تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ …:} حدیبیہ روانہ ہونے سے پہلے مدینہ منورہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ سمیت امن و اطمینان کے ساتھ کسی خوف کے بغیر مکہ میں داخل ہوتے ہیں، بیت اللہ کا طواف اور عمرہ کے دوسرے ارکان ادا کر رہے ہیں، پھر کوئی سر منڈوا رہا ہے اور کوئی کتروا رہا ہے۔ پیغمبر کا خواب چونکہ وحی ہوتا ہے اور کسی صورت جھوٹا نہیں ہو سکتا، اس لیے مسلمان بہت خوش ہوئے اور عموماً انھوں نے سمجھا کہ اسی سال مکہ میں داخلہ ہو گا، مگر جب مکہ میں داخل ہوئے بغیر حدیبیہ سے واپس پلٹے تو بعض صحابہ کے دلوں میں اس کے متعلق کچھ تردّد پیدا ہوا کہ خواب پورا نہیں ہوا۔ تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کرکے واضح فرمایا کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خواب ہم نے دکھایا اور یہ بالکل سچ ہے جو یقینا پورا ہو گا۔ چنانچہ اس کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم اگلے سال مکہ معظمہ میں داخل ہوئے اور امن و اطمینان کے ساتھ عمرہ ادا کرکے واپس آئے۔ حقیقت یہ ہے کہ خود خواب میں اس کے پورا ہونے کا وقت نہیں بتایا گیا تھا، جب کہ خواب کی تعبیر بعض اوقات کئی سال بعد جا کر ظاہر ہوتی ہے، جیسا کہ یوسف علیہ السلام نے خواب دیکھنے کے کئی سال بعد والدین اور بھائیوں کے مصر میں آنے پر کہا: «يٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاْوِيْلُ رُءْيَايَ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّيْ حَقًّا» [یوسف: ۱۰۰] ”اے میرے باپ! یہ میرے پہلے کے خواب کی تعبیر ہے، بے شک میرے رب نے اسے سچا کر دیا۔“ یہاں بعض مسلمانوں نے اپنے طور پر سمجھ لیا تھا کہ اسی سال مکہ معظمہ میں داخلہ ہو گا۔ چنانچہ صحیح بخاری کی ایک لمبی حدیث میں ہے کہ جب صلح طے ہو چکی، تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: [فَأَتَيْتُ نَبِيَّ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ أَلَسْتَ نَبِيَّ اللّٰهِ حَقًّا؟ قَالَ بَلٰی، قُلْتُ أَلَسْنَا عَلَی الْحَقِّ وَعَدُوُّنَا عَلَی الْبَاطِلِ؟ قَالَ بَلٰی، قُلْتُ فَلِمَ نُعْطَی الدَّنِيَّةَ فِيْ دِيْنِنَا إِذًا؟ قَالَ إِنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ، وَلَسْتُ أَعْصِيْهِ وَهُوَ نَاصِرِيْ، قُلْتُ أَوَ لَيْسَ كُنْتَ تُحَدِّثُنَا أَنَّا سَنَأْتِي الْبَيْتَ فَنَطُوْفُ بِهٖ؟ قَالَ بَلٰی، فَأَخْبَرْتُكَ أَنَّا نَأْتِيْهِ الْعَامَ؟ قَالَ قُلْتُ لاَ، قَالَ فَإِنَّكَ آتِيْهِ وَمُطَّوِّفٌ بِهٖ، قَالَ فَأَتَيْتُ أَبَا بَكْرٍ فَقُلْتُ يَا أَبَا بَكْرٍ! أَلَيْسَ هٰذَا نَبِيَّ اللّٰهِ حَقًّا؟ قَالَ بَلٰی، قُلْتُ أَلَسْنَا عَلَی الْحَقِّ وَعَدُوُّنَا عَلَی الْبَاطِلِ؟ قَالَ بَلٰی قُلْتُ فَلِمَ نُعْطَی الدَّنِيَّةَ فِيْ دِيْنِنَا إِذًا؟ قَالَ أَيُّهَا الرَّجُلُ! إِنَّهُ لَرَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ يَعْصِيْ رَبَّهُ وَهُوَ نَاصِرُهُ، فَاسْتَمْسِكْ بِغَرْزِهِ، فَوَاللّٰهِ! إِنَّهُ عَلَی الْحَقِّ، قُلْتُ أَلَيْسَ كَانَ يُحَدِّثُنَا أَنَّا سَنَأْتِي الْبَيْتَ وَنَطُوْفُ بِهٖ؟ قَالَ بَلٰی، أَفَأَخْبَرَكَ أَنَّكَ تَأْتِيْهِ الْعَامَ؟ قُلْتُ لاَ، قَالَ فَإِنَّكَ آتِيْهِ وَمُطَّوِّفٌ بِهٖ، قَالَ الزُّهْرِيُّ قَالَ عُمَرُ فَعَمِلْتُ لِذٰلِكَ أَعْمَالاً] [بخاري، الشروط، باب الشروط في الجہاد…: ۲۷۳۱،۲۷۳۲] ”تو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، میں نے کہا، کیا آپ اللہ کے سچے نبی نہیں ہیں؟“ آپ نے فرمایا: ”کیوں نہیں!“ میں نے کہا: ”کیا ہم حق پر اور ہمارے دشمن باطل پر نہیں؟“ فرمایا: ”کیوں نہیں!“ میں نے کہا: ”تو ایسے میں ہمیں اپنے دین میں ذلت کی بات کیوں قبول کروائی جاتی ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقینا میں اللہ کا رسول ہوں اور میں اس کی نافرمانی نہیں کرتا اور وہ میری مدد کرنے والا ہے۔“ میں نے کہا: ”کیا آپ ہمیں بیان نہیں کیا کرتے تھے کہ ہم بیت اللہ میں جائیں گے اور اس کا طواف کریں گے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو کیا میں نے تمھیں یہ بتایا تھا کہ ہم اسی سال اس میں جائیں گے؟“ میں نے کہا: ”نہیں!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یقینا اس میں جانے والے اور اس کا طواف کرنے والے ہو۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا، پھر میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، میں نے کہا: ”اے ابوبکر! کیا یہ اللہ کے سچے نبی نہیں ہیں؟“ انھوں نے کہا: ”کیوں نہیں!“ میں نے کہا: ”کیا ہم حق پر اور ہمارے دشمن باطل پر نہیں؟“ کہا: ”کیوں نہیں!“ میں نے کہا: ”تو پھر ہمیں اپنے دین میں ذلت کی بات کیوں قبول کروائی جاتی ہے؟“ انھوں نے کہا: ”اے (اللہ کے) بندے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم یقینا اللہ کے رسول ہیں اور آپ اپنے رب کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہ آپ کی مدد کرنے والا ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رکاب کو مضبوطی سے تھامے رکھو۔“ میں نے کہا: ”کیا آپ ہمیں بیان نہیں کیا کرتے تھے کہ ہم بیت اللہ میں جائیں گے اور اس کا طواف کریں گے؟“ انھوں نے کہا: ”تو کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمھیں بتایا تھا کہ تم اسی سال وہاں جاؤ گے؟“ میں نے کہا: ”نہیں!“ انھوں نے کہا: ”تو تم یقینا اس میں جاؤ گے اور اس کا طواف کرو گے۔“ زہری کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”پھر میں نے اس (جلد بازی کے کفارے) کے لیے کئی اعمال کیے۔“
صحیح بخاری میں ایک اور جگہ سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے عمر رضی اللہ عنہ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ یہ گفتگو اور ان کا یہی جواب مروی ہے، اس کے آخر میں ہے: [فَنَزَلَتْ سُوْرَةُ الْفَتْحِ فَقَرَأَهَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلٰی عُمَرَ إِلٰی آخِرِهَا، فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! أَوَ فَتْحٌ هُوَ؟ قَالَ نَعَمْ] [بخاري، الجزیۃ والموادعۃ، باب إثم من عاھد ثم غدر: ۳۱۸۲] ”اس موقع پر سورۂ فتح اتری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کو یہ سورت آخر تک پڑھ کر سنائی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! کیا یہ فتح ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں (یہ فتح ہے)۔“
➌ { اِنْ شَآءَ اللّٰهُ:} یہاں ایک مشہور سوال ہے کہ ”ان شاء الله “ تو استثنا کے لیے کہا جاتا ہے کہ اگر اللہ نے چاہا تو یہ کام ہو جائے گا ورنہ نہیں، حتیٰ کہ قسم کے بعد اگر ”ان شاء الله “ کہہ لیا جائے تو قسم بھی واقع نہیں ہوتی، کیونکہ اس میں جزم اور پختگی نہیں ہوتی، جبکہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں شک یا استثنا کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تو یہاں {” اِنْ شَآءَ اللّٰهُ “} کہنے کا کیا مطلب ہے؟ اہلِ علم نے اس کے کئی جواب دیے ہیں۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”یہ {” اِنْ شَآءَ اللّٰهُ “} اس خبر کی تاکید اور اس کا یقین دلانے کے لیے ہے، استثنا کے لیے کسی طرح بھی نہیں۔“ (ابن کثیر) ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے تاتاریوں کے مقابلے پر مسلمانوں کو ان کی فتح کا یقین دلاتے ہوئے اللہ کی قسم کھائی اور ان شاء اللہ کہا، ساتھ ہی فرمایا: {”إِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَحْقِيْقًا لَا تَعْلِيْقًا۔“} ابن عاشور نے فرمایا: {”إِنْ شَآءَ اللّٰهُ“} کا ایک استعمال یہ ہے کہ یہ کسی چیز کے متعلق اس وقت بولا جاتا ہے جب وہ آئندہ دیر سے واقع ہونے والی ہو، جیسے کسی سے کہا جائے کہ یہ کام کر دو تو وہ کہے، میں ”ان شاء الله “ یہ کام کر دوں گا۔ تو اس سے یہ نہیں سمجھا جاتا کہ وہ اس کام کو ابھی یا مستقبل قریب میں کرے گا بلکہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ اسے کچھ مدت بعد کرے گا، لیکن کرے گا ضرور۔“
ابن جزی صاحب التسہیل کی بیان کردہ توجیہوں میں سے تین توجیہیں یہ ہیں، ایک یہ کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کو ادب سکھانے کے لیے ہے کہ وہ اپنے آئندہ ہر کام کے لیے ”ان شاء اللہ “کہا کریں۔ (جیسا کہ سورۂ کہف (24،23) میں فرمایا: «وَ لَا تَقُوْلَنَّ لِشَايْءٍ اِنِّيْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًا (23) اِلَّاۤ اَنْ يَّشَآءَ اللّٰهُ» ) دوسری یہ کہ یہ استثنا ہر انسان کو الگ الگ پیشِ نظر رکھ کر کیا گیا ہے، کیونکہ ممکن ہے ان میں سے کوئی شخص اس داخلے سے پہلے فوت ہو جائے، یا بیمار ہونے کی وجہ سے نہ جا سکے۔ تیسری یہ کہ یہاں {” اِنْ شَآءَ اللّٰهُ “ ”إِذَا شَاءَ اللّٰهُ“} کے معنی میں ہے کہ یقینا تم مسجد حرام میں داخل ہو گے جب اللہ چاہے گا۔ آلوسی نے اس کی ایک مثال {” إِنَّا إِنْ شَاءَ اللّٰهُ بِكُمْ لَلَاحِقُوْنَ “} دی ہے۔ یہ تمام جواب ہی درست، پختہ اور مضبوط ہیں۔
➍ { اٰمِنِيْنَ مُحَلِّقِيْنَ:} حج اور عمرہ میں احرام کھولنے پر سر منڈوایا یا کترایا جاتا ہے۔ {” مُحَلِّقِيْنَ “} کو پہلے لانے میں اس کے افضل ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر منڈوانے والوں کے حق میں تین دفعہ دعا کی اور کتروانے والوں کے حق میں ایک دفعہ دعا کی۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِيْنَ، قَالُوْا وَلِلْمُقَصِّرِيْنَ، قَالَ اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِيْنَ … قَالَهَا ثَلاَثًا قَالَ وَ لِلْمُقَصِّرِيْنَ] [بخاري، الحج، باب الحلق والتقصیر عند الإحلال: ۱۷۲۸] ”اے اللہ! منڈوانے والوں کو بخش دے۔“ صحابہ نے کہا: ”اور کتروانے والوں کو بھی۔“ آپ نے فرمایا: ”اے اللہ! منڈوانے والوں کو بخش دے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (صحابہ کے بار بار سوال پر) تین دفعہ پہلی دعا ہی کی، پھر فرمایا: ”اور کتروانے والوں کو بھی بخش دے۔“
➎ { مُحَلِّقِيْنَ رُءُوْسَكُمْ وَ مُقَصِّرِيْنَ:} اپنے سروں کو منڈوانے والے اور کتروانے والے۔ {” رُءُوْسَكُمْ “} کا لفظ دلیل ہے کہ سر کو منڈوانا یا کتروانا ہے، ڈاڑھی کو نہیں۔
➏ { لَا تَخَافُوْنَ:} یہاں ایک سوال ہے کہ {” اٰمِنِيْنَ “} ان لوگوں کو کہتے ہیں جنھیں کوئی خوف نہ ہو، پھر {” لَا تَخَافُوْنَ “} دوبارہ لانے کی کیا ضرورت تھی؟ جواب یہ ہے کہ {” اٰمِنِيْنَ “ ” لَتَدْخُلُنَّ “} کی ضمیر سے حال ہے، یعنی تم داخلے کے وقت امن کی حالت میں ہو گے اور {” لَا تَخَافُوْنَ “} آئندہ کے لیے وعدہ ہے کہ آئندہ بھی تمھیں دشمن کے حملے یا اس کی کسی سازش کا خوف نہیں ہو گا۔
➐ { فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوْا:} یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں جو دکھایا تھا کہ تم ضرور مسجد حرام میں داخل ہو گے وغیرہ وہ بالکل سچ فرمایا تھا۔ تمھارے خیال میں یہ داخلہ اسی سال ہونا چاہیے تھا، مگر اُسے تمھارے اس سال مکہ میں داخل نہ ہونے میں وہ حکمتیں معلوم تھیں جو تم نہیں جانتے تھے۔ ان حکمتوں سے مراد کچھ وہ حکمتیں ہیں جن کا پیچھے ذکر ہوا، مثلاً صلح کی بدولت بے شمار لوگوں کا مسلمان ہونا، مکہ میں موجود ان مومن مردوں اور مومن عورتوں کو نقصان سے محفوظ رکھنا، جن کا مسلمانوں کو علم نہیں تھا، مکہ میں داخلے سے پہلے پہلے فتوحات اور غنائم کے ذریعے سے مسلمانوں کی مالی اور عددی حالت کو مستحکم کرنا وغیرہ اور کچھ وہ حکمتیں مراد ہیں جنھیں علیم و حکیم ہی جانتا ہے۔
➑ { فَجَعَلَ مِنْ دُوْنِ ذٰلِكَ فَتْحًا قَرِيْبًا:} تو اس نے تمھارے مکہ میں داخل ہونے اور بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے ایک قریب فتح رکھ دی۔ اس فتح قریب سے مراد بعض نے فتح خیبر لی ہے اور بعض نے صلح حدیبیہ۔ زیادہ درست یہی ہے کہ مراد صلح حدیبیہ ہے، کیونکہ عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا: [يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! أَوَ فَتْحٌ هُوَ؟] ”یا رسول اللہ! کیا وہ فتح ہے؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [نَعَمْ] ”ہاں!“ [مسلم، الجہاد و السیر، باب صلح الحدیبیۃ: ۱۷۸۵] جیسا کہ اس سے پہلے گزر چکا ہے اور {” اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا “} سے مراد بھی یہی ہے۔ دونوں بھی مراد ہو سکتی ہیں، البتہ فتح مکہ مراد نہیں ہو سکتی، کیونکہ مکہ میں داخلہ اس فتح سے پہلے بھی ہونے والا تھا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[42] یعنی یہ کہ یہ عمرہ اگلے سال ہو گا۔ اس سال نہیں ہو گا۔
[43] یعنی یہ فتح خیبر تمہاری حدیبیہ کے مقام پر پیش آنے والی پریشانیوں پر صبر و برداشت اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے صلہ کے طور پر تمہیں دی جا رہی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت میں جو «ان شاءاللہ» ہے یہ استثناء کے لیے نہیں بلکہ تحقیق اور تاکید کے لیے ہے اس مبارک خواب کی تاویل کو صحابہ رضی اللہ عنہم نے دیکھ لیا اور پورے امن و اطمینان کے ساتھ مکہ میں گئے اور وہاں جا کر احرام کھولتے ہوئے بعض نے اپنا سر منڈوایا اور بعض نے بال کتروائے۔
پھر فرمایا بےخوف ہو کر یعنی مکہ جاتے وقت بھی امن و امان سے ہوں گے اور مکہ کا قیام بھی بےخوفی کا ہو گا۔ چنانچہ عمرۃ القضاء میں یہی ہوا یہ عمرہ ذی قعدہ سنہ ۷ ہجری میں ہوا تھا۔ حدیبیہ سے آپ ذی قعدہ کے مہینے میں لوٹے، ذی الحجہ اور محرم تو مدینہ شریف میں قیام رہا، صفر میں خیبر کی طرف گئے اس کا کچھ حصہ تو ازروئے جنگ فتح ہوا اور کچھ حصہ ازروئے صلح مسخر ہوا یہ بہت بڑا علاقہ تھا اس میں کھجوروں کے باغات اور کھیتیاں بکثرت تھیں۔
یہیں کے یہودیوں کو آپ نے بطور خادم یہاں رکھ کر ان سے یہ معاملہ طے کیا کہ وہ باغوں اور کھیتوں کی حفاظت اور خدمت کریں اور پیداوار کا نصف حصہ دے دیا کریں، خیبر کی تقسیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ان ہی صحابہ رضی اللہ عنہم میں کی جو حدیبیہ میں موجود تھے ان کے سوا کسی اور کو اس جنگ میں آپ نے حصہ دار نہیں بنایا، سوائے ان لوگوں کے جو حبشہ کی ہجرت سے واپس آئے تھے، جو حضرات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے وہ سب اس فتح خیبر میں بھی ساتھ تھے۔
ابودجانہ، سماک بن خرشہ رحمہا اللہ علیہ کے سوا، جیسے کہ اس کا پورا بیان اپنی جگہ ہے۔ یہاں سے آپ سالم و غنیمت لیے ہوئے واپس تشریف لائے اور ماہ ذوالقعدہ سنہ ۷ ہجری میں مکہ کی طرف باارادہ عمرہ اہل حدیبیہ کو ساتھ لے کر آپ روانہ ہوئے، ذوالحلفیہ سے احرام باندھا قربانی کے لیے ساٹھ اونٹ ساتھ لیے اور لبیک پکارتے ہوئے ظہران کے قریب پہنچ کر سیدنا محمد بن سلمہ رضی اللہ عنہ کو کچھ گھوڑے سواروں کے ساتھ ہتھیار بند آگے آگے روانہ کیا۔
اس سے مشرکین کے اوسان خطا ہو گئے اور مارے رعب کے ان کے کلیجے اچھلنے لگے۔ انہیں یہ خیال گزرا کہ یہ تو پوری تیاری اور کامل ساز و سامان کے ساتھ آئے ہیں تو ضرور لڑائی کے ارادے سے آئے ہیں۔ انہوں نے شرط توڑ دی کہ دس سال تک کوئی لڑائی نہ ہو گی، چنانچہ یہ لوگ دوڑے ہوئے مکہ میں گئے اور اہلِ مکہ کو اس کی اطلاع دی۔
اس نے کہا: یہی ہمیں آپ کی ذات سے امید تھی، آپ ہمیشہ سے بھلائی اور نیکی اور وفاداری ہی کرنے والے ہیں، سرداران کفار تو بوجہ غیظ و غضب اور رنج و غم کے شہر سے باہر چلے گئے کیونکہ وہ تو آپ کو اور آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم کو دیکھنا بھی نہیں چاہتے تھے اور لوگ جو مکہ میں رہ گئے تھے وہ مرد، عورت، بچے تمام راستوں پر اور کوٹھوں پر اور چھتوں پر کھڑے ہو گئے اور ایک استعجاب کی نظر سے اس مخلص گروہ کو اس پاک لشکر کو اس اللہ کی فوج کو دیکھ رہے تھے۔
آپ نے قربانی کے جانور ذی طوٰی میں بھیج دئیے تھے، خود آپ اپنی مشہور و معروف سواری اونٹنی قصوا پر سوار تھے، آگے آگے آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم تھے جو برابر لبیک پکار رہے تھے۔ سیدنا عبداللہ بن رواحہ انصاری رضی اللہ عنہ آپ کی اونٹنی کی نکیل تھامے ہوئے تھے اور یہ اشعار پڑھ رہے تھے «باسم الذی لا دین الا دینہ» *** «بسم الذی محمد رسولہ» *** «خلوا بنی الکفار عن سبیلہ» *** «الیوم نضربکم علی تاویلہ» *** «کما ضربنا کم علی تنزیلہ» *** «ضربا یزیل الھام عن مقیلہ» *** «ویذھل الخلیل عن خلیلہ» *** «قد انزل الرحمن فی تنزیلہ» *** «فی صحف تتلی علی رسولہ» *** «بان خیرالقتل فی سبیلہ» *** «یا رب انی مومن بقیلہ» ۱؎ [سیرۃ ابن ھشام:320/3:مرسل]
یعنی ’ اس اللہ عزوجل کے نام سے جس کے دین کے سوا اور کوئی دین قابل قبول نہیں۔ اس اللہ کے نام سے جس کے رسول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اے کافروں کے بچو! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے سے ہٹ جاو، آج ہم تمہیں آپ کے لوٹنے پر بھی ویسا ہی ماریں گے، جیسے آپ کے آنے پر مارا تھا، وہ مار جو دماغ کو اس کے ٹھکانے سے ہٹا دے اور دوست کو دوست سے بھلا دے۔ اللہ تعالیٰ رحم والے نے اپنی وحی میں نازل فرمایا ہے، جو ان صحیفوں میں موجود ہے جو اس کے رسول کے سامنے تلاوت کیے جاتے ہیں کہ سب سے بہتر موت شہادت کی موت ہے، جو اس کی راہ میں ہو۔ اے میرے پروردگار اس بات پے ایمان لا چکا ہوں ‘۔ بعض روایتوں میں یہ الفاظ میں کچھ ہیر پھیر بھی ہے۔
آپ مکہ شریف آئے سیدھے بیت اللہ گئے قریشی حطیم کی طرف بیٹھے ہوئے تھے آپ نے چادر کے پلے دائیں بغل کے نیچے سے نکال کر بائیں کندھے پر ڈال لیے اور اصحاب رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ”یہ لوگ تم میں سستی اور لاغری محسوس نہ کریں“، اب آپ نے رکن کو بوسہ دے کر دوڑنے کی سی چال سے طواف شروع کیا جب رکن یمانی کے پاس پہنچے جہاں قریش کی نظریں نہیں پڑتی تھیں تو وہاں سے آہستہ آہستہ چل کر حجر اسود تک پہنچے۔
قریش کہنے لگے تم لوگ تو ہرنوں کی طرح چوکڑیاں بھر رہے ہو گویا چلنا تمہیں پسند ہی نہیں، تین مرتبہ تو آپ اسی طرح ہلکی دوڑ کی سی چال حجر اسود سے رکن یمانی تک چلتے رہے تین پھیرے اس طرح کئے چنانچہ یہی مسنون طریقہ ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ آپ نے حجتہ الوداع میں بھی اسی طرح طواف کے تین پھیروں میں رمل کیا یعنی دلکی چال چلے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1889]
ایک روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ذوالقعدہ کی چوتھی تاریخ کو مکہ شریف پہنچ گئے تھے اور روایت میں ہے کہ مشرکین اس وقت قعیقعان کی طرف تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صفا مروہ کی طرف سعی کرنا بھی مشرکوں کو اپنی قوت دکھانے کے لیے تھا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4257]
{ سیدنا ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس دن ہم آپ پر چھائے ہوئے تھے اس لیے کہ کوئی مشرک یا کوئی ناسمجھ آپ کو کوئی ایذاء نہ پہنچا سکے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4255]
اس کے بعد اللہ تعالیٰ مومنوں کو خوشخبری سناتا ہے کہ وہ اپنے رسول کو ان دشمنوں پر اور تمام دشمنوں پر فتح دے گا اس نے آپ کو علم نافع اور عمل صالح کے ساتھ بھیجا ہے، شریعت میں دو ہی چیزیں ہوتی ہیں علم اور عمل پس علم شرعی صحیح علم ہے اور عمل شرعی مقبولیت والا عمل ہے۔ اس کے اخبار سچے، اس کے احکام سراسر عدل و حق والے۔ چاہتا یہ ہے کہ روئے زمین پر جتنے دین ہیں عربوں میں، عجمیوں میں، مسلمین میں، مشرکین میں، ان سب پر اس اپنے دین کو غالب اور ظاہر کرے، اللہ کافی گواہ ہے اس بات پر کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ ہی آپ کا مددگار ہے۔ «واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم»
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول تعالى: {لقد صدق اللهُ رسولَه الرُّؤيا بالحقِّ}: وذلك أنَّ رسول الله - صلى الله عليه وسلم - رأى في المدينة رؤيا أخبر بها أصحابه؛ أنَّهم سيدخلون مكَّة ويطوفون بالبيت، فلما جرى يوم الحديبية ما جرى، ورجعوا من غير دخول لمكَّة؛ كَثُرَ في ذلك الكلام منهم، حتى إنهم قالوا ذلك لرسول الله - صلى الله عليه وسلم -: ألم تُخْبِرْنا أنَّا سنأتي البيت ونطوف به؟! فقال: «أخبرتكم أنَّه العام؟!»، قالوا: لا، قال: «فإنَّكم ستأتونَه وتطوفونَ به». قال الله تعالى هنا: {لقد صَدَقَ الله رسولَه الرؤيا بالحقِّ}؛ أي: لا بدَّ من وقوعها وصِدْقها، ولا يقدُح في ذلك تأخُّر تأويلها، {لَتَدْخُلُنَّ المسجدَ الحرام إن شاء اللهُ آمنينَ محلِّقينَ رؤوسَكم ومقصِّرين}؛ أي: في هذه الحال المقتضية لتعظيم هذا البيت الحرام وأدائكم للنُّسك وتكميلِهِ بالحلق والتَّقصير وعدم الخوفِ. {فعلم}: من المصلحة والمنافع {ما لم تَعْلَموا فجَعَلَ من دونِ ذلك}: الدخول بتلك الصفة {فتحاً قريباً}.