تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ الْهَدْيَ مَعْكُوْفًا اَنْ يَّبْلُغَ مَحِلَّهٗ: ” الْهَدْيَ “} مصدر بمعنی اسم مفعول: {”أَيْ اَلْأَنْعَامُ الْمَهْدِيَّةُ“} وہ چوپائے جو کعبہ میں قربانی کے لیے لائے جاتے ہیں۔ یہ لفظ مصدر ہونے کی وجہ سے واحد جمع اور مذکر و مؤنث سب پر استعمال ہوتا ہے۔ {” مَعْكُوْفًا “ ”عَكَفَ يَعْكُفُ“} (ن) سے اسم مفعول ہے۔ {”عَكَفَ“} لازم بھی آتا ہے جس کا معنی ”ایک جگہ ٹھہرنے کو لازم کر لینا “ ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ اَنْتُمْ عٰكِفُوْنَ فِي الْمَسٰجِدِ» [البقرۃ: ۱۸۷] ”جب کہ تم مسجدوں میں معتکف ہو۔“ یہاں متعدی استعمال ہوا ہے: {”عَكَفَهُ أَيْ حَبَسَهُ۔“ ” مَعْكُوْفًا “} جسے ایک جگہ روک کر رکھا گیا ہو۔ {” الْهَدْيَ “} پر نصب اس لیے آیا ہے کہ اس کا عطف {” صَدُّوْكُمْ “} میں ضمیر مخاطب پر ہے اور {” مَعْكُوْفًا “ ” الْهَدْيَ “} سے حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے، یعنی یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے کفر کیا اور تمھیں مسجد حرام سے روکا اور قربانی کے جانوروں کو بھی روک دیا، اس حال میں کہ وہ اپنے حلال ہونے کی جگہ پہنچنے سے روکے ہوئے تھے۔ یعنی قربانیوں کو بھی مکہ میں داخل نہیں ہونے دیا جو عمرہ اور حج کی قربانیوں کے حلال ہونے. کی اصل جگہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ ہدی یعنی قربانی کے اونٹ لے کر آئے تھے، جب کفار نے اس سال مکہ میں داخلے اور عمرہ کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا اور اسے آئندہ سال کے لیے مؤخر کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے مقام پر وہ جانور قربان کر دیے اور سر منڈا کر احرام کھول دیا۔
➌ {وَ لَوْ لَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُوْنَ وَ نِسَآءٌ مُّؤْمِنٰتٌ …: ” تَطَـُٔوْهُمْ “ ”وَطِئَ يَطَأُ وَطْأً“} (س) روندنا، پامال کرنا۔ یہ مضارع معلوم سے جمع مذکر حاضر ہے۔ {” مَعَرَّةٌ“} عیب، گناہ، نقصان۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس موقع پر جنگ نہ ہونے دینے کی دو وجہیں بیان فرمائی ہیں: ایک یہ کہ مکہ میں مشرکین کے ساتھ کئی مومن مرد اور مومن عورتیں بھی موجود تھیں، جن کا مسلمانوں کو علم نہیں تھا۔ ان میں سے کچھ وہ تھے جو مسلمان ہو چکے تھے مگر انھوں نے اپنا ایمان چھپا رکھا تھا اور کچھ وہ تھے جو کھلم کھلا مسلمان ہو چکے تھے مگر بے بسی کی وجہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت نہیں کر سکتے تھے اور کفار کے ظلم و ستم کا نشانہ بنے ہوئے تھے۔ اگر مکہ پر حملہ ہوتا تو مشرکین کے ساتھ وہ مومن مرد اور مومن عورتیں بھی روند دیے جاتے جو مسلمانوں کے لیے عیب کا باعث ہوتا کہ انھوں نے اپنے ہی بھائی بہنوں کو قتل کر دیا، حالانکہ ان کا یہ قتل لاعلمی کی بنا پر ہوتا۔ عیب کا باعث ہونے سے مراد کفار کی طرف سے عیب لگانا ہے کہ مسلمانوں نے اپنے ہی بھائی مار دیے اور وہ رنج و الم بھی جو اپنے بھائیوں کو قتل کرنے سے مسلمانوں کے دلوں میں پیدا ہوتا، ورنہ جنگ کے دوران کفار میں رہنے والے کسی مسلمان کو قتل کرنے پر نہ دیت ہے نہ کفارہ اور نہ ہی ملامت۔ اللہ تعالیٰ نے جنگ روک کر یہ نوبت ہی نہ آنے دی کہ مسلمانوں پر کوئی الزام آ سکے۔ واضح رہے کہ {” وَ لَوْ لَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُوْنَ “} سے {” بِغَيْرِ عِلْمٍ “} تک جملہ شرط ہے، جزا اس کی محذوف ہے، کیونکہ وہ خود واضح ہو رہی ہے، یعنی اگر یہ مانع نہ ہوتا ”تو تمھارے ہاتھ نہ روکے جاتے، بلکہ اہلِ مکہ پر حملہ کر دیا جاتا۔“
➍ { لِيُدْخِلَ اللّٰهُ فِيْ رَحْمَتِهٖ مَنْ يَّشَآءُ:} یہ اس وقت جنگ سے مسلمانوں کے ہاتھ روک دینے کی دوسری وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مشرکین میں سے بہت سے لوگوں کو ایمان کی توفیق عطا فرما کر اپنی رحمت میں داخل کرنا چاہتا تھا، جو کفار اور مسلمانوں کی صلح اور باہمی میل جول ہی سے ممکن تھا۔ اگر لڑائی ہو جاتی تو انھیں سوچنے سمجھنے اور اسلام قبول کرنے کا موقع ہی نہ ملتا اور نہ معلوم کتنے ہی کفر کی حالت میں مارے جاتے۔ پھر واقعی اس صلح کی بدولت بے شمار لوگ اسلام میں داخل ہوئے، سنہ ۶ہجری میں آنے والے مسلمان صرف چودہ سو تھے، دو سال کے قلیل عرصے میں مکہ فتح کرنے کے لیے آنے والوں کی تعداد دس ہزار تھی اور مکہ فتح ہونے اور مشرکین کو عام معافی کے اعلان پر پورا مکہ مسلمان ہو گیا۔ (والحمد للہ)
➎ {لَوْ تَزَيَّلُوْا لَعَذَّبْنَا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا …: ” تَزَيَّلُوْا “ ” تَزَيَّلَ يَتَزَيَّلُ تَزَيُّلاً “} (تفعّل) ایک دوسرے سے جدا ہونا۔ یعنی اگر اس موقع پر مکہ میں رہنے والے مسلم و کافر کی پوری طرح تمیز ہوتی اور وہ لوگ جو مسلمان ہو چکے تھے یا آئندہ ان کی قسمت میں مسلمان ہونا لکھا تھا، کفار سے الگ اور نمایاں ہوتے تو ہم اہلِ مکہ کے کفار کو ایسی درد ناک سزا دیتے کہ یا تو لڑائی میں مارے جاتے یا قید ہو کر ذلیل و خوار ہوتے۔
➏ اس آیت سے ظاہر ہے کہ ایمان والوں کا وجود دنیا میں کفار کے لیے بھی باعث رحمت ہے، اس طرح کہ ان کی موجودگی کی وجہ سے بعض اوقات کفار بھی عذاب سے بچ جاتے ہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ انفال (۳۳)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[38] البتہ اگر مکہ میں معذور مسلمان موجود نہ ہوتے یا انہیں الگ کر لینے کی کوئی صورت نکل آتی تو پھر یقیناً صلح کے بجائے جنگ ہی بہتر تھی۔ اس صورت میں ہم کافروں کو تمہارے ہاتھوں بری طرح پٹوا دیتے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پھر فرماتا ہے کہ سردست تمہیں لڑائی کی اجازت نہ دینے میں یہ راز پوشیدہ تھے کہ ابھی چند کمزور مسلمان مکے میں ایسے ہیں جو ان ظالموں کی وجہ سے نہ اپنے ایمان کو ظاہر کر سکے ہیں، نہ ہجرت کر کے تم میں مل سکے ہیں اور نہ تم انہیں جانتے ہو، تو یوں دفعۃً اگر تمہیں اجازت دے دی جاتی اور تم اہل مکہ پر چھاپہ مارتے تو وہ سچے پکے مسلمان بھی تمہارے ہاتھوں شہید ہو جاتے اور بےعلمی میں تم ہی مستحق گناہ اور مستحق دیت بن جاتے۔
پس ان کفار کی سزا کو اللہ نے کچھ اور پیچھے ہٹا دیا تاکہ ان کمزور مسلمانوں کو چھٹکارا مل جائے اور بھی جن کی قسمت میں ایمان ہے وہ ایمان لے آئیں۔ اگر یہ مومن ان میں نہ ہوتے تو یقیناً ہم تمہیں ان کفار پر ابھی اسی وقت غلبہ دے دیتے اور ان کا نام مٹا دیتے۔
جنید بن سبیع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں صبح کو میں کافروں کے ساتھ مل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑ رہا تھا لیکن اسی شام کو اللہ تعالیٰ نے میرا دل پھیر دیا میں مسلمان ہو گیا اور اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو کر کفار سے لڑ رہا تھا، ہمارے ہی بارے میں یہ آیت «وَلَوْلَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُونَ وَنِسَاءٌ مُّؤْمِنَاتٌ لَّمْ تَعْلَمُوهُمْ» ۱؎ [48-الفتح:25] نازل ہوئی ہے۔ ہم کل نو شخص تھے سات مرد و عورتیں۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:1560]
اور روایت میں ہے کہ ہم تین مرد تھے اور نو عورتیں تھیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر یہ مومن ان کافروں میں ملے جلے نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ اسی وقت مسلمانوں کے ہاتھوں ان کافروں کو سخت سزا دیتا یہ قتل کر دئیے جاتے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم ذكر تعالى الأمور المهيِّجة على قتال المشركين، وهي كفرُهم بالله ورسولِهِ، وصدُّهم رسولَ الله ومَنْ معه من المؤمنين أنْ يأتوا للبيت الحرام زائرين معظِّمين له بالحجِّ والعمرة، وهم الذين أيضاً صدُّوا {الهديَ معكوفاً}؛ أي: محبوساً، {أن يبلغَ مَحِلَّه}: وهو مَحِلُّ ذبحِهِ في مكة ، حيث تذبح هدايا العمرة، فمنعوه من الوصول إليه ظلماً وعدواناً. وكلُّ هذه أمورٌ موجبةٌ وداعيةٌ إلى قتالهم، ولكن ثمَّ مانعٌ، وهو وجودُ رجال ونساء من أهل الإيمان بين أظهر المشركين، وليسوا بمتميِّزين بمحلةٍ أو مكانٍ يمكن أن لا ينالَهم أذى؛ فلولا هؤلاء الرجال المؤمنون والنساء المؤمنات الذين لا يعلمهم المسلمون {أن تطؤوهم}؛ أي: خشية أن تطؤوهم، {فتصيبَكم منهم مَعَرَّةٌ بغير علم}: والمعرَّةُ ما يدخل تحت قتالهم من نيلِهِم بالأذى والمكروه، وفائدةٌ أخريَّةٌ، وهو أنه لِيُدْخِلَ {في رحمته مَن يشاءُ}: فَيَمُنَّ عليهم بالإيمان بعد الكفر، وبالهدى بعد الضلال، فيمنعكم من قتالهم لهذا السبب، {لو تَزَيَّلوا}؛ أي: لو زالوا من بين أظهرهم، {لعذَّبْنا الذين كَفَروا منهم عذاباً أليماً}: بأن نبيحَ لكم قتالَهم، ونأذنَ فيه، وننصرَكم عليهم.