تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الفتح (48) — آیت 25

ہُمُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ صَدُّوۡکُمۡ عَنِ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ وَ الۡہَدۡیَ مَعۡکُوۡفًا اَنۡ یَّبۡلُغَ مَحِلَّہٗ ؕ وَ لَوۡ لَا رِجَالٌ مُّؤۡمِنُوۡنَ وَ نِسَآءٌ مُّؤۡمِنٰتٌ لَّمۡ تَعۡلَمُوۡہُمۡ اَنۡ تَطَـُٔوۡہُمۡ فَتُصِیۡبَکُمۡ مِّنۡہُمۡ مَّعَرَّۃٌۢ بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ۚ لِیُدۡخِلَ اللّٰہُ فِیۡ رَحۡمَتِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ ۚ لَوۡ تَزَیَّلُوۡا لَعَذَّبۡنَا الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡہُمۡ عَذَابًا اَلِیۡمًا ﴿۲۵﴾
یہ وہی لوگ ہیں جنھوں نے کفر کیا اور تمھیں مسجد حرام سے روکا اور قربانی کے جانوروں کو بھی،اس حال میں کہ وہ اس سے روکے ہوئے تھے کہ اپنی جگہ تک پہنچیں۔ اور اگر کچھ مومن مرد اور مومن عورتیں نہ ہوتیں جنھیں تم نہیں جانتے تھے (اگر یہ نہ ہوتا) کہ تم انھیں روند ڈالو گے تو تم پر لا علمی میں ان کی وجہ سے عیب لگ جائے گا (تو ان پر حملہ کر دیا جاتا) تاکہ اللہ اپنی رحمت میں جسے چاہے داخل کر لے، اگر وہ (مومن اور کافر) الگ الگ ہوگئے ہوتے تو ہم ضرور ان لوگوں کو جنھوں نے ان میں سے کفر کیا تھا، سزا دیتے، دردناک سزا ۔ En
یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تم کو مسجد حرام سے روک دیا اور قربانیوں کو بھی کہ اپنی جگہ پہنچنے سے رکی رہیں۔ اور اگر ایسے مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں نہ ہوتیں جن کو تم جانتے نہ تھے کہ اگر تم ان کو پامال کر دیتے تو تم کو ان کی طرف سے بےخبری میں نقصان پہنچ جاتا۔ (تو بھی تمہارے ہاتھ سے فتح ہوجاتی مگر تاخیر) اس لئے (ہوئی) کہ خدا اپنی رحمت میں جس کو چاہے داخل کرلے۔ اور اگر دونوں فریق الگ الگ ہوجاتے تو جو ان میں کافر تھے ان ہم دکھ دینے والا عذاب دیتے
En
یہی وه لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تم کو مسجد حرام سے روکا اور قربانی کے لئے موقوف جانور کو اس کی قربان گاه میں پہنچنے سے (روکا)، اور اگر ایسے (بہت سے) مسلمان مرد اور (بہت سی) مسلمان عورتیں نہ ہوتیں جن کی تم کو خبر نہ تھی یعنی ان کے پس جانے کا احتمال نہ ہوتا جس پر ان کی وجہ سے تم کو بھی بے خبری میں ضرر پہنچتا، (تو تمہیں لڑنے کی اجازت دے دی جاتی لیکن ایسا نہیں کیا گیا) تاکہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت میں جس کو چاہے داخل کرے اور اگر یہ الگ الگ ہوتے تو ان میں جو کافر تھے ہم ان کو درد ناک سزا دیتے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا ہے جو مشرکین کے خلاف قتال کا باعث ہیں اور وہ ہیں اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ ان کا کفر کرنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی اہل ایمان کو، بیت اللہ کی زیارت کرنے، اس کی تعظیم کرنے اور حج و عمرہ کے لیے آنے سے روکنا۔ انھی لوگوں نے ﴿وَالْهَدْیَ مَعْكُوْفًا قربانی کے جانوروں کو روکا ﴿ اَنْ یَّبْلُ٘غَ مَحِلَّهٗ یہ کہ وہ اپنی قربانی کی جگہ پہنچ جائیں۔ اس سے مراد مکہ مکرمہ میں ذبح کی جگہ ہے، جہاں قربانیوں کو ذبح کیا جاتا ہے۔ پس انھوں نے ظلم اور تعدی کی بنا پر ان قربانیوں کو اس مقام پر پہنچنے سے روک دیا، یہ تمام امور ان کے خلاف قتال کے داعی اور موجب ہیں۔
لیکن وہاں ایک اور مانع بھی ہے اور وہ ہے مشرکین کے اندر اہل ایمان مرد اور عورتوں کا موجود ہونا، ان کی موجودگی کا محل و مقام ممیز نہ تھا جہاں ان کو نقصان پہنچ جانے کا امکان تھا۔ اگر یہ مومن مرد اور مومن عورتیں نہ ہوتیں، جن کو مسلمان نہ جانتے تھے ﴿ اَنْ تَطَـُٔوْهُمْیعنی ان کو لا علمی میں روند ڈالنے کا خدشہ نہ ہوتا ﴿فَتُصِیْبَكُمْ مِّؔنْهُمْ مَّعَرَّةٌۢ بِغَیْرِ عِلْمٍ تم کو ان کی طرف سے بے خبری میں نقصان پہنچ سکتا تھا۔ (اَلْمَعَرَّۃُ) سے مراد وہ تکلیف اور نقصان ہے، جو کفار کے ساتھ قتال کے دوران ان اہل ایمان کو بے خبری میں پہنچ سکتا تھا، اور اخروی فائدہ یہ ہے کہ اللہ اپنی رحمت میں جسے داخل چاہے کرلے، اللہ تعالیٰ ان کو کفر کے بعد ایمان سے، اور گمراہی کے بعد ہدایت سے نوازتا ہے، پس اس سبب سے اللہ تعالیٰ تمھیں ان کے ساتھ قتال کرنے سے روکتا ہے۔ ﴿ لَوْ تَزَیَّلُوْا اگر وہ کفار سے الگ ہو جاتے ﴿ لَعَذَّبْنَا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابً٘ا اَلِیْمًا تو جو ان میں کافر تھے، ہم انھیں دردناک عذاب دیتے۔ وہ اس طرح کہ ہم تمھارے لیے ان سے جنگ کو مباح کردیتے، تمھیں ان کے خلاف لڑنے کی اجازت دے دیتے اور تمھیں ان کے خلاف نصرت سے نوازتے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم ذكر تعالى الأمور المهيِّجة على قتال المشركين، وهي كفرُهم بالله ورسولِهِ، وصدُّهم رسولَ الله ومَنْ معه من المؤمنين أنْ يأتوا للبيت الحرام زائرين معظِّمين له بالحجِّ والعمرة، وهم الذين أيضاً صدُّوا {الهديَ معكوفاً}؛ أي: محبوساً، {أن يبلغَ مَحِلَّه}: وهو مَحِلُّ ذبحِهِ في مكة ، حيث تذبح هدايا العمرة، فمنعوه من الوصول إليه ظلماً وعدواناً. وكلُّ هذه أمورٌ موجبةٌ وداعيةٌ إلى قتالهم، ولكن ثمَّ مانعٌ، وهو وجودُ رجال ونساء من أهل الإيمان بين أظهر المشركين، وليسوا بمتميِّزين بمحلةٍ أو مكانٍ يمكن أن لا ينالَهم أذى؛ فلولا هؤلاء الرجال المؤمنون والنساء المؤمنات الذين لا يعلمهم المسلمون {أن تطؤوهم}؛ أي: خشية أن تطؤوهم، {فتصيبَكم منهم مَعَرَّةٌ بغير علم}: والمعرَّةُ ما يدخل تحت قتالهم من نيلِهِم بالأذى والمكروه، وفائدةٌ أخريَّةٌ، وهو أنه لِيُدْخِلَ {في رحمته مَن يشاءُ}: فَيَمُنَّ عليهم بالإيمان بعد الكفر، وبالهدى بعد الضلال، فيمنعكم من قتالهم لهذا السبب، {لو تَزَيَّلوا}؛ أي: لو زالوا من بين أظهرهم، {لعذَّبْنا الذين كَفَروا منهم عذاباً أليماً}: بأن نبيحَ لكم قتالَهم، ونأذنَ فيه، وننصرَكم عليهم.