تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الفتح (48) — آیت 24

وَ ہُوَ الَّذِیۡ کَفَّ اَیۡدِیَہُمۡ عَنۡکُمۡ وَ اَیۡدِیَکُمۡ عَنۡہُمۡ بِبَطۡنِ مَکَّۃَ مِنۡۢ بَعۡدِ اَنۡ اَظۡفَرَکُمۡ عَلَیۡہِمۡ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرًا ﴿۲۴﴾
اور وہی ہے جس نے مکہ کی وادی میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمھارے ہاتھ ان سے روک دیے، اس کے بعد کہ تمھیں ان پر فتح دے دی اور اللہ اس کو جو تم کرتے ہو، ہمیشہ سے خوب دیکھنے والا ہے۔ En
اور وہی تو ہے جس نے تم کو ان (کافروں) پر فتحیاب کرنے کے بعد سرحد مکہ میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیئے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو دیکھ رہا ہے
En
وہی ہے جس نے خاص مکہ میں کافروں کے ہاتھوں کو تم سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے روک لیا اس کے بعد کہ اس نے تمہیں ان پر غلبہ دے دیا تھا، اور تم جو کچھ کر رہے ہو اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اس احسان کا ذکر کرتے ہوئے کہ اس نے ان کو کفار کے شر اور ان کے قتال سے عافیت میں رکھا، فرماتا ہے: ﴿ وَ هُوَ الَّذِیْ كَفَّ اَیْدِیَهُمْ اور وہی تو ہے جس نے ان کے ہاتھوں کو روکا۔ یعنی اہل مکہ کے ﴿ عَنْكُمْ وَاَیْدِیَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّـةَ٘ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ اَظْ٘فَرَؔكُمْ عَلَیْهِمْ تم سے اور تمھارے ہاتھوں کو ان سے ان پر تمھیں فتح دینے کے بعد۔ یعنی اس کے بعد کہ تمھیں ان پر قدرت حاصل ہو گئی اور وہ کسی عہد اور معاہدے کے بغیر تمھاری ولایت اور سرپرستی میں آ گئے اور وہ تقریباً اسی(80) آدمی تھے، جو مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے تاکہ بے خبری میں ان کو آ لیں مگر انھوں نے مسلمانوں کو باخبر اور چاق چوبند پایا، مسلمانوں نے ان کو گرفتار کر کے چھوڑ دیا یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومنوں پر رحمت تھی کہ انھوں نے ان کو قتل نہ کیا۔ ﴿وَكَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًا اور اللہ ہر چیز سے، جو تم عمل کرتے ہو، دیکھتا ہے۔ پس وہ ہر عمل کرنے والے کو اس کے عمل کی جزا دے گا۔ اے مومنو! اللہ تعالیٰ اپنی بہترین تدبیر کے ذریعے سے تمھاری تدبیر کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى ممتنًّا على عباده بالعافية من شرِّ الكفار ومن قتالهم، فقال: {وهو الذي كَفَّ أيْدِيَهم}؛ أي: أهل مكة {عنكم وأيدِيَكُم عنهم ببطنِ مكَّة من بعدِ أن أظْفَرَكُم عليهم}؛ أي: من بعد ما قدرتُم عليهم وصاروا تحت ولايتكم بلا عقدٍ ولا عهدٍ، وهم نحو ثمانين رجلاً، انحدروا على المسلمين ليصيبوا منهم غِرَّةً، فوجدوا المسلمين منتبهين، فأمسكوهم، فتركوهم ولم يقتُلوهم؛ رحمةً من الله بالمؤمنين إذْ لم يقتُلوهم، {وكان الله بما تعملون بصيراً}: فيجازي كلَّ عامل بعملِهِ، ويدبِّركم أيها المؤمنون بتدبيره الحسن.