہ اپنے کمال اور باہم تعاون میں ﴿ كَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْــَٔهٗ فَاٰزَرَهٗ گویا ایک کھیتی ہے جس نے اپنی سوئی نکالی، پھر اس کو مضبوط کیا۔ یعنی اس نے اپنی جڑ سے شاخیں نکالیں، پھر ان کو استوا و ثبات میں مضبوط کیا۔ ﴿ فَاسْتَغْلَظَ پس یہ کھیتی طاقت ور اور مضبوط ہو گئی۔ ﴿ فَاسْتَوٰى عَلٰى سُوْقِهٖ پھر قوت کے ساتھ کھڑی ہو گئی اپنے تنے پر (سوق) جمع ہے ساق کی، یعنی اپنی جڑوں پر کھڑی ہو گئی۔ مراد یہ ہے کہ یہ کھیتی مضبوط اور قوی ہو گئی اور اس کے تنے کھڑے ہو گئے۔
﴿ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ جو اپنے کامل طور پر سیدھا کھڑا ہونے اور اپنے حسن اعتدال کی بنا پر کاشتکاروں کو بھلی لگتی ہے۔ اسی طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مخلوق کو نفع پہنچانے اور لوگوں کا ان کی طرف ضرورت مند ہونے کی وجہ سے، کھیتی کی مانند ہیں۔ ان کی قوت ایمان اور قوت عمل پودے کی رگوں اور اس کے تنوں کی مانند ہے۔ وہ کم عمر صحابہ کرام اور جن کا اسلام متاخر تھا، جنھوں نے بزرگ صحابہ کرام کی پیروی کی، ان کے ہاتھ مضبوط کیے، اقامت دین اور دعوت دین میں، ان کی مثال اس کھیتی کی مانند ہے جس نے اپنی جڑوں سے اور سوئے نکالے، پھر اس کو مضبوط کیا، پھر وہ موٹی ہو گئی۔
بنابریں فرمایا: ﴿ لِیَغِیْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ تاکہ ان کی وجہ سے اللہ کافروں کو چڑائے جب کفار ان کے اجتماع اور دشمنان دین پر ان کی سختی کو دیکھتے ہیں، نیز جب وہ دست بدست لڑائی اور جنگی معرکوں میں ان کی بہادری کو دیکھتے ہیں، تو یہ چیز ان کے دل کو جلاتی ہے۔ ﴿ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ مِنْهُمْ مَّغْفِرَةً وَّاَجْرًا عَظِیْمًا پس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، جنھوں نے ایمان اور عمل صالح کو جمع کیا، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے مغفرت جس کا لازمہ دنیا و آخرت میں ہر قسم کے شر سے حفاظت ہے اور دنیا و آخرت کے اندر اجر عظیم کو جمع کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى عن رسوله محمد - صلى الله عليه وسلم - وأصحابه من المهاجرين والأنصار؛ أنَّهم بأكمل الصفات وأجلِّ الأحوال، وأنَّهم {أشداءُ على الكفَّارِ}؛ أي: جادِّين ومجتهدين في عداوتهم، وساعين في ذلك بغاية جهدهم، فلم يروا منهم إلاَّ الغلظةَ والشدَّةَ؛ فلذلك ذلَّ أعداؤُهم لهم وانكسروا وقهرهم المسلمون، {رحماءُ بينَهم}؛ أي: متحابُّون متراحمون متعاطفون كالجسد الواحد، يحبُّ أحدُهم لأخيه ما يحبُّ لنفسه، هذه معاملتُهم مع الخلق، وأمَّا معاملتُهم مع الخالق؛ فتراهم {رُكَّعاً سجداً}؛ أي: وصفهم كثرة الصلاة التي أجلُّ أركانها الركوع والسجود، {يبتغونَ}: بتلك العبادة {فضلاً من الله ورضواناً}؛ أي: هذا مقصودهم، بلوغُ رضا ربِّهم والوصول إلى ثوابِهِ {سيماهم في وجوهِهِم من أثرِ السُّجودِ}؛ أي: قد أثَّرت العبادة مِنْ كثرتِها وحسنِها في وجوههم حتى استنارتْ، لمَّا استنارت بالصلاة بواطنهم؛ استنارتْ ظواهِرُهم. {ذلك}: المذكور {مَثَلُهُم في التَّوراةِ}؛ أي: هذا وصفُهم الذي وصَفَهم الله به مذكورٌ بالتوراة هكذا.

وأما {مثلهم في الإنجيل}؛ فإنَّهم موصوفون بوصف آخر، وأنَّهم في كمالهم وتعاونهم {كزرع أخْرَجَ شطأه فآزره}؛ أي: أخرج فراخه فوازرتْه فراخُهُ في الشباب والاستواء، {فاستغلظَ}: ذلك الزرع؛ أي: قوي وغلظ، {فاستوى على سوقِهِ}: جمع ساق، {يعجِبُ الزُّرَّاعَ}: من كماله واستوائه وحسنه واعتداله، كذلك الصحابة رضي الله عنهم هم كالزرع في نفعهم للخلق واحتياج الناس إليهم، فقوَّة إيمانهم وأعمالهم بمنزلة قوَّة عروق الزرع وسوقِهِ، وكون الصغير والمتأخِّر إسلامه قد لَحِقَ الكبير السابق، ووازره وعاونه على ما هو عليه من إقامة دينِ الله والدعوةِ إليه، كالزرع الذي أخْرَجَ شَطأه فآزره فاستغلظ، ولهذا قال: {لِيَغيظَ بهم الكفارَ}: حين يَرَوْنَ اجتماعهم وشدَّتهم على دينهم، وحين يتصادمون هم وهم في معارك النِّزال ومعامع القتال، {وَعَدَ الله الذين آمنوا وعَمِلوا الصالحات منهم مغفرةً وأجراً عظيماً}: فالصحابة رضي الله عنهم، الذين جمعوا بين الإيمان والعمل الصالح، قد جمع الله لهم بين المغفرةِ التي من لوازمها وقايةُ شرور الدُّنيا والآخرة والأجر العظيم في الدنيا والآخرة.