بلاشبہ یقینا اللہ نے اپنے رسول کو خواب میں حق کے ساتھ سچی خبر دی کہ تم مسجد حرام میں ضرور بالضرور داخل ہو گے، اگر اللہ نے چاہا، امن کی حالت میں، اپنے سر منڈاتے ہوئے اور کتراتے ہوئے، ڈرتے نہیں ہو گے، تو اس نے جانا جو تم نے نہیں جانا تو اس نے اس سے پہلے ایک قریب فتح رکھ دی۔
En
بےشک خدا نے اپنے پیغمبر کو سچا (اور) صحیح خواب دکھایا۔ کہ تم خدا نے چاہا تو مسجد حرام میں اپنے سر منڈوا کر اور اپنے بال کتروا کر امن وامان سے داخل ہوگے۔ اور کسی طرح کا خوف نہ کرو گے۔ جو بات تم نہیں جانتے تھے اس کو معلوم تھی سو اس نے اس سے پہلے ہی جلد فتح کرادی
یقیناً اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو خواب سچا دکھایا کہ انشاءاللہ تم یقیناً پورے امن وامان کے ساتھ مسجد حرام میں داخل ہوگے سرمنڈواتے ہوئے اور سر کے بال کترواتے ہوئے (چین کے ساتھ) نڈر ہو کر، وه ان امور کو جانتا ہے جنہیں تم نہیں جانتے، پس اس نے اس سے پہلے ایک نزدیک کی فتح تمہیں میسر کی
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ لَقَدْصَدَقَاللّٰهُرَسُوْلَهُالرُّءْیَ٘ابِالْحَقِّ﴾ اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں ایک خواب دیکھا اور آپ نے اپنے اصحاب کرام کو اس خواب سے آگاہ فرمایا کہ وہ عنقریب مکہ میں داخل ہو کر بیت اللہ کا طواف کریں گے۔ جب حدیبیہ کے دن ان کے درمیان صلح ہوئی اور اہل ایمان مکہ میں داخل ہوئے بغیر واپس لوٹے تو اس بارے میں ان سے بہت سی باتیں صادر ہوئیں۔ حتیٰ کہ انھوں نے ان باتوں کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بھی اظہار کیا، چنانچہ انھوں نے آپ سے عرض کیا ”کیاآپ نے ہمیں یہ خبر نہیں دی تھی کہ ہم بیت اللہ کی زیارت کے لیے آئیں گے اور طواف کریں گے؟“ آپ نے جواب میں فرمایا: ”کیا میں نے تمھیں یہ خبر دی تھی کہ ہم اسی سال بیت اللہ کی زیارت اور طواف سے بہرہ مند ہوں گے؟“ انھوں نے جواب دیا ”نہیں“ آپ نے فرمایا: ”تم عنقریب بیت اللہ کی زیارت کے لیے جاؤ گے اور اس کا طواف کرو گے۔“ (صحیح البخاري، الشروط، باب الشروط في الجہاد و المصالحۃ..... حدیث: 2732,2731)
یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ لَقَدْصَدَقَاللّٰهُرَسُوْلَهُالرُّءْیَ٘ابِالْحَقِّ﴾ یعنی اس خواب کا پورا اور سچا ہونا ضروری امر ہے اور اس تعبیر میں جرح و قدح نہیں کی جا سکتی ﴿ لَتَدْخُلُ٘نَّالْمَسْجِدَالْحَرَامَاِنْشَآءَاللّٰهُاٰمِنِیْنَ١ۙمُحَلِّقِیْنَرُءُوْسَكُمْوَمُقَصِّرِیْنَ﴾ یعنی تم اس حال میں مسجدِ حرام ميں داخل ہو گے جو اس محترم گھر کی تعظیم کا تقاضا کرتا ہے، کہ تم سر منڈا کر یا بالوں کو ترشوا کر مناسک کو ادا کر رہے ہو گے ان کی تکمیل کر رہے ہو گے اور تمھیں کوئی خوف نہ ہو گا۔
﴿ فَعَلِمَ﴾ اسے تمام مصالح اور منافع معلوم ہیں ﴿ مَالَمْتَعْلَمُوْافَجَعَلَمِنْدُوْنِذٰلِكَ﴾”جو تمھیں معلوم نہیں، پس اس نے کی اس سے پہلے“ یعنی ان اوصاف کے ساتھ داخل ہونے سے پہلے﴿فَتْحًاقَرِیْبًا﴾”نزدیک کی فتح“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى: {لقد صدق اللهُ رسولَه الرُّؤيا بالحقِّ}: وذلك أنَّ رسول الله - صلى الله عليه وسلم - رأى في المدينة رؤيا أخبر بها أصحابه؛ أنَّهم سيدخلون مكَّة ويطوفون بالبيت، فلما جرى يوم الحديبية ما جرى، ورجعوا من غير دخول لمكَّة؛ كَثُرَ في ذلك الكلام منهم، حتى إنهم قالوا ذلك لرسول الله - صلى الله عليه وسلم -: ألم تُخْبِرْنا أنَّا سنأتي البيت ونطوف به؟! فقال: «أخبرتكم أنَّه العام؟!»، قالوا: لا، قال: «فإنَّكم ستأتونَه وتطوفونَ به». قال الله تعالى هنا: {لقد صَدَقَ الله رسولَه الرؤيا بالحقِّ}؛ أي: لا بدَّ من وقوعها وصِدْقها، ولا يقدُح في ذلك تأخُّر تأويلها، {لَتَدْخُلُنَّ المسجدَ الحرام إن شاء اللهُ آمنينَ محلِّقينَ رؤوسَكم ومقصِّرين}؛ أي: في هذه الحال المقتضية لتعظيم هذا البيت الحرام وأدائكم للنُّسك وتكميلِهِ بالحلق والتَّقصير وعدم الخوفِ. {فعلم}: من المصلحة والمنافع {ما لم تَعْلَموا فجَعَلَ من دونِ ذلك}: الدخول بتلك الصفة {فتحاً قريباً}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔